ناکام کپتان حکومت کے خلاف تحریک کیوں نہیں چل پائے گی؟


کپتان کے احتسابی شکنجے میں پھنسی ہوئی اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی پچھلے دو برس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے باآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ وفاقی حکومت ہر محاذ پر ناکامی سے دوچار ہونے کے باوجود ابھی کہیں نہیں جا رہی کیونکہ اگلے چھ ماہ سیاسی منظر نامے پر کوئی بڑی حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلنے کا کوئی امکان نہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے اپنی ایک تازہ تحریر میں کیا ہے۔
دراصل جمہوری طرزِ حکومت میں حکومت اور اپوزیشن ایک ہی گاڑی کے دو پہیے تصور کیے جاتے ہیں، حکومت کا کام گورننس ہے تو اپوزیشن کا کام حکومت کی نگرانی ہے۔ حکومت ملک چلاتی ہے تو اپوزیشن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اس نے مستقبل میں حکومت کو چلانا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت سے لوگوں کو شکایت ہے کہ گورننس اچھی نہیں ہے اور فیصلے درست نہیں کیے جا رہے، دوسری طرف اپوزیشن بھی اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہی اور درمیانی راستہ اپنائے ہوئے چل رہی ہے جس کی بنیادی وجہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف دائر کیے جانے والے نیب کے مقدمات ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا اسمبلی کے اندر جس طرح کا جاندار اور زوردار کردار ہونا چاہیے وہ پچھلے دو برس میں نظر نہیں آیا ہے، پارلیمانی مباحث کی کوالٹی وہ نہیں جو پہلے ادوار میں ہوا کرتی تھی، اپوزیشن ابھی تک اپنی صفوں کو درست نہیں کر سکی، نون لیگ کے پیپلزپارٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں تو پیپلز پارٹی کو نون لیگ کی پالیسیوں پر شدید اعتراضات ہیں، مولانا فضل الرحمن دونوں بڑی جماعتوں کے رویے سے شاکی ہیں اور یہ دونوں جماعتیں مولانا سے شاکی ہیں۔
غرضیکہ اپوزیشن فی الحال بھان متی کا ایک کنبہ ہے جس سے کسی ھکومت مخالف موئثر عوامی تحریک کی توقع نہیں کی جا سکتی حالانکہ کپتان حکومت پاکستانی تاریخ کی ناکام ترین حکومتوں میں سے ایک ہے اور اس وقت قومی اسمبلی میں پارلیمانی تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن موجود ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اگر آج کی اپوزیشن کے ڈھیلے ڈھالے انداز سئاست کو سمجھنا ہو تو اس کی مرکزی لیڈرشپ کی سرگرمیوں پر غور کرنا ہو گا۔ نواز شریف لندن میں موجود ہیں اور چھ مہینوں میں ابھی ان کا علاج شروع نہیں ہو پایا۔ وہ سیاسی حوالے سے لب سیے ہوئے ہیں البتہ کوئی ن لیگی رہنما قید سے رہا ہو تو اُس کو فون کر کے اس کی خیریت ضرور دریافت کرتے ہیں۔ نواز شریف زیادہ وقت پارک لین کے فلیٹ میں ہی گزارتے ہیں اور کبھی کبھار چہل قدمی کے لیے باہر بھی نکل جاتے ہیں۔ ان کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نواز بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ لندن ہی میں موجود ہیں۔ نواز شریف کو سیاست سے ہٹ کر وقت ملا ہے تو انھوں نے خاندانی امور کی طرف بھی توجہ دی ہے اور اپنے نواسے جنید صفدر کی شادی قطر میں آباد احتساب بیورو والے سیف الرحمان کے خاندان میں طے کر دی ہے۔
مریم نواز کا بھی اپنے والد سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ ہے اور شہباز شریف بھی سیاسی اور ملکی امور پر رہنمائی کے لیے نواز شریف سے رابطہ رکھتے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سیباز زیادہ وقت گھر پر ہی گزارتے ہیں۔ سیاسی گپ شپ اور سماجی ملاپ کی خاطر اپنی دوسری بیگم تہمینہ درانی کے ہاں ان کا اکثر چکر لگتا رہتا ہے جو ان کے سیاسی فیصلوں پر بھی کافی حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔ شہباز شریف کے انداز و اطوار سے لگتا ہے کہ فی الحال وہ کسی احتجاجی مہم شروع کرنے کے لیے ماحول کو ساز گار نہیں سمجھتے ہیں، ویسے بھی نون لیگ کا ووٹر احتجاجی مہم یا دھرنوں کا قائل نہیں کیونکہ اس کی نون لیگ سے محبت ووٹ کی حد تک ہے، وہ جیل جانے یا پولیس کے ڈنڈے کھانے والا مزاج نہیں رکھتا۔
دوسری طرف اپوزیشن کی اہم جماعت پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت چلا رہی ہے اور وفاق سے چھیڑ چھاڑ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ پہلے اسکا وفاق سے کرونا مخالف حکمت عملی پر اختلاف تھا پھر نالوں کی صفائی کا معاملہ چھڑ گیا اور اب آٹے پر بحث جاری ہے۔ اس دوران آصف زرداری کراچی کے بلاول ہاؤس میں مقیم ہیں، وہ عام حالات میں بھی بڑے احتیاط پسند ہیں اور دور صدارت میں بھی سینیٹائزر استعمال کیا کرتے تھے۔ کرونا آنے کے بعد سے وہ بہت ہی احتیاط کر رہے ہیں، نہ صرف ماسک پہنتے ہیں بلکہ ڈاکٹروں والا احتیاطی فلٹر بھی استعمال کر رہے ہیں۔ زرداری اپنے تمام دوستوں کو فون کر کے نہ صرف سماجی فاصلہ رکھنے کی بات کرتے ہیں بلکہ انھیں احتیاطی تدابیر بھی تجویز کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو اگر دورے پر ہوں تو آصف زرداری روزانہ ان کا حال چال جانتے ہیں اور انھیں سیاسی ایڈوائس بھی کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں بلاول بھٹو لاہور میں مولانا فصل الرحمان اور شہباز شریف سے ملے تو زرداری صاحب بلاول سے گاہے بگاہے اپ ڈیٹ لیتے رہے۔ پیپلز پارٹی کا مخمصہ یہ ہے کہ پنجاب میں وہ احتجاجی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ انھیں اب وہ افرادی قوت میسر نہیں جو کوئی موثر تحریک چلا سکے۔ سندھ میں ان کے پاس ایسے جیالے بکثرت موجود ہیں مگر سندھ میں اپنی حکومت کی موجودگی میں وہ احتجاجی جلسہ جلوس بھی کر لیں تو اس سے کیا حاصل وصول ہو گا؟
سہیل وڑائچ کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لیڈر شپ کے درمیان لاہور میں جو مکالمہ ہوا وہ دونوں کے رویوں کا عکاس ہے۔ بلاول نے ہنستے ہنستے کہا کہ شہباز شریف اپوزیشن کے انقلاب کی رہنمائی کریں گے، جواباً شہباز شریف نے کہا کہ نہیں قیادت کو بلاول کے جوان کندھوں کی ضرورت ہے۔ گویا دونوں میں سے کوئی بھی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں بلکہ یہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر مطمئن ہونا چاہتے ہیں۔ بھلا ایسے میں اپوزیشن کیسے چل سکتی ہے؟ تحریک یا عدم اعتماد کی راہ کیسے ہموار ہو سکتی ہے؟
احتجاجی تحریک کی بات ہو یا دھرنے کا معاملہ ہو مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کسی مخمصے کا شکار نہیں۔ اس لیے حالیہ دنوں میں جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے حکومتی بل کے حق میں خاموشی سے ووٹ دے دیے تو مولانا عطا الرحمان اور مولانا اسد محمود دونوں بھڑک اٹھے اور دونوں جماعتوں کو برملا کہہ دیا کہ آئندہ سوچ سمجھ کر ہی آپ کے ساتھ چلا جائے گا۔ لہذا اپوزیشن کی گذشتہ دو سال کی کارکردگی دیکھتے ہوئے باآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں کوئی حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلنے کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button