ناجائز بیٹی کے کیس میں عمران کے وکیل جھوٹا نکلا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کیخلاف کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کو ظاہر نہ کرنے پر دائر نااہلی کی درخواست پر ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا سفید جھوٹ پکڑا گیا ہے کیونکہ انہوں نے بھونڈا موقف اختیار کیا کہ پٹینشن اس لیے قابل سماعت نہیں کہ خان صاحب توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے بعد رکن قومی اسمبلی نہیں رہے۔ یاد رہے کہ نااہلی کے بعد عمران خان کی میانوالی سے قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی گئی تھی، لیکن بعد میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی سات نشستوں سے کامیاب ہوگئے تھے، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 18 جنوری کو 7 حلقوں سے انکی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا تھا لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وہ رکن قومی اسمبلی ہیں اور ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے 19 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹیری وائٹ کیس میں غلط بیانی کی۔

عمران خان کی نمائندگی کرنے والے سلمان اکرم راجا نے عدالت میں پپٹیشن کے قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ان کے موکل ایوان زیریں سے استعفیٰ دینے کے بعد اب رکن قومی اسمبلی نہیں رہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ وہ اپنے مؤکل کی جانب سے بروقت جواب جمع کرانے سے قاصر ہیں کیونکہ شرط یہ ہے کہ کیس کے دوران دستاویزات جمع کرانے سے قبل بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آج کل تو بائیو میٹرک ویری فکیشن بہت آسان ہے جب کہ آؤٹ لیٹس کی بھی کوئی کمی نہیں۔

تاہم عدالت نے سلمان اکرم راجا کی درخواست منظور کرتے ہوئے مزید کارروائی 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔ حسب روایت انہوں نے عمران خان کو اپنا جواب دینے کا ایک اور موقع فراہم کرتے ہوئے مہلت دے دی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے پٹیشنر ساجد محمود کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران نے برطانیہ میں مقیم اپنی بیٹی ٹیریان وائٹ کو کاغذات نامزدگی اور الیکشن لڑنے کے حلف نامے میں ظاہر نہیں کیا۔درخواست گزار کے وکیل کے طور پر پیش ہونے والے سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان کی جانب سے 18 نومبر 2004 کے ڈیکلیئریشن پر مشتمل اضافی دستاویز پیش کی۔

اس ڈاکومینٹ میں کہا گیا ہے کہ میں نے یہ ڈیکلریشن ٹیریان جیڈ خان وائٹ کی درخواست کی حمایت میں دیا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ ٹیریان کی والدہ سیتا وائٹ کی بہن کیرولین وائٹ کو ٹیریان کا سرپرست مقرر کیا جائے۔ ڈیکلریشن میں کہا گیا ہے کہ جمائما خان نے ٹائرین جیڈ کے سرپرست کے طور پر خدمات انجام دینے سے انکار کردیا تھا اور سرپرستی کے لیے کیرولین وائٹ کا نام تجویز کیا تھا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ یہ ٹیریان کے بہترین مفاد اور خواہش کے مطابق ہے۔

تاہم بعدازاں ٹیری جمائمہ کی سرپرستی میں آ گئی تھیں اور اب ان کے دو بیٹوں سلمان اور سلیمان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ ٹیری کی عمر اب تیس برس ہو چکی ہے۔ عمران نے اس بیٹی کو دنیا کے سامنے تسلیم نہیں کیا لیکن سیتا کی موت کے بعد وہ جمائمہ کے ہی زیر پرورش رہی ہے۔ لاس اینجلس کی ایک عدالت بھی ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر سیتا وائٹ کے حق میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ بچی عمران کی ہی اولاد ہے۔

لیکن ٹیری وائٹ عمران خان کی واحد ناجائز اولاد نہیں ہے۔ ان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں دعوی کیا ہے کہ عمران خان نے خود انہیں بتایا تھا کہ ان کے ٹیری کے علاوہ پانچ بچے اور بھی ہیں جن میں سلمان اور قاسم شمار نہیں ہوتے۔ ریحام خان لکھتی ہیں کہ انکے سابقہ شوہر نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے سب سے بڑے بیٹے کی عمر 36 برس ہے اور وہ بھارت کا رہائشی ہے لہذا ان حقائق کی روشنی میں عمران خان ایک مستند پلے بوائے ثابت ہوتے ہیں۔

دوسری جانب جمائمہ خان کی زیر کفالت عمران خان کی بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں اولاد ڈیکلیئر نہ کرنے پر آرٹیکل 62 کے تحت سابق وزیراعظم کی نااہلی کا کیس سنجیدہ نوعیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ درخواست گزار محمد ساجد کے مطابق چونکہ سیتا وائٹ کے بطن سے پیدا ہونے والی بیٹی کو عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا اس لیے انہیں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

 درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ ہم نے عمران خان کی جانب سے 2004 میں لاہور سے امریکی عدالت کو بھجوایا گیا تصدیق شدہ حلف نامہ امریکہ سے حاصل کر لیا ہے جسکی امریکی سفارت خانے سے بھی تصدیق کروائی گئی ہے، اب عمران کو یا تو اپنی ناجائز بیٹی ٹیری وائٹ کو تسلیم کرنا ہوگا یا پھر اس کی سرپرستی سے انکار کرنا ہوگا۔ وکیل نے کہا کہ عمران نے اب تک الیکشن کمیشن میں جتنے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ان میں  سے کسی میں بھی ٹیری وائٹ کا ذکر نہیں ہے، چنانچہ اپنی بیٹی کو چھپانے اور کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر ان کو نااہل کیا جانا چاہئے۔ یاد ریے کہ ٹیری وائٹ کے بارے میں سیتا وائٹ کا دعویٰ تھا کو وہ عمران کی اولاد ہے لیکن عمران نے ہمیشہ اس سے انکار کیا۔

ماضی میں پاکستانی اخبارات نے اس بارے میں برطانوی اخبار مرر اور امریکی اخبار دی نیو یارک پوسٹ کی رپورٹیں چلائی تھیں جن کے مطابق سیتا وائٹ عمران کی گرل فرینڈ تھیں اور ان دونوں کی شادی کے بغیر محبت کے نتیجے میں ٹیریان پیدا ہوئی۔ سیتا وائٹ کی موت کیلیفورنیا میں سانتا مونیکا کی یوگا کلاس کے دوران ہوئی جو ان کے شاندار مکان کے قریب واقع ہے۔ سیتا وائٹ نے ٹیریان کو عمران کی اولاد ثابت کرنے کے لیے لاس اینجلس کی ایک عدالت میں دعوی ٰدائر کیا تھا جس کا فیصلہ 1997 میں آ گیا تھا اور امریکی جج نے عمران کو لڑکی کا باپ قرار دیا تھا۔ امریکی عدالت کے فیصلے اور ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق عمران ٹیریان کے والد ہیں۔ لہذا اگر یہی بات پاکستانی عدالت میں بھی ثابت ہو جاتی ہے تو عمران خان کے لیے شدید مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔

Back to top button