مولانا ڈیزل کی جماعت نے عمران سے ہاتھ ملانے کی مخالفت کر دی

ماضی میں ایک دوسرے کو مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ جیسے القابات سے نوازنے والے عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چلنے کے خواہشمند ہیں تاہم پاکستان تحریک انصاف مولانا فضل الرحمٰن کو حکومت مخالف تحریک میں شامل کرنے کے لیے راضی نہ کرسکی۔جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی قیادت نے مولانا فضل الرحمٰن کو تحریک انصاف سے ہاتھ ملانے کی مخالفت کردی ہے، جس پر مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی وفد کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے تحریری یقین دہانیاں مانگ لی ہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ روابط پر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ بات ان سے ہوتی ہے جن کے پاس اختیار ہوں، ہماری سلام دعا چل رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کے خلاف تحریک میں جے یو آئی کو شامل کرنے کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے کوششوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق اسپیکر اسد قیصر مولانا فضل الرحمٰن کو راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جب کہ تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تاحال تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک میں مولانا فضل الرحمٰن کو شامل کرنے کے لیے راضی نہیں کرسکی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو قائل کرنے کے لیے مزید رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جے یو آئی کے ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے مرکزی قائدین نے مولانا فضل الرحمٰن کو پی ٹی آئی سے ہاتھ نہ ملانے کا مشورہ دیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن خود بھی پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کے لیے راضی نہیں ۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے بااختیار وفد سے بات چیت کرنے پر اتفاق کیا ہے اور جن امور پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اس پر انھوں نے پی ٹی آئی قیادت سے تحریری یقین دہانی مانگ لی ہے، تاہمپی ٹی آئی کے بعض اہم رہنما بھی ہر صورت جے یو آئی سے اتحاد چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے مولانا فضل الرحمان عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل جائیں۔ پی ٹی آئی نے اس ضمن میں 6 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ جو مستقبل میں جے یو آئی سے اتحاد کیلئے تمام شرائط طے کرے گی۔
تاہم جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ باضابطہ اتحاد سے پہلے تحریری طور پر ضمانت مانگ لی ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کوپی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے کردار کے حوالے سےتحفظات ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر مولانا کسی بھی اتحاد سے پہلے تحریری ضمانت چاہتے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک سینیئر رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مولانا کے ساتھ اتحاد کیلئے چار بنیادی نکات پر اتفاق ہو گیا ہے جن میں ملکی سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے خاتمے، آئین کی بالادستی، خیبر پختونخوا کے وسائل اور مسائل جبکہ پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور مولانا کے درمیان سیز فائر بھی کرا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دو تین ہفتوں سے علی امین گنڈاپور کی طرف سے مولانا کے خلاف کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ تاہم دوسری جانبسنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا نے جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کردی ہے۔

مذاکرات پر نظر رکھنے والے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا کو اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی صدارت پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ اس حوالے سے اچکزئی کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں تاہم ان کی سوچ میں ملکی صدارت کا عہدہ موجود ہے۔اگرچہ تحریری معاہدے میں اس کا ذکر شاید شامل نہ ہو لیکن زبانی طور پر اس مسئلے پر ضرور بات ہو گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں دونوں جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب اور ایک دوسرے کے خلاف رہی ہیں، اتحاد دونوں کی ضرورت ہے لیکن یہ اتحاد غیر فطری ہے۔ کیونکہ جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کو مستقبل میں احتجاج کیلئے جے یو آئی کی مدد کی ضرورت ہو گی جبکہ مولانا کا مسئلہ یہ ہے کہ گذشتہ انتخابات میں مولانا کو خیبرپختونخوا میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس شکست کی بڑی بینیفیشری تحریک انصاف ہے۔ اس لئے دونوں جماعتوں کا ملکر آگے بڑھنا ناممکن نظر آتا ہے اور لگتا یہی ہے کہ مولانا اس وقت صرف اور صرف مختلف اقدامات کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ حساب برابر کر رہے ہیں۔

Back to top button