نجی اسکولز کو دیگر اضافی فیس وصول نہ کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ہل پارک کراچی کے قریب واقع نجی اسکول انتظامیہ کو بچوں سے زائد فیس وصول کرنے سے روک دیا ۔
سندھ ہائی کورٹ میں نجی اسکول میں مختلف پروگراموں کے نام پرفیس وصولی کے خلاف درخواست دائر کی گئی جس کی سماعت جسٹس محمدعلی مظہر کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ سماعت میں ڈائریکٹرجنرل پرائیوٹ اسکولز منسوب صدیقی پیش ہوئے جن سے فاضل جج نے استفسار کیا کہ ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکول ایجوکیشن کیا کر رہے ہیں؟ والدین آپ کے پاس داخلہ کروا کر پھنس گئےہیں۔
جسٹس محمدعلی مظہر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنے بنائے گئے رولز ہی معلوم نہیں، جب ایک فیس وصول کرلی جاتی ہے تو دیگر پروگرامز کے نام پر فیسیں وصول کرنےکی کیا تُک ہے؟
مذکورہ اسکول میں ٹیوشن فیس 38500 ،اسپورٹس کے نام پر 750 اور فوٹو کاپی کے نام پر 600 روپے کیوں وصول کیے جارہے ہیں؟ کیا کوئی ان اسکول والوں سے پوچھنے والا نہیں ہے؟ یہ لوگ اسکول چلا رہےہیں یا کوئی پراپرٹی کا کام کرتے؟۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں اسکول انتظامیہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ فوٹو اسٹیٹ، اسپورٹس اور نا جانے کس کس مد میں بچوں سے فیسیں وصول کررہے ہیں، پانی کا گلاس بھی بیچیں گے کیا ؟کبھی خود بھی کچھ کریں، یا سب کچھ بچوں سے لیں گے؟
ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکول ایجوکیشن نے جواب دیا کہ اسپورٹس کا الگ سے ٹیچر رکھا ہوا ہے اس لیے فیس وصول کرتے ہیں، اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ پھر فزکس، ریاضی اور دیگر مضامین کے ٹیچرز بھی رکھےگئے ہیں، ان کی بھی الگ سےفیس لینا شروع کردیں۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے حکم کو چیلنج کر رہے ہیں؟ ختم کرو، بند کرو ایسے اسکول کو۔
ڈائریکٹر جنرل پرائیوٹ اسکولز کا کہنا تھا کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ تمام چارجز غیرقانونی ہیں اس پر عدالت نے پوچھا کہ جوچارجز غیر قانونی ہیں وہ کیوں لے رہے ہیں؟
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرائیوٹ اسکول والوں نے تو تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے اسکول انتظامیہ کو مختلف پروگراموں کے نام پر فیس وصول کرنے سے روک دیا اور ریگولیٹری اتھارٹی کو والدین کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنے کا حکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button