میرے مخالفین مجھے اداروں کی رنڈی قرار دیتے ہیں

https://youtu.be/Mv4JWK2mD3Y
پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت پر نازیبا الزامات عائد کرنے والی مشکوک امریکی عورت سنتھیا ڈی رچی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایک نوٹس کے تحریری جواب میں تفصیلی بیان جمع کرواتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے مقتدر اداروں کو اپنے پیدا کردہ تنازعہ میں گھسیٹنے کی مذموم کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں میرے مخالفین نے مجھے جی ایچ کیو کی رنڈی قرار دیتے ہوئے میری ولدیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں جو کہ افسوس کی بات ہے۔
پی پی پی قیادت کی جانب سے سنتھیا کے بیہودہ ٹویٹس پر اس کے خلاف کارروائی کے لیے دی گئی درخواستوں پر ایف آئی اے کی جانب سے جاری ایک نوٹس کے جواب میں مشکوک امریکی خاتون نے تحریری طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بتایا ہے کہ وہ گزشتہ 10 سال سے پاکستان میں مقیم ہے اور اس دوران اس کا بنیادی مقصد پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنا رہا ہے۔ تاہم اپنے تحریری بیان میں سنتھیا نے کچھ ایسے ہوشربا انکشافات کیے ہیں جس سے اس کا کردار مزید مشکوک ہو جاتا ہے۔
سنتھیا نے ایف آئی اے کو بتایا کہ اس نے ماضی میں پاکستانی ملٹری، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی اور خیبر پختونخواہ کی خواتین کمانڈوز کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ پچھلے دو برس سے پاکستانی ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے اور اس دوران انکی ٹیموں نے پی ٹی ایم اور پی پی پی کی ریاست دشمن کاروائیوں کے تانے بانے بھی تلاش کیے ہیں۔ اس نے کہا کہ جب ٹویٹر پر میرے 2018 کے دورہ میرانشاہ کی تصویریں شائع ہوئیں تو پی ٹی ایم کے ہمدردوں نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اس نے کہا کہ اسے ڈرانے دھمکانے والوں میں گلالئی اسماعیل، ماروی سرمد، ندا کرمانی، حسین حقانی ان کی اہلیہ فرزانہ اصفہانی اور طارق فتح شا مل ہیں۔
سنتھیا نے اپنے تحریری بیان میں مزید کہا کہ میرے مخالفین نے تو مجھے جی ایچ کیو کی رنڈی بھی قرار دے دیا اور میری ولدیت پر سوالات اٹھا دیئے۔ اس نے کہا کہ اب میرے مخالفین میری بہنوں کو امریکا میں فیس بک پر رابطہ کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ تاہم اس کا دعویٰ تھا کہ وہ پاکستانی قانون کا احترام کرنے والی خاتون ہے۔ سنتھیا نے ایف آئی اے کو اپنے تحریری بیان میں یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اپنے ہونے والے شوہر سے پاکستان میں ملیں اور وہ دونوں جلد اپنی منگنی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھے میرے ہونے والے شوہر نے حوصلہ دیا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو منظر عام پر لا کر ان کے خلاف آواز بلند کروں۔
پہلے بختاور بھٹو، پھر بے نظیر بھٹو، اس کے بعد مرتضیٰ وہاب اور سید مراد علی شاہ اور اب یوسف رضا گیلانی، رحمٰن ملک اور مخدوم شہاب الدین پر سنتھیا کے الزامات نے اس وقت ایک طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ سنگین الزامات پر مبنی ان ٹوئٹس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اور حامی سنتھیا رچی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے کے علاوہ مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ سنتھیا نے کچھ روز قبل ٹوئٹر پر پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کی مبینہ طور پر کچھ جعلی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان پر متعدد خواتین سے تعلقات کا الزام لگایا تھا۔ دو روز قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پیغام میں مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر ریپ جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیر صحت مخدوم شہاب الدین پر دست درازی کا الزام عائد کیا۔ تاہم تینوں وزرا نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے سنتھیا کے ‘عزائم’ پر سوال اٹھایا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ان الزامات کے ردعمل میں سنتھیا ڈی رچی کے خلاف ملک بھر کے 200 سے زائد تھانوں میں ایف آئی آر کی درخواست جمع کروا دیں اعت پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے ایف آئی اے اور آئی ایس آئی کو شکایت درج کرواتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سنتھیا رچی کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں اور انہیں جلد از جلد ملک بدر کیا جائے۔
پیپلز پارٹی کی ان کارروائیوں کے ردعمل میں سنتھیا رچی نے پیپلزپارٹی کی قیادت پر مزید الزامات عائد کردئیے ہیں، اور کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے ان سے نامناسب طریقے سے گلے ملنے کی کوشش کی، مخدوم شہاب نے کندھے پر مساج کی کوشش کی، جبکہ رحمان ملک نے انہیں نشہ آور مشروب پلانے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے جیو ٹی وی سے گفتگو میں مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک نے ان کے ورک ویزے کا مسئلہ حل کرنے کا کہہ کر منسٹرز سنکلیو بلوایا تھا۔ وہاں پر رحمان ملک نے مجھے نشہ آور مشروب پلایا اور اس کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تاہم سنتھیا نے یہ نہیں بتایا کہ ہوش میں آنے کے بعد وہ نو سال خاموش کیوں رہی اور یہ معاملہ امریکن ایمبیسی یا پاکستانی پولیس کے نوٹس میں کیوں نہ لائیں۔
جیو ٹی وی سے انٹرویو کے دوران سنتھیا رچی نے کہا کہ میں عدالت میں تحقیقات کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ اس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں بےنظیر بھٹو کا احترام کرتی ہوں لیکن ان سے متعلق معلومات انہیں پیپلزپارٹی کے ہی سینئیر لوگوں نے دیں۔ تاہم انہوں نے پیپلز پارٹی کے کسی رہنما کا نام نہیں لیا۔ تاہم جیو ٹی وی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں سنتھیا نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی سے لڑنا نہیں چاہتیں اور بلاول بھٹو کو مستقبل میں ملک کے ایک طاقتور لیڈر کے طور پر دیکھتی ہیں۔ سنتھیا نے ایف آئی اے کو اپنے تحریری جواب میں یہ بھی کہا کہ وہ ایک دستاویزی فلم کے لیے بلاول بھٹو زرداری کا انٹرویو کرنا چاہتی تھیں، وہ اس وقت ایک تحقیقاتی ڈاکیومنٹری بنا رہی ہیں۔
دوسری جانب رحمان ملک اور یوسف رضا گیلانی کا یہ موقف ہے کہ جب انہوں نے سنتھیا کی محترمہ کے خلاف بکواس پر خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی تو اس نے ردعمل میں جھوٹے الزامات لگا دیے۔ سنتھیا کے الزامات کے بعد پیپلز پارٹی نے قانونی چارہ جوئی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جس پر سنتھیا کو 9 جون کو جسٹس آف پیس کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ سنتھیا رچی سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ونگ سے بطور سٹریٹیجسٹ اور ریسرچر وابستہ تھیں اور انہوں نے پارٹی منشور ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سنتھیا کا دعویٰ ہے کہ اس وجہ سے وزیراعظم عمران خان اسے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ان کا آپس میں مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ اسی دوران معروف ٹی وی اداکار علی سلیم عرف بیگم نوازش علی نے یہ دعوی کیا ہے کہ سنتھیا نے 2016 میں اسے امریکہ میں ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ عمران خان بھی اس پر اتنے لٹو ہو گئے تھے کہ اس کے ساتھ سونے کی خواہش کا اظہار بھی کر دیا۔ تاہم عمران خان کے قریبی ذرائع نے اس الزام کو بیہودہ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ اڑتیس سالہ سنتھیا ڈی رچی امریکی شہری ہیں جو 2009 میں پہلی بار پاکستان آئیں۔ اس دوران انہوں نے کچھ عرصہ پاکستان سے باہر بھی گزارا لیکن پچھلے 9 سالوں سے وہ شہر اقتدار اسلام آباد میں مستقل طور پر مقیم ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ ان کے یہاں اتنے لمبے قیام کے پیچھے اصل ایجنڈا کیا ہے؟ سنتھیا کی جانب سے پاکستانی انٹیلی جنس افسران کے ساتھ قریبی تعلقات کا تاثر دئیے جانے کے باوجود پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع انہیں امریکی ایجنٹ سجھتے ہیں جبکہ ڈپلومیٹک ذرائع ان کو آئی ایس آئی کی ڈبل ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔
