میں نے زبان کھولی تو مجھ سمیت کئی لوگ تباہ ہوں گے

کرکٹ لیجنڈ وسیم اکرم نے خود پر عارف عباسی، عامر سہیل اور عطاءالرحمن کے عائد کردہ میچ فکسنگ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ان الزامات کا مفصل جواب دینے کے لیے ایک کتاب لکھنے کو کہا جا رہا ہے لیکن میں اس حق میں نہیں ہوں کیوںکہ اگر میں نے پاکستانی کرکٹ کے معاملات پر کتاب لکھ دی تو اس سے بڑی پریشانی پیدا ہوجائے گی اور میں اپنے سمیت کئی لوگوں کو تباہ کر دوں گا۔
پچھلے کچھ عرصے سے خود پر لگنے والے میچ فکسنگ الزامات پر بالآخر سابق کپتان وسیم اکرم نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ مجھ پر فکسنگ کے الزامات عائد کرنے والے جان لیں اگر میں نے اس حوالے سے تمام معاملات بیان کر دئیے تو میرے سمیت کئی لوگ تباہ اور بدحال ہوجائیں گے اس لئے میچ فکسنگ کے حوالے سے میری خاموشی ہی بہتر ہے اور ویسے بھی میرے پاس منفی لوگوں کے لیے وقت نہیں۔
وسیم اکرم نے میچ فکسنگ کےحوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ کہا جاتا ہے کہ بعض لوگوں کی جانب سے توجہ حاصل کرنے کے لیے میرے نام کو استعمال کیا جارہا ہے۔’میں 17 برس قبل کرکٹ سے ریٹائر ہوچکا ہوں لیکن لوگ اب تک اپنے مزید ذاتی مفاد کے لیے میرا نام لیتے ہیں لیکن میں اس کو نظر انداز کرتا ہوں، میرے پاس اب منفی لوگوں کے لیے وقت نہیں ہے اورنہ ہی کبھی ہوگا’۔
وسیم اکرم نے اپنے بیان میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تعلق کا رعب جھاڑتے ہوئے کہا کہ عمران کے ساتھ میں نے میدان میں 10 سال گزارے تھے۔ جب 22 سال قبل وہ سیاست میں آئے تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا، ‘لہکن اب ثابت قدمی کے 22 سال بعد وہ وزیراعظم پاکستان ہیں’۔ بعدازاں مثبت رویہ اپنانے کے بارے میں بھاشن دیتے ہوئے وسیم نے کہا کہ ‘لوگوں کی منفی سوچ کو چیلنج سمجھا کریں اور اس کو تحریک کے طور پر استعمال کریں۔ ان منفی لوگوں کی وجہ سے خود کو نیچا نہ کریں۔
سابق کپتان نے کہا کہ ‘یاد رکھیں، ہم سب نے غلطیاں کی ہیں، میں نے بہت زیادہ غلطیاں کی ہیں، اگر مجھے دوبارہ اس وقت میں واپس جانے کا موقع ملے تو میں دوبارہ وہ غلطیاں نہیں دہراؤں گا۔ وسیم اکرم نے کہا کہ ‘زندگی میں اعتماد اور وفاداری دو غیر تحریری عہد ہیں، چند لوگ اس کے بارے میں نہیں جانتے اور معمولی سی شہرت پر وہ جھوٹ بولتے ہیں اور دوسروں کی زندگی تباہ کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے مجھے کتاب لکھنے کو کہا لیکن میں اس حق میں نہیں ہوں، اگر میں نے ایسا کیا تو اس سے کئی لوگ بدحال ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر میں نے کتاب لکھی اور میدان سے باہر پاکستان کرکٹ کے معاملات کو بیان کیا تو اپنے سمیت کئی لوگوں کو تباہ کردوں گا’۔
یاد رہے کہ عامر سہیل نے وسیم اکرم پر الزامات عائد کیے تھے کہ وسیم اکرم کو 2003 کے ورلڈ کپ سے قبل تک قومی ٹیم کاکپتان بنایا گیا، وسیم اکرم کا سب سے بڑا کارنامہ اس بات کو یقینی بناناتھا کہ پاکستان 1992 کے بعد کوئی ورلڈ کپ نہ جیتے۔ اس سے قبل 30 اپریل کو پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی کے سابق چیئرمین خالد محمود نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کرتے ہوئے کمزور کارکردگی دکھانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بدلے انہیں 90 کی دہائی میں 2 سے تین لاکھ روپے کی پیش کش کی گئی تھی۔ خراب باؤلنگ پر انہیں وسیم اکرم نے رقم دی تھی جس کا انہوں نے جسٹس قیوم کمیشن میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اقرار بھی کیا تھا۔
اسی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد نے فکسنگ میں ملوث کرکٹرز اور بکیز کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1999 میں فکسنگ کا اندازہ ہوگیا تھا جس پر کوچنگ چھوڑ دی۔ان کاکہنا تھا کہ جسٹس قیوم کمیشن کو فکسنگ سے متعلق سب کچھ بتایا لیکن کھلاڑی بچ نکلے، جسٹس قیوم کمیشن نے جن کرکٹرز کو پی سی بی سے دور رکھنے کا کہا آج بھی وہ کرکٹ بورڈ سے جڑے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پی سی بی نے قومی ٹیم کے بلے باز فکسنگ کی پیش کش سے فوری مطلع نہ کرنے پر عمر اکمل پر گزشتہ ماہ 3 سال کی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد ماضی میں میچ فکسنگ کے الزامات کا پنڈورا بکس دوبارہ کھل گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button