امریکا کا خارگ جزیرے کی قریب ایرانی ٹینکر پر حملہ

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جزیرہ خارگ کے قریب امریکی افواج نے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ علاقے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے حملے کی نوعیت،کسی نقصان یا ممکنہ جانی نقصان کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں
دوسری جانب ایرانی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے 4 پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کےمطابق حملے کے وقت ٹینکر سے سامان اتارا جارہا تھا۔
تاہم ان اطلاعات کے حوالے سے ایران یا امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں بھی ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کو غیر مصدقہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ دھماکوں کی وجہ اور مقام کے بارے میں بھی کوئی حتمی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی۔
امریکی صدر کی ایک بار پھر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی
خیال رہے کہ جزیرہ خارگ ایران کے تیل برآمد کرنے والے اہم ٹرمینلز میں سے ایک ہے اور ملک کے خام تیل کی ترسیل کا ایک اہم مرکز ہے۔یہ حال ہی میں ایران کی جنوبی سرحد کے ساتھ کئی فضائی دفاعی نظاموں،ریڈار تنصیبات اور سمندری اثاثوں کو نشانہ بنانے والے امریکی حملے کی زد میں آیا ہے۔
گزشتہ روز امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا تھاکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں پر خام تیل جمع ہونے کے ساتھ، ایران کی تیل کی برآمد کی لائف لائن منقطع کی جارہی ہے۔
بیسنٹ نے یہ بھی کہا تھاکہ ناکہ بندی کی بحالی کےبعد سے کوئی ایرانی تیل کی کھیپ آبنائے ہرمز کو عبور کرکے چین نہیں گئی۔
