پاکستان میں مکمل جمہوریت نہیں، جاگیردارانہ جمہوریت ہے : خالد مقبول صدیقی

 

 

 

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مکمل جمہوریت نہیں بلکہ جاگیردارانہ جمہوریت ہے، کسانوں کی نمائندگی جاگیردار اور مزدوروں کی نمائندگی سرمایہ دار کر رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں۔

لاہور میں نئے نظام اور صوبوں کی تشکیل پر مکالمے سے خطاب کرتےہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ جاگیردارانہ نظام ناکام ہوا ہے،جو دنیا کے کئی حصوں میں ختم ہوچکا ہے لیکن پاکستان میں اب بھی موجود ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جتنی جمہوریت آزاد ہے،اتنا ہی سچ بولتا ہوں،آج بھی احتیاط کروں گا،آمریت کے بجائے جمہوری دور میں نئے نظام پر بحث اور مکالمہ ہونا خوش آئند ہے۔کیا ہمیں ایسی جمہوریت چاہیےجس کے ثمرات عام پاکستانیوں تک نہ پہنچیں؟ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیےبغیر جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے،دنیا کی حقیقی جمہوریتوں میں تیسری سطح کی حکمرانی کا نظام موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا طریقہ کار چاہتےتھے لیکن 18 ویں ترمیم اختیارات کی منتقلی کے بجائے اختیارات کے ارتکاز کا باعث بنی،تمام سیاسی جماعتیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور صوبوں کی بات کررہی ہیں جب کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں نئے صوبے اور بلدیاتی نظام کے حق میں ووٹ دیا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکمران آئین کی صرف وہ شقیں مانتےہیں جو ان کے مفاد میں ہوں،عوام کو فائدہ دینےوالی آئینی شقوں پر عمل سے گریز کیاجاتا ہے، پاکستان میں حکمران اور عوام کے مفادات مختلف نہیں بلکہ متصادم ہیں،عام پاکستانی غریب ہوگا تو حکمران امیر ہوگا اور عوام غلام ہوں گے تو حکمران آزاد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکمران ایک مخصوص طبقے کا نام بن چکا ہے، الحمدللّٰہ ان کا اس طبقے سے تعلق نہیں،سیاسی سربراہان فیصلہ کریں کہ خود الیکشن لڑیں،خاندان کو الیکشن میں نہ لائیں،موروثی سیاست اور خاندانی حکومت کے ساتھ پاکستان آگے نہیں چل سکتا۔

نئے صوبوں پر سنجیدہ قومی مکالمہ ضروری ہے: وفاقی وزیر پارلیمانی امور؍

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی معاشی بحران نہیں بلکہ نیتوں کا بحران ہے،جب تک نیتوں کا بحران ٹھیک نہیں ہوگا،معاشی بحران بھی ٹھیک نہیں ہوگا،ہمارا سب سے بڑا مسئلہ تجارتی خسارہ اور اس سے بڑھ کر اعتماد کا فقدان ہے،اعتماد اور اخلاقی بحران ختم کیےبغیر حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

 

 

Back to top button