مولا جٹ اسٹائل خارجہ پالیسی کتنی نقصان دہ ہے؟

اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیادیں مولا جٹ ٹائپ جذباتیت چھوڑ کر عقل، فہم اور فراست پر استوار نہ کیں تو امریکہ میں ہونے والی حالیہ اہم ترین ملاقاتوں کے بعد خطے میں پاکستان کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا جن کا خمیازہ پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
معروف اینکر پرسن اور صحافی غریدہ فاروقی نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی صدر بائیڈن سے پہلی سرکاری ملاقات پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے اور پاکستان کے خلاف ایک نئی عالمی سازش کا آغاز بھی ہو سکتا ہے؟ یاد رہے کہ امریکہ اور بھارت دونوں افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتے ہیں اور اسے سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ لہازا ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ مودی اور بائیڈن کی ملاقات کے بعد پاکستان میں چین کے مفادات خاص کر سی پیک منصوبے کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ غریدہ کا کہنا ہے کہ مودی بائیڈن ملاقات اور امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے اتحادی اجلاس کے بعد جنوبی ایشیا میں پاکستان چین دوستی کو سنگین خدشات لاحق ہونے سکتے ہیں۔ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی طاقت کو کنٹرول کرنے کے لیے اور خاص طور پر جنوب اور وسطی ایشیا کے علاقے میں چین کا اثرورسوخ کم کرنے کے لیے پاکستان کو بھی دباؤ میں لایا جا سکتا ہے خصوصاً طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے افغانستان میں فعال پاکاتانی کردار اور چین کی بڑھتی ہوئے دلچسپی کے تناظر میں۔ ظاہر ہے کہ چین کا سب سے بڑا دشمن امریکہ خطے میں اسکا اثر رسوخ بڑھتا ہوا نہیں دیکھنا چاہے لہذا وہ بھارت کے ساتھ مل کر کوئی نہ کوئی پلان ضرور بنا رہا ہو گا۔ اس حوالے سے بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کو ساتھ ملا کر امریکہ چین سے نمٹنے کے لیے علاقے میں ایسے اقدام لے سکتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔
غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ کہ پاکستان کو درپیش موجودہ سفارتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ گذشتہ تین برسوں میں ہماری خارجہ پالیسی کی جہت کیا رہی ہے اور کیا اس سے پاکستان کو فائدہ ہوا ہے یا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ملکی الیکشن میں عوام سے جو وعدے کیے جاتے ہیں ان کا بڑا ٹارگٹ عوام ہوتے ہیں تاکہ ووٹ حاصل کیے جا سکیں اور اسی لیے انتخابی مہم بھی عوام کے جذبات کو مدنظر رکھ کر ہی چلائی جاتی ہے۔ تحریکِ انصاف نے الیکشن جیتنے کے لیے جو ’نہ جھکنے والا، نہ بِکنے والا ‘ کا منترا استعمال کیا اُس نے بڑی حد تک عوام کو تو دلدادہ کیا لیکن جب حکومت تشکیل پاتی ہے تو خارجہ پالیسی کی گھمبیر الف ب سے بڑے بڑوں کی عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات ایسا نازک اور سنجیدہ موضوع ہیں جہاں فہم و فراست، دور اندیشی، احتیاط کے ساتھ کئی جگہ ایسے کمپرومائز کرنا پڑتے ہیں جن میں سلطان راہی سٹائل کی بڑھک نہیں بلکہ سنجیدگی اور متانت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کے ساتھ خارجہ پالیسی محاذ پر بڑا مسئلہ یہ رہا کہ شروع کے ڈیڑھ سال تک سلطان راہی بڑھک سٹائل کی انتخابی مہم کے موڈ سے باہر ہی نہیں آ سکی۔
بقول غریدہ فاروقی،امریکہ کو آنکھیں دکھا دیں، امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیے، امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں، امریکہ کو دوٹوک جواب دے دیا، امریکہ کو ’ایبسولیوٹلی ناٹ‘ کہہ دیا، امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔۔۔ یہ سب بیانیہ ڈومیسٹک آدڈیئنس کا دل تو خوب لُبھا سکتا ہے لیکن تالیاں سیٹیاں واہ واہ کے نعرے اسی تھیٹر کے اندر ہی اندر محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور جب آپ باہر کی دنیا میں نکل کر آتے ہیں تو سنّاٹے کی خاموشی میں خود کو تنہا پاتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کسی کے آگے جھکنے کا نہیں مگر بوقتِ ضرورت لچک کا مظاہرہ کرنے کا نام ضرور ہے اور عالمی دنیا میں ریاستیں اِسی طرح ڈپلومیسی میں کامیاب رہتی ہیں جب وہ اِس گُر کو خوب سمجھ چکی ہوں کہ مفادات کے تحت لچک کہاں اور کب دکھانی ہے۔
غریدہ کہتی ہیں کہ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ گذشتہ تین سال سے پاکستان کی ہمہ جہت خارجہ پالیسی یک جہت رخ اختیار کر گئی جس کا بنیادی مرکز چین رہا۔یہ عالمی حقیقت ہے کہ فی الوقت معاشی اعتبار سے دنیا یُونی پولر نہیں بلکہ بائی پولر ہے جس میں دو طاقتیں امریکہ اور چین اپنے اپنے پلڑے میں بھاری ہیں۔ ایسے میں کسی ایک پلڑے کی طرف اپنا مکمل جھکاؤ رکھنا پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے لیے ایک دوراندیش حکمتِ عملی قطعاً نہ تھی مگر افسوس کے ساتھ کہ موجودہ حکومت نے اپنے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ سے متعلق خارجہ پالیسی جذباتیت کے زیرِتسلط اختیار رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان امریکہ فاصلے بڑھتے گئے۔
دوسری جانب، ایک طرف تو ’ایبسولیوٹلی ناٹ‘ کو بڑھک کے انداز میں ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور ساتھ ہی امریکی صدر کی ایک فون کال کے لیے بےتابی، بےچینی اور فرسٹریشن کا حکومتی سطح پر اظہار، پاک امریکہ تعلقات کے لیے کسی سنجیدہ پیشرفت کا قطعاً مظہر نہیں بنا جس کا خمیازہ آج بھگتنا پڑرہا ہے۔ غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ ریاستیں اپنے عالمی تعلقات اور خارجہ پالیسی جذباتیات کے تحت نہیں بلکہ مفادات کے تحت تشکیل دیتی ہیں۔ مگر ستم در ستم تو یہ ہوا کہ ’ہم جن کے ہوئے وہ ہمارے نہ ہوئے‘ ۔۔۔ اپنا یار چین بھی تین سالہ یک جہتی خارجہ پالیسی کے باوجود آج پاکستان سے خفا خفا ہے۔
’نہ خدا ہی مِلا نہ وصالِ صنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے‘ ۔۔۔ نہ امریکی سے یاریبن پائی، نہ چین سے دوستی نِبھا پا رہی ہے۔
امریکہ بھارت، جاپان، آسٹریلیا کے ساتھ مل کر چین کے عالمی معاشی و دفاعی مفادات کو ضرب لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور چین کے لیے پاکستان میں کثیر جہتی کثیر رقمی منصوبہ سی پیک گذشتہ تین سال سے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ اس حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں کام کرنے والی چینیوں کے لیے سیکورٹی کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ داسو خود کش حملے کے دو ماہ بعد بھی ڈیم پر کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔
غریدہ فاروقی کے مطابق اس وقت پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں سے صرف چین ہی نہیں، ایران بھی نالاں ہے۔ ادھر سعودی عرب جیسا دیرینہ دوست بھی ہم سے کچھ خاص راضی نہیں۔
پھر افغان سرزمین سے بھی پاکستان پر دہشت گرد حملے جاری ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو اپنا اور اپنے تشخص کا نقصان کرنے والے جذباتی بیانات اور ایکشنز سے بچنا ہو گا۔ نتائج کی پرواہ کیے جلد بازی اور جذبات میں دیے گے ’ایبسولیوٹلی ناٹ ‘ جیسے بیان حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کو نہیں بلکہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ ایسے میں ظاہر ہے پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہوتا ہے اور اس کے بیانیے کو عالمی شنوائی بھی حاصل نہیں ہوتی۔ لہازا خود احتسابی کا تقاضہ یہی ہے کہ فیصلہ سازی میں مولاجٹ بننے کی بجائے عقل اور فہم کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔ اگر اب بھی پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد جذباتیت سے تبدیل کر کے متانت اور سنجیدگی پر نہ رکھی تو پاکستان کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوگا۔
