مینارِ پاکستان کے جنسی بھیڑیے کیسے قابو میں آئے؟

https://youtu.be/BQRvyM65MuE
14 اگست کو مینار پاکستان پر ٹک ٹاکر عائشہ اکرم بیگ کو ہراسانی کا نشانہ بنانے والے سو سے زائد جنسی درندوں کی گرفتاری کے لئے پولیس نے جیو فینسنگ کہلانے والی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گریٹر اقبال پارک میں ایک مخصوص علاقے کے اندر 14 اگست کو شام 6:30 بجے سے 7:40 تک 28863 موبائل فون کالوں کا ریکارڈ حاصل کیا۔ پولیس ان کالوں کو ایک تجزیاتی عمل سے گزارنے اور نادرا سے تصدیق کے بعد 730 مشتبہ افراد تک پہنچی جن میں سے 400 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے چُنا گیا اور پھر 127 کو گرفتار کر لیا گیا۔
یاد رہے کہ 14 اگست کے روز لاہور کے اقبال پارک میں سینکڑوں اوباش نوجوانوں کے ہجوم کے ہاتھوں ٹک ٹاکر عائشہ کیساتھ پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے شرمناک واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے سینکڑوں افراد پر مشتمل جنسی درندوں کا ہجوم خاتون پر حملہ آور ہوتا ہے، اسے جنسی طور پر ہراساں کرتا ہے اور اس کے کپڑے پھاڑ دیتا ہے۔ ان وائرل ویڈیوز میں نوجوانوں کو اس نہتی اور بے بس لڑکی کیساتھ شرمناک حرکات کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور پولیس نے جیو فینسنگ کی مدد سے سینکڑوں مشکوک افراد کی مینارِ پاکستان پر اس روز موجودگی کے حوالے سے معلومات ملیں جن کی مدد سے جلد ملزمان تک پہنچنا ممکن ہو پایا۔ تاہم پولیس اہلکار کے مطابق وہ جیو فینسنگ کے طریقہ کار کی زیادہ تفصیلات اس لیے نہیں دے سکتے تھے کیونکہ پولیس اس طریقہ کار کو مجرموں تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتی ہے اور اس کے کام کرنے کا طریقہ جان لینے سے مجرموں کو مدد مل سکتی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جیو فینسنگ کے لیے پولیس کو دیگر انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔
آئی جی پنجاب پولیس نے بھی اپنی رپورٹ میں سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ انھوں نے جیو فینسنگ کے لیے انٹیلیجنس ایجنسیوں سے مدد حاصل کی۔ جیو فینسنگ بنیادی طور پر ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ایک مخصوص علاقے کے گرد ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل فینس یا حد مقرر کر دی جاتی ہیں۔ پھر ایک خاص وقت کے دوران اس حد کے اندر موجود موبائل فونز کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ سکیورٹی امور کے ماہر سلمان طارق کا کہنا ہے کہ جیو فینسنگ کا طریقہ دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کئی سالوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس طریقے میں گوگل جیسی کمپنیوں کی مدد سے تحقیقاتی ادارے کسی خاص مقام پر کسی خاص وقت پر پائے جانے والے افراد کا ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ایسا کرنے سے قبل انھیں عدالت سے اجازت نامہ یا وارنٹ لینا ضروری ہوتا ہے۔ سلمان طارق کے مطابق پاکستان میں صرف انٹیلیجنس ایجنسیاں قانونی طور پر اس قسم کے ڈیٹا تک رسائی کی مجاز ہیں۔ سلمان طارق کے بقول ان کے مانگنے پر تمام تر موبائل کمپنیاں انھیں ایسا ڈیٹا فراہم کرنے کی پابند ہیں۔ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر چند سال قبل یہ قانون سازی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو جب جیو فینسنگ کرنا ہو تو وہ انٹیلیجنس اداروں کی مدد حاصل کرتی ہے۔ سلمان طارق کے مطابق اس طریقہ کار کی مدد سے پولیس یہ بھی جان سکتی تھی کہ اس روز وقوعہ کے وقت کتنے اور کون سے افراد کے موبائل فون مینارِ پاکستان کے عین نیچے موجود تھے۔ اس علاقے میں موجود مشتبہ فونز کا ڈیٹا حاصل کر لینے کے بعد ان کا ڈیٹا نادرا کو بھجوایا جاتا تھا جس کی مدد سے ان کی تصویری شناخت کی جاتی ہے اور دیگر معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ ہونے کی وجہ سے یہ عمل انتہائی تیز رفتاری سے ہوتا تھا۔
آئی جی پنجاب کی رپورٹ کے مطابق جیو فینسنگ کی مدد سے گریٹر اقبال پارک میں ایک مخصوص علاقے کے اندر 14 اگست کو شام 6:30 بجے سے لے کر 7:40 منٹ تک 28863 کالوں کا ریکارڈ ملا۔ ان کو ایک تجزیاتی عمل سے گزارنے اور نادرا کے ذریعے تصدیق کے بعد پولیس ان 730 مشتبہ افراد تک پہنچی جن میں سے 400 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے چُنا گیا۔ پولیس کے مطابق ان میں سے 127 افراد کو قانون کے مطابق شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجا جا چکا ہے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے لیے وقت کا تعین سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے کیا گیا تھا جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ متاثرہ خاتون کس وقت گریٹر اقبال پارک میں داخل ہوئی تھیں اور کب وہاں سے باہر نکلیں۔سلمان طارق کے مطابق اس طریقہ کار سے پولیس قانونی طور پر عدالت میں بھی یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ ملزم اس وقت جائے وقوعہ پر موجود تھا۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پولیس نے وقوعہ کی تحقیقات کے آغاز ہی میں ایک خاص ٹیم تشکیل دے دی تھی جس کا کام تمام تر ڈیجیٹل شواہد یعنی سوشل میڈیا وغیرہ پر موجود ویڈیوز اور تصاویر کو حاصل کرنا اور ان کا فرانزک تجزیہ کرنا تھا۔ اس ٹیم ہی کو جیو فینسنگ کی مدد سے جائے وقوعہ پر موجود مشکوک افراد کا پتہ لگانے اور ان کے کالز کے ریکارڈ وغیرہ سے بھی اس کی تصدیق کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ سلمان طارق کے مطابق اگر گرفتار کیا گیا کوئی شخص عدالت میں پولیس کے اس دعوے کو چیلنج کرے گا کہ اس کو غلط گرفتار کیا گیا ہے تو پولیس سی ڈی آر یعنی کال ریکارڈ اور جیو فینسنگ ڈیٹا کی مدد سے یہ ثابت کر سکتی ہے کہ وہ اس مقام پر موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں محض ویڈیو بطور ثبوت قابلِ قبول ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اس لیے پولیس ویڈیوز کا فرانزک یا سائنسی تجزیہ کرواتی ہے تاکہ ان ڈیجیٹل شواہد کو عدالت میں قابلِ قبول بنا جا سکتے اور ملزمان کو سزا دلوانے میں مدد ملے۔
