کیا عمران خان اپنے تمام خفیہ کارڈز استعمال کر چکے؟

عمران خان کی جانب سے 26 نومبر کو راولپنڈی میں فیض آباد چوک پہنچنے کی کال کے باوجود ابھی تک یوتھیوں کی جانب سے وہ روایتی گہما گہمی نظر نہیں آرہی ہے جو کہ ماضی میں دکھائی دیتی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے تمام کارڈز کھیل چکے ہیں اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد اب ایسا کوئی ایشو باقی نہیں بچا جس کی بنیاد پر عمران خان اپنے ورکرز کو امید دے سکیں۔ جہاں تک نئے فوری الیکشن کے مطالبے کا تعلق ہے تو ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا، اسکے علاوہ بھی یوتھیے اپنے کپتان کے پنڈی پہنچنے کے حوالے سے ابھی تک بے یقینی کا شکار ہیں۔
اس برس اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد سے عمران خان مسلسل نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں لیکن ان کا کوئی بھی مطالبہ تسلیم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ 26 نومبر کو راولپنڈی میں دھرنے کی کال دینے کے بعد سے عمران یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ آرمی چیف کی تعیناتی کو ایشو بنالیں گے۔ لیکن حکومت کی جانب سے دو سینئر ترین جرنیلوں کو دونوں اہم ترین عہدے دیئے جانے کے بعد ان کا یہ منصوبہ خاک میں مل گیا۔ 24 نومبر کو آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں عمران کی پارٹی نے ایک اعلامیے کے ذریعے کہا کہ ’پی ٹی آئی فوج کی نئی قیادت سے امید کرتی ہے کہ وہ ملک میں آئینی حقوق کی بحالی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔‘ دوسری جانب ایک انٹرویو میں عمران کا کہنا تھا کہ ’فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نئی شروعات کرنی ہے تو ان لوگوں کو فارغ کرے جنھوں نے ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے۔
لیکن اس سے پہلے کی تقاریر میں خود پی ٹی آئی سربراہ کا آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں بالکل مختلف ردعمل رہا اور کچھ عرصے میں عمران اپنے پہلے دیے گئے بیانات سے پیچھے ہٹتے ہوئے نظر آئے۔مثال کے طور پر لانگ مارچ کے بارے میں انھوں نے مختلف بیانات میں کہا ہے کہ یہ ’فیصلہ کُن مارچ ہے‘ اور یہ بھی کہ مارچ اسلام آباد ضرور پہنچے گا لیکن اس کے بعد سے لے کر اب تک لانگ مارچ کی تین مختلف تاریخیں بتائی گئیں۔ اسلام آباد پہنچنے میں تاخیر اور تاریخوں میں تبدیلی عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے سے پہلے رونما ہوئیں۔ امریکہ کی طرف سے مبینہ سازش کر کے انھیں حکومت سے نکالنے کے بارے میں بارہا دعوے کرنے کے بعد عمران خان نے حالیہ بیان میں کہا کہ ان کے لیے وہ ’باب اب ختم ہو چکا ہے۔‘
ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیاعمران خان اپنے تمام سیاسی پتے کھیل چکے ہیں اور اب ان کے پاس بیچنے کے لیے کوئی چورن باقی نہیں بچا؟ تجزیہ کار نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ یہ عمران خان کی آخری لڑائی تو نہیں ہے۔ ’جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سیاست میں کوئی آخری لڑائی نہیں ہوتی۔‘ انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ کو شروع کرنا ’سیاسی طور پر ان کا سب سے بڑا قدم ہے۔‘ حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ ’لانگ مارچ اس طرح آگے بڑھا نہیں جیسا انھوں نے سوچا تھا لیکن 26 نومبر کو جتنا بڑا مجمع ہو گا اتنی ہی ان کی خود اعتمادی بڑھے گی۔‘ نسیم زہرہ نے کہا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنایا لیکن آرمی چیف پھر بھی تعینات ہو گئے، صدر علوی نے دستخط بھی کر دیے کیونکہ وہ آئینی طور پر مزید کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں عمران خان کیا کرتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت اور فوج عمران کے مطالبات نہیں مانتے تب ان کا ایکشن پلان کیا ہو گا؟ بقول نسیم زہرہ، یہ فیصلہ پنڈی کا جلسہ طے کرے گا کہ عمران کے پاس مزید کتنے اور کون سے سیاسی آپشنز موجود ہیں۔ اگر انہوں نے کامیابی سے طاقت کا مظاہرہ کر دیا تو ان کی سیاست اور آگے بڑھے گی ورنہ جمود کا شکار ہو جائے گی۔
