مہنگائی سے لڑتے پاکستانیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ

حکومت کی جانب سے دوائوں کی قیمتوں میں 14 سے 20 فیصد اضافے کی منظوری سے مہنگائی سے لڑتے پاکستانی عوام کے لیے زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے روز مرہ کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں، ایسے میں مہنگی دوائوں کا بوجھ ان کے لیے کسی پہاڑ سے کم نہیں ہے۔
حکومتی اقدام کے بعد پاکستانیوں کیلئے جان بچانے والی دوائوں کی خریداری بھی چیلنج بن گئی ہے، جن کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، ایسے میں مریضوں کی بڑی تعداد کو ادوایات کی خریداری کے لیے اضافی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔
شہری مشفق احمد نے وی او اے نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ادویات کے بغیر زندگی چل ہی نہیں سکتی ہے، میں اپنی آمدنی کا پندرہ فیصد دوائوں کی خریداری پر خرچ کرتا ہوں، جوکہ 9 سے 10 ہزار روپے بن جاتے ہیں جبکہ اگر اس میں او پی ڈی اور ہسپتال آنے جانے کے اخراجات بھی شامل کیے جائیں تو یہ رقم 25 سے 30 فیصد پر پہنچ جاتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ادویات مہنگی کرنے پر ہمیں اپنی بجٹ کو مزید دیکھنا ہوگا، اب بچوں کو سستے سکول میں داخل کروانا پڑے گا، کیونکہ مہنگی ادویات کے بوجھ تلے ان کو معیاری تعلیم دلوانا ممکن نہیں رہا ہے ۔
مشفق احمد بتاتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی ہدایات ہیں کہ دوائوں کے ساتھ اچھی غذا بھی جاری رکھنی ہے، پھل، سبزیاں، میوہ جات کہاں سے پورے کریں، اس وقت تو تین وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے، نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، بمشکل گھریلو اخراجات پورے ہو پاتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کار ریاض رحمان نے بتایا کہ جس طرح مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ، ہر سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ، تاجر اب نقصان میں کاروبار تو نہیں کریں گے، اسی طرح دوائوں کے ساتھ بھی ہے جن کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
اسی طرح میڈیکل سٹور کے مالک فیصل ملک نے بتایا کہ آمدن بہت کم ہے، گھروں کے کرایہ ادا کریں یا پھر دوائوں کی خریداری کریں، ہمارے لیے اب اپنی زندگی کی اہمیت نہیں رہی، کوشش ہوتی ہے کہ بچوں اور فیملی کو ضروریات پوری کی جائیں ۔
اگر فارما سوٹیکل کمپنیوں کی بات کی جائے تو وہ بھی اپنے منافع کو کم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت مناسب اقدامات اٹھاتے ہوئے اس شعبے میں سبسڈی دے کر قیمتوں کو نیچے لائے۔
