ناکام حکومت اب گندم کپاس اور چینی بھی باہر سے خریدنے لگی


ہر محاذ پر ناکامی کا شکار کپتان حکومت کی شعبہ زراعت میں ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے ستر برسوں میں پہلی مرتبہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان دوسرے ممالک سے گندم، کپاس اور چینی خریدنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ غلط حکومتی پالیسیوں کے باعث زرعی شعبے کو درپیش مشکلات ہیں۔
پاکستان میں صنعت کے نمایاں شعبے یعنی ٹیکسٹائل، شوگر ملز اور کھانے پینے کی چیزیں بنانے والے بھی اپنے خام مال کے لیے اس شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم زرعی ملک ہونے کے باوجود اسوقت حالات اتنے ابتر یو چکے ہیں کہ پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کپاس، چینی اور گندم بیرون ملک سے درآمد کر رہا ہے۔ اب پاکستان میں کیش کراپس یا نقد آور فصلیں یعنی گندم، کپاس، چاول اور گنے میں سے چاول کے علاوہ باقی تینوں اجناس درآمد کی جا رہی ہیں۔ محکمہ زراعت کے بڑے انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے افراد کے مطابق ماضی میں پاکستان کبھی کبھار ضرورت پڑنے پر محدود مقدور میں گندم، کپاس اور چینی تو درآمد کرتا رہا ہے تاہم بیک وقت بڑے پیمانے پر گندم، چینی اور کپاس کی درآمد ملک کی تاریخ میں انوکھا واقعہ ہے جس کی بنیادی وجہ حکومت کی زرعی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ پانچ دہائیوں میں زرعی شعبے کی کارکردگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ فنانس ڈویژن کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں اس شعبے کی گروتھ 5.1 فیصد تھی، ستر کی دہائی میں 2.4 فیصد، اسی کی دہائی میں 5.4 فیصد، نوے کی دہائی میں 4.4 فیصد اور موجودہ صدی کی دہائی میں 3.2 فیصد رہی ہے۔
پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں کوٹ ادو میں زراعت کے شعبے سے وابستہ خاتون زمیندار رابعہ گورمانی نے بتایا کہ ان کے شعبے میں اس وقت اخراجات بے انتہا بڑھ چکے ہیں جو اس شعبے کی پیداوار کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کھاد، بجلی اور دوسری ان پٹ کاسٹ نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اجناس کے شعبے کے ماہر شمس الاسلام نے بتایا کہ پاکستان میں زرعی شعبے کو جو مشکلات درپیش ہیں وہ اچانک سے ظاہر نہیں ہوئی ہیں بلکہ یہ گزشتہ تین برسوں کا تسلسل ہے جس کی وجہ سے آج یہ شعبہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم، چینی اور کپاس کی درآمد کے لیے مجبور ہے۔ انھوں نے کہا ’اگر گندم کے شعبے کو ہی لے لیا جائے تو اس فصل کے لیے استعمال ہونے والے بیچ معیاری نہیں۔ اس لیے ہم اس کی پیداوار میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں دیکھ رہے۔‘ ’ہر بیج کی ایک معیاد ہوتی ہے جو گزرنے کے بعد یہ ڈی جنریشن کا شکار ہو جاتا ہے تاہم پاکستان میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ گندم کے بیچ پر کوئی قابل ذکر تحقیق نہیں ہوئی کہ اس کی فی ایکٹر پیداوار میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھا جائے۔‘
شمس الاسلام نے بتایا کہ پاکستان کے کاٹن زون میں اب کپاس سے زیادہ گنے کی کاشت ہو رہی ہے اور زمیندار اور کاشتکار بھی کپاس کی فصل کے لیے درکار زیادہ مشقت کی وجہ سے گنے کی فصل کو ترجیح دیتے ہیں۔‘ پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اس بارے میں کہا کہ اس شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور آج حالت یہاں تک آن پہنچی کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم، کپاس اور چینی درآمد کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ وزیر خزانہ تھے تو انھوں نے دو اقدامات اٹھائے تھے:’ ایک تو کسان کو پہلے سے سات سے آٹھ فصلوں کی قیمت کا پتا ہوتا تاکہ اسے ان فصلوں کی کاشت کی جانب راغب کیا جاسکے۔ دوسرا کھاد پر سبسڈی دی گئی تاکہ ان کے اخراجات کم ہو سکیں۔‘ تاہم انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سات سے آٹھ فصلوں کی بجائے سپورٹ پرائس کو صرف گندم اور گنے تک محدود کر دیا اور ہھر کھاد پر سبسڈی بھی ختم کر دی۔ اس سلسلے میں شمس الاسلام نے کہا ’ماضی میں ہم نے دیکھا کہ گندم، چینی اور کپاس وقتاً فوقتاً درآمد کی جاتی رہی ہیں لیکن ان تینوں کا بیک وقت درآمد ہونا ایک انوکھی پیشرفت ہے۔‘ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ گندم، چینی اور کپاس کی ایک ہی وقت کی درآمد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی ہے۔ انھوں نے کہا ’گندم بیس سال پہلے درآمد کی گئی تھی اور جب پاکستان اس کی پیداوار میں خود کفیل ہو گیا تو یہ سلسلہ روک دیا گیا اور مقامی پیداوار ضرورت کے لیے کافی رہی۔ تاہم اب گندم کی درآمد کرنی پڑ گئی تاکہ مقامی ضرورت کو پورا کرنے کے علاوہ اسکی قیمتوں کو بھی مستحکم کیا جا سکے۔‘ انھوں نے کہا ’کپاس بھی درآمد ہو رہی ہے کیونکہ ملک کے برآمدی شعبے میں ٹیکسٹائل صنعت کی ضرورت مقامی پیداوار پورا کرنے سے قاصر رہی ہے۔‘ تاہم انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پندرہ سال قبل پاکستان نے ایک کروڑ چالیس لاکھ کاٹن بیلز پیدا کی تھیں جو اس وقت انڈیا کی پیداوار سے بھی زیادہ تھی تاہم اس کے بعد اس کی پیداوار میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آئی اور آج حالت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ پاکستان بمشکل 70 لاکھ کاٹن بیلز کی پیداوار حاصل کرنے کے قابل ہوا ہے۔
چینیی کی درآمد پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پاشا نے کہا ’سب جانتے ہیں کہ شوگر فیکٹریوں کے مالک کون ہیں۔ جب ملک میں اس کی قلت پیدا کی گئی تو اس پر قابو پانے کے لیے چینی درآمد کی گئی۔‘ سابقہ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی میں پاکستان زرعی شعبے کا نیٹ ایکسپورٹر تھا یعنی درآمد سے زیادہ برآمد کیا کرتا تھا لیکن ملک آج اس شعبے میں مجموعی طور پر خسارے کا شکار ہے اور ہمیں ساڑھے تین ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ شمس الاسلام نے اس سلسلے میں بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ملک نے مجموعی طور پر ساڑھے چھ ارب ڈالر کی غذائی اشیا درآمد کی ہیں جب کہ گزشتہ برس ان آٹھ مہینوں میں ان کی درآمدات ساڑھے چار ارب ڈالر تھیں۔ زرعی شعبے کی مشکلات کی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے رابعہ گورمانی نے کہا کہ پالیسی لیول پر حکومتوں نے اس شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا اور پندرہ بیس برسوں میں سوائے عارضی پالیسیوں کہ کوئی پائیدار پالیسی نہیں لائی گئی کہ جس کی بنیاد پر اس شعبے کی کارکردگی میں کوئی نمایاں اضافہ ہو سکے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بتایا ’اگر دو تین برسوں کے اعداد و شمار کو لیا جائے تو زرعی شعبے کی قمیتوں میں چھ فیصد اضافہ ہوا تاہم ‘ان پٹ’ کاسٹ میں 35 فیصد سے زیادہ ہوا جس کی وجہ سے منافع میں بہت زیادہ کمی آئی۔‘ انھوں نے کہا ’زرعی شعبے میں سب سے اہم فرٹیلائزر کی قیمتوں کو ہی لیا جائے تو پاکستان کے مقابلے میں یہ انڈیا میں چالیس فیصد کم ہیں کیونکہ وہاں حکومت اس پر سالانہ پندرہ ارب ڈالر کی سبسڈی فراہم کرتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان میں اس پر پندرہ فیصد ٹیکس لگاتا ہے۔‘
ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ ’ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک چینی درآمد کرے اور کپاس برآمد کرے لیکن اس کے برعکس ہوا۔ شوگر ملز مالکان نے پہلے چینی کی درآمد پر 50 فیصد ٹیکس لگوایا تاکہ باہر سے چینی درآمد نہ کی جا سکے اور وہ مقامی مارکیٹ میں اپنی چینی اپنی مرضی کے نرخوں پر بیچیں تاہم جب حکومت نے دیکھا کہ اس کی قلت ہو چکی ہے تو پھر اسے چینی درآمد کرنا پڑی۔‘ شمس الاسلام نے اس سلسلے میں کہا کہ گندم کی قلت کی سب سے بڑی وجہ اس کا افغانستان سمگل ہو جانا ہے۔ انھوں نے کہا ’اسی طرح ہم گندم کی پیداوار پر کافی برسوں سے 26 سے 27 ملین ٹن کے درمیان موجود ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے زرعی شعبے میں کام کرنے والی لیبر فورس میں بھی ایک فرق ہے۔ ’انڈیا کا کاشتکار جدید طریقوں پر اپنے کام کو استوار کر رہا ہے لیکن پاکستان کا کسان ابھی تک روایتی طریقے پر کاربند ہے جو اس کی پیداوار میں اضافہ نہیں کر رہا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button