نئی اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی

تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نئی اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی ،اگر ان کا خیال ہے کہ یہ نگران سیٹ اپ کو طول دے لیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان نے کہا کہ مونس الٰہی نے موجودہ صورتحال میں بہت اچھا کردار ادا کیا ہے ، ق لیگ کے بڑوں کوبھی مونس نے ہی راضی کیا، انہیں بتایا کہ مستقبل پی ٹی آئی کے ہی ساتھ ہے اور مسلم لیگ ق کے پی ٹی آئی میں انضمام کی خواہش بھی ظاہر کر دی ،میرا خیال ہے ق لیگ آگے چل کر پی ٹی آئی کا حصہ بن جائے گی۔
ا نہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پنجاب اسمبلی میں ہمیں لگ رہا تھا کہ ہمارے 186 ارکان پورے نہیں ہو پائیں گے لیکن ہم نے ارکان پورے کر کے دکھا دیے، پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے فوری بعد خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔
عمران خان نے کہا کہ مجھ پر حملہ ہوا، شہباز گل اور اعظم سواتی کے ساتھ جو کچھ ہوا سب کو معاف کر کے آگے بڑھنے کو تیار ہوں، فوج کا کورونا، انسداد پولیو مہم میں اہم کردار تھا، اسمگلنگ روکنے اور احتساب کیلئے فوج درکار ہوگی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں میڈیا چینل بند کرنے، صحافیوں کو نوکریوں سے نکالنے اور میڈیا سے زیادتیوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھجوائی گئی اسمبلی تحلیل کی سمری گورنر پنجاب کی جانب سے آج شام تک منظور کرلی جائے گی، پنجاب حکومت آج رات مکمل تحلیل ہو جائے گی، اور پرویز الہٰی کے نگران وزیراعلی کا نوٹیفکیشن جاری ہو گا، گورنر پنجاب پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
