پاکستان میں پیاز 275 روپے فی کلو کیوں ہوگیا؟

پیاز کاٹنے کے دوران آنسو نکلنے کا گلہ اب پرانا ہو گیا ہے کیونکہ آج کل پیاز کی قیمت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس کو خریدتے وقت بھی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں، پاکستان میں ہر کھانے کا لازمی جز پیاز اس وقت 245 روپے سے 275 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ یہی پیاز پاکستانی صارفین کو گزشتہ چند ماہ سے ہر بار خریداری کے وقت آٹھ آٹھ آنسو رونے پر مجبور کر رہا ہے، سالن کا لازمی جزو پیاز صرف کھانے کے ذائقے کے لیے ہی نہیں بلکہ سالن کی مقدار بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہوشربا مہنگائی میں جہاں بڑے گوشت کی قیمت 800 روپے فی کلو اور چکن کا گوشت 650 روپے فی کلو سے ہو چکا ہے وہیں کئی متوسط گھرانوں میں سالن کی مقدار بڑھانے کیلئے بھی پیاز کے ذریعے شوربا یا گریوی بڑھانے کا آزمودہ ٹوٹکا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اس وقت پیاز کی قیمت میں فوری کمی تو ہمارے یا آپ کے بس کی بات نہیں لیکن ہم آپ کو ایک ایسے ملک کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں پیاز کی قیمت گوشت سے تقریبا تین گنا زیادہ پو چکی ہے، دنیا بھر میں پیاز کو کھانے میں بنیادی جزو کی حیثیت حاصل ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گوشت کو لگژری آئٹم سمجھا جاتا ہے لیکن اب فلپائن میں ایک کلو پیاز کی قیمت مرغی اور گائے کے گوشت سے بھی ذیادہ ہو گئی ہے۔ وہاں ایک کلو سرخ اور سفید پیاز کی قیمت تقریباً 8.36 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک پورا چکن 3 ڈالرز میں خریدا جا سکتا ہے، فلپائن میں کم از کم یومیہ اجرت 6.84 امریکی ڈالرز ہے جو پیاز کی فی کلو قیمت سے کم ہے، ایشیائی ملک میں لہسن اور پیاز کے ساتھ سالن کو بھوننے کی عادت سپین کے نوآبادیاتی دور سے ہے۔ سولہویں صدی کے اوائل سے انیسویں صدی کے اواخر تک جاری یہ دور ایشیائی ملک کے کھانوں پر بھی اثر انداز ہوتا گیا، تاہم اب تقریباً ایک ماہ سے یہی پیاز فلپائنیوں کے لیے ایک لگژری آئٹم بن گئے ہیں اور قیمتوں میں اضافے نے بنیادی سبزی کی قیمت کو گوشت سے کئی گنا زیادہ بڑھا دیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی فلپائنی حکام نے پیاز کی غیر قانونی ترسیل پر پابندی عائد کر دی ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں مقامی کرنسی میں تین لاکھ ڈالرز مالیت کے پیاز تب ضبط کر لیے گئے تھے جب اسے کپڑوں کے ساتھ چین سمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ بہت سے لوگ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر فلپائنیوں کی جانب سے حکومت پر تنقید بھی کی جا رہی ہے، امریکہ میں مقیم ایک فلپائنی نے ٹویٹر پر پوسٹ کیا ’گڈ بائے چاکلیٹ، ہیلو پیاز، جان جائیے کہ فلپائن میں اس وقت گھر والوں کے لیے پیاز سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔ یاد رہے کہ کہ فلپائن میں بڑے ریسٹورنٹس نے پیاز کی بنی ہوئی مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حالت یہ ہے کہ اب تو برگر کے ساتھ ملنے والے پیاز کے لچھے بھی مینیو سے غائب ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ فلپائن گزشتہ برس اگست اور ستمبر کے درمیان سپر ٹائفون کی زد میں آ گیا تھا جس کے باعث فصلوں کو بہت نقصان پہنچا تھا اور پیاز کا بحران پیدا ہو گیا تھا جو ابھی تک جاری ہے۔

Back to top button