چئیرمین نیب کی تعیناتی، شہباز سے مشاورت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے چیئرمین نیب کے نام کے لیے اپوزیش لیڈر شہباز شریف سے مشاورت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جہلم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے جو وعدے پانچ سال میں پورے کرنے تھے وہ ہم تین سال میں ہی پورے کر لیے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نومبر میں اگلے مرحلے کا آغاز کریں گے جس کے تحت  کھاریاں سے اسلام آباد تک موٹروے بنائیں گے اور اس کی بدولت اسلام آباد سے لاہور کے سفر میں 100کلومیٹر تک کمی آئے گی ۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم  جب بات کرتے ہیں تو پاکستان کے عوام کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہیں، افغانستان کا معاملہ ہو یا کشمیر کا جب عمران خان بات کرتے ہیں تو  لگتا ہے کہ وہ عوام کے دلوں کی بات کررہے ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جس طرح کشمیر کا معاملہ رکھا جس طرح نریندر مودی کو للکارا ایسا تاریخ میں  پہلے کبھی نہیں ہوا ہے ۔

فواد چودھری نے کہا کہ جب ممبئی میں حملہ ہوا تو یہ الزام بھی ایک پاکستانی پر لگایا گیا ، اس پاکستانی کا سیکیورٹی ایجنسی اور فوج سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس پر بھارت نے پاکستان کے خلاف عالمگیر پراپیگنڈا مہم شروع کی۔ بلوچستان میں بھارتی فوج میں کام کرنے والے فرد کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا اور جب نواز شریف سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاپتا کیونکہ اس طرح تو لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ  اس وقت اگر وفاق کی کوئی جماعت ہے تو وہ تحریک انصاف ہے، ہر جگہ پر صرف عمران خان کا ووٹ ہے اور یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ وفاق کو جوڑنے والا لیڈر پاکستان کے پاس موجود ہے۔ مسلم لیگ(ن) میں شہباز شریف، مریم نواز اور باقی لوگ ہر ہفتہ ٹاس کرتے ہیں کہ اس ہفتے یہ لیڈر ہو گا اور اگلے ہفتے دوسرا لیڈر ہو گا۔

Back to top button