نواز شریف پر قتل کے الزام کی سازش میں فوجی افسر ملوث نکلا

معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف پر عمران خان اور ارشد شریف کے قتل کی سازش تیار کرنے کا بھونڈا الزام لگانے والے لندن کے رہائشی سید تسنیم حیدر کی پریس کانفرنس کا اہتمام ایک مقامی بزنس مین لیاقت ملک نے کیا تھا جو آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل عرفان ملک کے سمدھی نکلے ہیں۔ تسنیم حیدر کو عمران خان اور ارشد شریف کے قتل کی سازش کے بارے میں بھی لیاقت ملک نے ہی بتایا تھا۔ یہ وہی عرفان ملک ہیں جنہوں نے بطور ڈی جی "سی” مریم نواز کو "سمیش” کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یاد رہے کہ 2021 کے اوائل میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ عرفان ملک نے مریم کو ایک پیغام بھیجا تھا کہ وہ انہیں ‘سمیش’ کر دیں گے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملے کی سازش کا الزام نواز شریف پر عائد کرنے والے لندن کے رہائشی تسنیم حیدر نے تسلیم کیا ہے کہ 29 اکتوبر 2022 کو لندن میں مقیم بزنس میں ملک لیاقت نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ عمران پر حملہ کیا جائے گا۔ لندن میں گفتگو کرتے ہوئے لیاقت ملک نے سابق ڈی جی "سی” سے اپنے تعلق کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ میجر جنرل عرفان ملک کے سمدھی ہیں۔ لیاقت نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف کی جانب سے مریم کو سمیش کرنے کے الزام کے بعد انہوں نے عرفان ملک کے ایما پر شریف خاندان سے لندن میں رابطہ کرکے پیغام دیا تھا کہ ڈی جی "سی” کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ ڈی جی "سی” آئی ایس آئی کا سیاسی ونگ بھی کنٹرول کرتا ہے۔
دوسری جانب نواز شریف پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کا الزام عائد کرنے والے تسنیم حیدر نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں ملنے والی اطلاعات کی تصدیق لیاقت ملک نے کی تھی جو کہ عرفان ملک کے رشتے دار ہیں۔ لندن میں نون لیگی حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ عرفان ملک نے ارشد شریف کے قتل اور اس میں ملوث کراچی کنگز کے سی ای او طارق وصی، خرم احمد، وقار احمد اور سلمان اقبال سے توجہ ہٹانے کے لیے لیاقت کے ذریعے تسنیم حیدر سے ایک بھونڈی پریس کانفرنس کروائی۔ بتایا جاتا ہے کہ اے آر وائے کے مالک سلمان اقبال اور انکے ملازم طارق وصی ان دنوں لندن میں موجود ہیں۔ یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھی ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام پر سلمان اقبال سے بھی تفتیش کرنا ضروری ہے۔ بعد ازاں حکومت پاکستان کی تشکیل کردہ دو رکنی تحقیقاتی ٹیم سلمان اقبال سے تفتیش کرنے دبئی گئی تو وہ لندن روانہ ہوگئے۔
یاد رہے کہ مریم نواز کو سمیش کرنے کی دھمکی دینے والے میجر جنرل عرفان ملک کو ہٹا کر ان کی جگہ میجر جنرل کاشف نذیر کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔ لیکن اب کاشف نذیر کی جگہ میجر جنرل عاصم نصیر ڈی جی کاونٹر انٹیلی جنس لگ چکے ہیں جنہیں عمران خان ڈرٹی ہیری کے نام سے پکارتے ہیں۔ جہاں تک عرفان احمد ملک کا تعلق ہے تو اکتوبر 2022 میں پاکستان آرمی کے پروموشن بورڈ نے انہیں میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل بنانے کی منظوری نہیں دی تھی۔ تب 12 میجر جنرلز کو ترقی دی گئی جبکہ میجر جنرل عرفان احمد ملک کو ترقی نہ دے کر سُپر سِیڈ کر دیا گیا تھا۔ آرمی میں جب کسی جونیئر افسر کو ترقی دی جاتی ہے تو سینئر آفسر سُپر سیڈ ہو جاتا ہے، پھر اس افسر کو ترقی نہیں ملتی اور وہ اسی پوزیشن میں ریٹائر ہوتا ہے۔ فوج میں ترقی کا فیصلہ سالانہ کارکردگی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
تاہم کہا جاتا ہے کہ مریم نواز کو سمیش کرنے کی دھمکی میجر جنرل عرفان احمد ملک کا کیریئر لے ڈوبی۔ خیال رہے کہ اس دھمکی کا انکشاف کرتے ہوئے نواز شریف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان کے جمہوری نظام اور اخلاقیات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے آپ اس حد تک گر چکے ہیں کہ پہلے آپ نے کراچی میں چادر اور چار دیواری کو پامال کیا، رات کے وقت مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا اور اب مریم کو دھمکی دے رہے ہو کہ اگر وہ باز نہ آئیں تو انہیں سمیش کر دیا جائے گا۔ نواز شریف نے کہا کہ مریم جس جرات اور ایمان کے ساتھ عوام کے حق کے حکمرانی اور ووٹ کو عزت دو کی جنگ لڑ رہی ہیں ان شاء اللہ ان کی حفاظت اللہ کرے گا۔ میں خدائی لہجے میں دھمکیاں دینے والوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی مذموم حرکت کی تو اس کے ذمہ دار عمران خان کے علاوہ جنرل قمر باجوہ، جنرل فیض حمید اور جنرل عرفان ملک ہوں گے۔ میاں صاحب نے کہا کہ جو کچھ آپ نے کیا ہے اور کرتے جا رہے ہیں یہ سنگین جرم ہے اس کا آپ کو بہت جلد حساب دینا پڑے گا۔
