ندا یاسر کو چائنہ کی حلیمہ سلطان کیوں قرار دیا گیا؟


اداکارہ و میزبان ندا یاسر کا نجی ٹی وی پر نشر ہونے والا مارننگ شو ایک ایسا پروگرام ہے جو صبح کے وقت خواتیں بڑے شوق سے دیکھتی ہیں، اپنے منفرد انداز سے انہوں نے مارننگ شو کی دنیا میں منفرد مقام بنایا ہے، اپنے مارننگ شو کی خاطر ندا یاسر مختلف انداز اپناتی رہتی ہیں، ندا یاسر کو اکثر اپنے شو میں زیر بحث موضوعات کے حوالے سے اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تاہم ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کامیابی سے جاری اپنے مارننگ شو کے بارے میں ندا یاسر کہتی ہیں کہ میرا مارننگ شو انٹرٹینمنٹ ہے، میں کسی کو خراب نہیں کر رہی نہ ہی کسی کو نصیحتیں دیتی ہوں۔ البتہ مشورے ضرور دیتی ہوں، جو میں سنتی ہوں، اپنے ذاتی تجربات لوگوں کو بتاتی ہوں، جیسے اگر دبلے ہونے کا شوق ہے تو ایسا کر لو، میں یہ نہیں کہتی کہ موٹا ہونا کوئی بری بات ہے لیکن اگر دبلے ہونے کا شوق ہے اور آپ کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کون آپ کی رہنمائی کرے تو میں مشورہ دیتی ہوں کہ یہ کر لو۔ ایک انٹرویو میں جب ندا یاسر سے یہ پوچھا گیا کہ اکثر فیٹ شیمنگ یا رنگ گورا کرنے سے متعلق کافی چیزیں مارننگ شوز پر آتی ہیں، جسے لوگ بےکار یا فضول قرار دیتے ہیں، آپ اس تنقید کو کیسے دیکھتی ہیں، تو ندا نے کہا کہ وہ اپنی غلطی کو سدھارنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے دونوں کان استعمال کرتی ہوں، کبھی کبھی میری غلطی ہوتی ہے اور جو واقعی غلطی ہوتی ہے اس کو میں سدھارنے کی کوشش کرتی ہوں۔ لیکن میں موٹاپے یا رنگ خراب ہونے پر کبھی بات نہیں کرتی کیوں کہ یہ اللہ نے دیا ہے۔ ہم چہرہ گھسا گھسا کر گورا نہیں کر سکتے، میں رنگ کے خراب ہونے یعنی جلد کے خراب ہونے پر بات کرتی ہو۔ لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ جوانی میں جب میں یونیورسٹی جاتی تھی اور دھول و مٹی اور دھوپ سے جو میرا اصل رنگ تھا وہ نہیں رہا تھا، جلد خراب ہوتی تھی، ہاتھ اور پیر خراب ہوتے تھے۔
ندا کہتی ہیں کہ پڑھائی کے چکر میں دس ہزار خواریاں اٹھاتے ہوئے جوانی میں چہرہ، ہاتھ پاؤں خراب ہوتے تھے اور پھر ایک دن یاد آتا تھا کہ یہ ہم نے پڑھائی کے چکر میں اپنا کیا حال بنا لیا۔ میں اپنے بچوں کو بھی ایسا ہی کہتی ہوں، جن دنوں اسٹرابیریز موجود تھیں تو ان میں بیکنگ سوڈا ڈال کر میں انہیں چہرے پر لگا رہی ہوتی تھی۔ میری بیٹی بھی اس پر چیخ رہی ہوتی ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ایک زمانے میں مائیں اپنے بچوں کے سر پر تیل لگایا کرتی تھیں۔‘
گزشتہ برس کراچی میں مبینہ طور پر اغوا اور ریپ کے بعد قتل ہونے والی ایک پانچ برس کی بچی کے واقعے پر ندا کے پروگرام کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس حوالے سے ندا نے اعتراف کیا کہ ان سے غلطی ہوئی تھی۔ ’یہ جو بچی والا معاملہ تھا، اس میں میری غلطی تھی، مجھے اس وقت بہت سوال نہیں کرنے چاہیے تھے، انہیں کریدنا نہیں چاہیے تھا، میں اس وقت بھول گئی تھی کہ میں ایک شو میزبان ہو، میں اس وقت ایک ماں بن گئی تھی۔‘ ’وہ مجھے بتا رہے تھے اور میں بطور ایک ماں یہ بتانا اور سمجھانا چاہتی تھی کہ ہم مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ میں بھول گئی تھی کہ میرے ساتھ اتنے سارے کیمرے ہیں اور میں پوچھے جا رہی تھی، اس وقت میں ایک ماں بن گئی تھی۔‘ ندا کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کے بچوں نے انہیں کہا کہ وہ یہ سب چھوڑ دیں لیکن ندا کہتی ہیں کہ اچھے برے وقت آتے رہتے ہیں، لوگ تنقید کرتے ہیں تو بہت سے لوگ اتنا پیار بھی کرتے ہیں۔
ندا نے کہا کہ میں جو بھی کرتی ہوں، دل سے کرتی ہو، میں اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی لیتی ہوں اور انہیں ٹھیک بھی کرتی ہوں۔ اگر کوئی اچھا کام ہوا تو میرا کریڈٹ ہے اور اگر کہیں کچھ خراب ہوا تو بھی میری غلطی ہے۔
ندا یاسر نے یہ بھی کہا کہ عام زندگی میں کوئی غلطی ہو تو معافی مانگ کر انسان آگے بڑھ جاتا ہے لیکن بطور مارننگ شو میزبان بعض اوقات ان چیزوں کا بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب میری ساس کا انتقال ہوا تو میرے پروڈیوسر نے کوئی پرانا پروگرام نکال کر چلا دیا۔ تب ہم سب لوگ کہیں بیرون ملک سے گھوم کر آئے تھے اور اس پروگرام میں اپنی اپنی شاپنگ دکھا رہے تھے۔ اس پروگرام کا فارمیٹ یہ تھا کہ جب سب دوستیں ملتی ہیں تو اپنی شاپنگ دکھاتی ہیں کہ یہ میں نے کپڑے دھونے کا بلیچ لیا ہے، یہ میں نے سیل سے اٹھایا وغیرہ وغیرہ۔ اس شو پر تو جو تنقید ہوئی لیکن کسی نے وہ شو میرے شوہر کو بھیجا کہ دیکھیں آپ کی والدہ کا انتقال ہوا ہے اور ندا ٹی وی پر اپنی شاپنگ دکھا رہی ہے۔ انہوں نے وہ مجھے دکھایا تو میں نے انہیں بتایا کہ یہ پچھلے سال کا شو ہے۔ دیکھو تو سہی کتنی پھپے کٹنیاں ہیں لوگ۔
ایک اور سوال کے جواب میں ندا نے کہا کہ وہ انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ انفوٹینمنٹ بھی فراہم کرتی ہیں اور جو کوئی بھی کچھ بھی دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے وہ فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جو لوگ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے، جس بارے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی خبر دیکھی ہوتی ہے، میں اس شخصیت کو لا کر اپنے شو پر بیٹھا دیتی ہوں، یہ تو میرا کام ہے۔ اپنے کام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ندا نے کہا کہ وہ اپنے شو کےلیے بہت محنت کرتی ہیں اور ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’اگر میرے گھر میں کام کرنے والی ملازمہ ہوگی تو میں اس کے ساتھ اس کی طرح کی گپیں ماروں گی جس طرح میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر آپ کے مزاج کے مطابق باتیں کر رہی ہوں۔ میری گھریلو ملازمہ میری کمپنی سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور جس طرح کے بھی لوگ ہوں مجھے لوگوں سے بات کرنے میں مزا آتا ہے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ عام زندگی میں کوئی مجھ سے اردو میں تو کوئی مجھ سے پنجابی میں بات کر رہا ہوتا ہے تو میں اس ہی کی طرح کا لہجہ بنا کر اس سے بات کر رہی ہوتی ہوں۔
ندا کہتی ہیں کہ وہ بہت باتونی تھیں۔ ’مجھے بہت باتیں کرنے کا شوق تھا اور مجھے میرا کام بھی ویسا ہی مل گیا۔‘ سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ندا نے کہا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا رویہ منفی ہوتا ہے۔ چند لوگ بس ایسے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ایک تصویر آنے دیں اس کی کھال کھینچتے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو بہت عزت اور پیار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا اچھا ہے! میں تمام طرح کے اچھے برے پیغامات پڑھتی ہو۔ کبھی ایسے پیغامات ہوتے ہیں کہ آنٹی لگ رہی ہو، ایسی لگ رہی ہو ویسی لگ رہی ہو۔ ایسے پیغامات میں برداشت کر جاتی ہوں لیکن اگر کردار پر بات کی جائے یا گالی دی جائے تو بہت دکھ ہوتا ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ندا یاسر کے ایک لباس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں انہوں نے ترکی کے مشہور ڈرامے ارطغرل کی مرکزی کردار حلیمہ سلطان جیسا حلیہ بنا رکھا تھا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ندا نے کہا کہ ’سچ بتاؤں تو وہ ماہین خان کے ڈیزائن کردہ کپڑے تھے اور انہوں نے مجھے کہا یہ بھی پہن لو اور میں انہیں فیشن گرو مانتی ہوں۔ اگر میں خود سے کرتی تو وہ نہ پہنتی، حالانکہ میں نے ارطغرل ڈرامے کو پورا فالو کیا تھا۔ میں ارطغرل اور حلیمہ دونوں کی مداح ہوں، اس وقت رمضان تھا تو میں نے سوچا کیوں نہ اچھے سے تیار ہو کر منایا جائے۔ میں نے وہ لباس پہننا اور سب نے مجھے کہہ دیا چائنہ کی حلیمہ۔‘
ندا نے نے مزید کہا کہ ’میں نے تھوڑی کہا کہ حلیمہ سے میری شکل ملتی ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button