میانمار میں خواتین کی سکرٹیں فوج کے خلاف ہتھیار بن گئیں

میانمار کے عوام مارشل لا لگائے جانے کے بعد سے فوجی آمریت کے خلاف سڑکوں پر بھرپور مظاہرے کررہی ہیں اور اب تک سو سے زائد افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم میانمار کی احتجاجی خواتین اب ایک انوکھے طریقے سے اپنی سکرٹوں کو فوجی آمریت کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ انکے اس عمل کو میانمار میں سارونگ انقلاب بھی کہا جا رہا ہے۔ میانمار میں بڑے پیمانے پر یہ مانا جاتا ہے کہ اگر مرد عورت کے ’سارونگ‘ یا اسکرٹ کے نیچے سے گزر جاتا ہے تو وہ اپنی مردانہ طاقت کھو دیتا ہے اور کھسی ہو جاتا ہے۔ چنانچہ خواتین اپنی سکرٹیں احتجاجی مظاہروں میں لہرا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں خواتین کے سارونگ یا اسکرٹ پہننے کا رواج عام ہے۔
میانمار میں خواتین نے پولیس اہلکاروں اور فوج کے جوانوں کو رہائشی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے اور مظاہرین کو گرفتاری سے بچانے کےلیے ملک کے متعدد شہروں میں اپنی اسکرٹس سڑکوں پر لٹکا دی ہیں جس کے اثرات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ برما کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جس میں پولیس اہلکار گلیوں میں داخل ہونے اور آگے بڑھنے سے پہلے سے یہ سکرٹیں اتارتے ہوئے دکھائے دے ریے ہیں۔ میانمار میں لوگ فوجی حکمرانی کے خاتمے اور یکم فروری کو اقتدار سے بے دخل ہونے والے آنگ سان سوچی سمیت ملک کی منتخب حکومت کے رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حکومت کی جانب سے ’انتخابی دھاندلی کے جواب میں‘ یہ کارروائی کی اور آرمی چیف کو اقتدار سونپ دیا۔ فوج نے ملک میں ایک سال کےلیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ میانمار کے فوجی جرنیل کو نہ صرف اندرون ملک شدید عوامی احتجاج کا سامنا ہے بلکہ بین الاقوامی دنیا نے بھی اس پر پابندی عائد کر دی ہیں۔ میانمار کی خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ’سارونگ انقلاب‘ کے لیے وسیع پیمانے پر مقبول توہم پرستانہ عقائد پر انحصار کیا ہے اور اپنی سکرٹوں کو بھی بطور ہتھیار میدان میں لے آئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والی خواتین جنسی عقائد کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہم پرستی اصل میں یہ نہیں تھی کہ سارونگ کی وجہ سے ایک آدمی اپنی مردانہ طاقت کھو دے گا، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ میانمار میں عورتوں کو ایک جنسی شے یا پھر ایک فریب کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور یہ ایسا دریب یے جو کہ مرد کو برباد کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق میانمار میں ایک وقت ایسا تھا کہ جنگ میں جانے والے مرد اپنی والدہ کی سارنگ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ جبکہ 1988 کی فوجی بغاوت کے دوران مظاہرین نے اپنی ماؤں کے سارونگ اپنے سروں پر پہن لیے تھے۔
اب میانمار کی خواتین مظاہرین عوامی مقامات پر سارونگ کی طاقت کا استعمال کر رہی ہیں اور فوج کا راستہ روکنے کے لیے مختلف مقامات پر اپنے سکرٹیں لٹکا رہی ہیں۔اور اس عمل کو ایک نئے انقلاب کا حصہ قرار دیا جا رہا یے۔
اسکے علاوہ کچھ خواتین مظاہرین نے سینیٹری پیڈز پر میانمار کے فوجی حکمران جنرل من اونگ ہیلینگ کی تصاویر چسپاں کرکے انہیں اس امید پر سڑکوں پر بکھیر دیا کہ فوج ان کے جنرل کی تصویروں پر قدم رکھنا پسند نہیں کرے گی اور آگے نہیں بڑھے گی۔ بعض دیگر افراد سارونگ کو اپنے سر پر پہن کر مظاہروں میں شرکت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بہت سے ممالک نے میانمار کی فوج کی جانب سے کیے جانے والے پُرتشدد اقدامات کی مذمت کی ہے لیکن بڑی حد تک اس فوجی بغاوت کرنے والے عسکری حکمرانوں نے نظرانداز کیا ہے۔ لیکن خواتین مظاہرین نے فوجی حکمرانی کی خلاف اپنے لباس کا استعمال کرتے ہوئے خاموش رہنے سے انکار کر دیا ہے۔ میانمار میں خواتین کے اس انوکھے احتجاج میں ’ہماری سکرٹ، ہمارا بینر، ہماری فتح‘ کا ایک مقبول نعرہ بھی سامنے آ گیا ہے۔
