مینار پاکستان دست درزای کیس کا سرغنہ”ریمبو” پکڑا گیا

سانحہ گریٹر اقبال پارک کیس میں اس وقت نیا موڑ آگیا جب متاثرہ خاتون عائشہ اکرم نے ہیرو کو ولن بنادیا۔ عائشہ اکرم نے تمام واقعہ کا ذمہ دار اپنے ساتھی ریمبو کو ٹھہرا دیا جس پر پولیس نے پھرتی دکھاتے ہوئےرواں برس یوم آزادی کے موقع پر لاہور میں گریٹر اقبال پارک میں درجنوں افراد کے ہاتھوں ہراساں ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کے تحریری بیان پر ان کے ساتھی ریمبو سمیت 7 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس کے مطابق عائشہ اکرم نے پولیس کو ریمبو کے خلاف درخواست دی تھی۔درخواست کے بعد پولیس نے ریمبو اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔پولیس نے ابتدائی بیان کے بعد ریمبو سمیت سات افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ انوسٹی گیشن پولیس کے مطابق ریمبو کے ساتھی بادشاہ کی گرفتاری کے لئے راوالپنڈی میں چھاپہ مارا گیا لیکن ملزم فرار ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو لاہور کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔
قبل ازیں ٹاک ٹاکر عائشہ اکرم انکشاف کیا تھا کہ انہیں قریبی دوست ریمبو پارک لے گئے تھے۔عائشہ اکرم نے 8 اکتوبر کو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال کو تحریری درخواست دی کہ انہیں ان کا دوست ’ریمبو‘ بلیک میل کر رہا ہے۔
درخواست میں عائشہ اکرم نے بتایا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک جانے کا منصوبہ بھی ان کے دوست ’ریمبو‘ نے بنایا تھا۔ٹک ٹاکر کے مطابق ’ریمبو‘ نے ساتھیوں کے ہمراہ ان کی کچھ نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں، جن کے ذریعے وہ انہیں بلیک میل کرتا رہا ہے اور ان سے اب تک 10 لاکھ روپے بھی وصول کر چکا ہے۔

Back to top button