موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم عابدکی بیوی گرفتار

پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کی بیوی کوگرفتار کر لیا، بشریٰ نامی خاتون اپنے شوہر کے ساتھ قلعہ ستار شاہ سے فرار ہوگئی تھی، اب خاتون کو مانگا منڈی سے حراست میں لیاگیا ہے۔
گجر پورہ زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی اہلیہ بشرٰی نے پولیس کو ابتدائی بیان دے دیا ہے. پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابدعلی کی اہلیہ بشریٰ نے پولیس کو ابتدائی بیان دے دیا ہے اور کہا ہے کہ عابد کہاں ہے مجھے علم نہیں۔بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ واقعہ گجر پورہ کے بعد میں خوف کے مارے گھر سے بھاگ گئی، اور مانگا منڈی کے علاقہ میں روپوش ہوگئی، تاہم میں اور عابد اکٹھے گھر سے نہیں بھاگے وہ کہاں گیا مجھے کچھ پتہ نہیں۔ پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیم کی بشریٰ بی بی سے مزید تفتیش جاری ہے۔
سانحہ گجر پورہ کی تفتیش کے دوران بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم عابد علی کی اہلیہ بشریٰ کو مانگا منڈی کے علاقے سے گرفتار کر لیا ہے. قبل ازیں لاہور سیالکوٹ ریپ کے وقوعہ کے بعد جب پولیس نے قلعہ ستار شاہ میں عابد علی کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تھا، تو بشریٰ اپنی بیٹی کو گھر میں چھوڑ کراپنے شوہرعابد کیساتھ فرار ہوگئی تھی۔ عابد علی اور اس کی بیوی اپنی بیٹی کو اکیلے چھوڑ کر فرار ہوئے تھے، جس کے بعد پولیس نے ملزم کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا تھا۔اب پولیس کا بتانا ہے کہ سانحہ گجر پورہ کے مرکزی ملزم کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش کی جا رہی ہے. پولیس ذرائع کے مطابق حراست میں لی گئی اہلیہ بشریٰ نے عابد علی کے ساتھ دوسری شادی کی تھی۔خاتون 5 بچوں کی ماں ہے،خاتون کے پہلے شوہر سے 4 بچے ہیں۔ خاتون نے اپنے پہلے شوہر سے علیحدگی کے بعد عابد علی سے شادی کی جس سے ان کی ایک بیٹی ہے۔خاتون کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ اس سے قبل پنجاب پولیس عابد علی سے رابطہ رکھنے والے 2 بھائیوں کو چیچہ وطنی سے گرفتار کرچکی ہے۔
موٹروے زیادتی کیس میں ملزم شفقت علی نے عابد علی کے ساتھ مل کر واردات انجام دینے کا اعتراف کرلیا تھا، جو اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔شفقت کے بیان کی روشنی میں بالا مستری نامی تیسرے شخص کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل وقار الحسن اور اس کے سالے عباس نے پولیس کو خود ہی گرفتاری دی تھی۔وقار تاحال پولیس حراست میں ہے جبکہ عباس کو رہا کر دیا گیا ہے. دوسری طرف عابد علی کو ٹریس کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں، اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ جبکہ سانحہ گجر پورہ میں ملوث دیگر دو ملزمان شفقت اور اقبال کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکااور متاثرہ خاتون بھی ملزم شفقت کی شناخت کر چکی ہے۔خاتون نے ملزم شفقت کی جانب سے دوران تفتیش دیے گئے اعترافی بیان میں بیان کردہ تفصیلات کی تصدیق بھی کی ہے۔ متاثرہ خاتون نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کیساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے، انہیں سرعام پھانسی دی جائے۔ کیس کی تفتیش کے حوالے سے پولیس کا بتانا ہے کہ تحقیقات کے سلسلے میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ رہا کیے گئے افراد کو کیس سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، اسی لیے انہیں رہا کیا گیا۔ جبکہ کیس کے مشتبہ ملزم وقار الحسن کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار ہے، رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے مرکزی ملزم عابد علی کو 4 مرتبہ گرفتار کر کے رہا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، سنگین جرائم کے ٹھوس شواہد موجود ہونے کے باوجود ملزم کیخلاف کبھی کوئی جرم ثابت نہ کیا جا سکا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عابد کے خلاف ریجن بھر میں 9مقدمات درج ہیں۔عابد کے خلاف تھانہ کھچی والا میں سات اور ایک مقدمہ فورٹ عباس تھانے میں درج ہے جبکہ ملزم عابد اور بابر علی کے خلاف تھانہ فقیر والی میں ڈکیتی کا مقدمہ درج ہے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ عابد کا گینگ 3نہیں 4افراد پر مشتمل ہے۔ گینگ میں عابد علی، شفقت،اقبال بالا مستری اورعلی شیر پر شامل ہیں۔ اس گینگ کے 2 فرد شفقت اور اقبال کوگرفتار کیاجا چکا ہے جبکہ علی شیر نامی ملزم پہلے سے ہی جیل میں ہے، جبکہ مرکزی ملزم عابد علی تاحال مفرور ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button