ناک سے خون آنا انسانی صحت کیلئے کتنا نقصان دہ ہے؟

 

عام طور پر ناک سے خون بہنے کو نکسیر پھوٹنے کے طور پر لیا جاتا ہے، جس کے دوران ناک کے ایک نتھنے سے ہی خون رستا ہے، تاہم بعض اوقات ناک کے دونوں نتھنوں سے بھی خون آ سکتا ہے، نکسیرکی عام وجہ خون کی وہ نالیاں ہوتی ہیں جن سے خون رس کر نتھنے کے ذریعے باہر نکل جاتا ہے۔نکسیر کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں عربی میگزین ’سیدتی‘ نے ماہرین کی آرا پرمبنی مضمون شائع کیا ہے، نکسیر یعنی ناک سے خون آنے کی سب سے عام وجہ جسم میں پانی کی کمی ہونے کے علاوہ ناک کو کھرچنا ہیں، عام طور پر ناک سے خون بہنے کی یہ دو وجوہات ہیں، جب ناک خشک ہو، اس صورت میں ناک کھرچنے کی صورت میں خون بہہ سکتا ہے علاوہ ازیں نزلہ و زکام میں بھی ناک سے خون آنے کی شکایت ہوسکتی ہے، بعض ایسی وجوہات بھی ہیں جن میں ناک سے خون بہہ سکتا ہے۔الرجی اور زخم، ناک میں کسی چیز کو گھسانا، شریانوں کا خشک ہونا یا انفیکشن اور ہائی بلڈ پریشر جوکہ عام طور پر معمر افراد کو ہوتا ہے، ایسی دوائیں لینا جو خون کو جمانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں مثال کے طور پر اسپرین وغیرہ، نایاب عارضے جن میں موروثی ہیمرج وغیرہ شامل ہیں۔ناک سے بار بار خون بہنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ صحت کو سنگین مسئلہ ہے، اس حوالے سے لیوکیمیا کی ابتدائی علامات بھی ہوسکتی ہیں، ان نکات پر عمل کرنے سے نکسیر سے بچا جا سکتا ہے، اپنے بیڈ روم کی فضا کو صاف رکھیں وہاں خشکی کو پیدا نہ ہونے دیں، بچوں کے ناخن باقاعدگی سے تراشیں (کیونکہ عام طورپرناک میں انگلی ڈالنے سے ناخن ناک کے حساس حصے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کی وجہ سے خون بہنے لگتا ہے)، تمباکو نوشی سے اجتناب برتیں، چھینکنے کے لیے منہ کو کھولیں تاکہ ناک پر دباؤ نہ پڑے آگر آپ نکسیر کا شکار ہیں تو اس سے بچنے کے لیے درج ذیل امور پرعمل کریں۔نیچے بیٹھ جائیں اور تھوڑا سا آگے کو جھکیں، کیونکہ اگر آپ سر کو دل کی سطح سے اوپر رکھتے ہیں یعنی سینے پر تو اس صورت میں خون بہنے کی رفتار کم ہوجائے گی، ناک کے نرم حصے کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے دبائیں، ناک پر دباؤ اس وقت تک رکھیں جب تک خون بہنا رک نہ جائے۔ کم از کم پانچ منٹ تک دباؤ کو برقرار رکھیں، اگرناک پر دباؤ ڈالنے کے باوجود خون نہ رکے تو یہی عمل دوبارہ 5 سے 10 منٹ تک کے لیے دھرائیں، اگرناک سے خون آنا 20 منٹ کے بعد بھی بند نہیں ہوتا تو اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں اگرناک سے خون آنے کی وجہ چوٹ ہے تو اس صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ یہ عمل اندرونی چوٹ کی وجہ ہوسکتا ہے اگر خون زیادہ مقدار میں بہہ رہا ہے جس سے سانس لینے میں دشواری ہو، اگر نکسیر شیر خوار یعنی دو برس سے کم عمر کے بچے کو آئے اس صورت میں فوری معالج سے رجوع کیا جائے، ۔اگر ہر ہفتے ناک سے خون بہہ رہا ہو بہتر ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر نہ برتی جائے۔

Back to top button