نواز شریف کا چوتھی بار وزیر اعظم بننا یقینی کیوں ہے؟

آپ انصافیے ہیں، جیالے، متوالے، پٹواری یا پھر نیوٹرل۔ ایک بات تو ماننا پڑیگی کہ میاں نواز شریف قسمت کے دھنی اور مقدر کے سکندر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے زیرک سیاستدان کے ستارے گردش میں آئے تو وہ موت کے منہ سے نہ بچ پائے مگر میاں نوازشریف بار بار موت کو جُل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر1993ء میں صدر غلام اسحاق خان سے اَن بن کے بعد سب کا خیال تھا کہ ’’ڈکٹیشن نہیں لونگا‘‘ والی تقریر کرکے نوازشریف نے سیاسی خودکشی کرلی ہے مگر سپریم کورٹ نے انکی حکومت بحال کر دی۔ اگرچہ کاکڑ فارمولے کے تحت صدر اور وزیراعظم دونوں کو گھر جانا پڑا۔ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور بینظیر بھٹو وزیراعظم بننے میں کامیاب رہیں مگر پھر چند سال بعد ہی میاں نواز شریف ہیوی مینڈیٹ لیکردوسری بار وزیراعظم بن گئے۔

ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی بلال غوری نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے بلاول غوری کا مزید کہنا ہے کہ حقیقت پسندی سے کام لینے کے بجائے نوازشریف نے ایک بار پھر خود کو وزیراعظم سمجھنا شروع کر دیا۔پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل منصور الحق کو کرپشن کے الزامات پر ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ہیوی مینڈیٹ کو عدالت کے ہتھوڑے سے کچلنے کی کوشش کی مگرنہ صرف انہیں گھر جانا پڑا بلکہ ان کی سرپرستی فرمانے والے صدر فاروق لغاری بھی استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے۔آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز دی تو وزیراعظم نوازشریف نے نتائج کی پروا کئے بغیر انہیں گھر بھیج دیا۔

بلال غوری کے مطابق اس قدر بااختیار سربراہِ حکومت گوارہ نہیں تھا اس لئے نوازشریف کے دماغ سے سویلین بالادستی کا خناس نکالنے کیلئے جنرل پرویز مشرف جیسے معالج کی خدمات حاصل کی گئیں۔نواز شریف کو وزیراعظم ہائوس سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔طیارہ ہائی جیکنگ کا مقدمہ ہوا، عمر قید کی سزا ہوئی۔ فوجی حکمران کا منصوبہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکے عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کروایا جائے گا لیکن ایک دن اچانک سعودی عرب سے شاہی جہاز آیا اور شریف خاندان کو موت کے منہ سے بچا کرجدہ کے سرور پیلس لے گیا۔ جلاوطن تو اس نیت سے کیا گیا کہ اب یہ کہانی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیگی لیکن کہانی نے ایک نیا موڑ لے لیا اور نواز شریف نے پاکستان واپس آنے کا ارادہ کرلیا۔ 10 ستمبر 2007ء کو جہاز اسلام آباد ایئرپورٹ اترا تو نواز شریف کو زبردستی جدہ واپس بھیج دیا گیا کہ انکی واپسی سے نظام تلپٹ ہونے کا اندیشہ تھا۔ جنرل پرویز مشرف نہایت متکبرانہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی۔لیکن18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو پاکستان واپس آگئیں تو نواز شریف کو بھی وطن واپسی کی اجازت دینا پڑی۔ 25نومبر 2007ء کو نواز شریف پاکستان واپس آئے اور اگلے برس ہی پرویز مشرف کو رخصت ہونا پڑا۔ بلال غوری کا مزید کہنا ہے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بننے میں کامیاب ہونگے لیکن یہ انہونی ہوکر رہی۔

تیسری بار وزیراعظم بننے پر توقع تو یہ تھی کہ اب ان کادماغ درست ہو چکا ہوگا مگر’ ڈھاک کے وہی تین پات۔‘ جنرل اشفاق کیانی کو مدت ملازمت میں توسیع دینے سے انکار کیا پھرجنرل راحیل شریف کو انکار کرکے گستاخی کے مرتکب ہوئے۔ لہٰذا پانامہ کے ہنگام انہیں ایوان اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔ یوںایک بار پھر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی دہائی دیتے نظر آئے۔ احتساب عدالت سے سزا ہوگئی۔لندن گئے توبیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ اب لوٹ کر نہیں آئیں گے مگر اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی مریم نواز کے ہمراہ گرفتاری دینے واپس آگئے۔ بلال غوری کا مزید کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خلاف تھی ،عدالتیں ہائبرڈ رجیم کے مکمل کنٹرول میں تھیں ،صحافیوں پر بدترین سنسرشپ لاگو تھی،عمران خان جیسا سیاسی مخالف برسراقتدار تھا،جبر کے اس ماحول میں صاف نظر آرہا تھا کہ اب ان کی بقیہ زندگی جیل میں بسر ہوگی۔لیکن میاں نوازشریف دیکھتے ہی دیکھتے اڑن چھو ہوگئے۔

لندن جانے کے بعد باجوہ ڈاکٹرائن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔بتایا جارہا تھا کہ اب نقش کہن مٹ چکا۔پروجیکٹ عمران کے تحت تحریک انصاف اگلے انتخابات میں دو تہائی اکثریت لیکر حکومت میں آئیگی اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ(ن) اورپیپلز پارٹی کا کردار یکسر ختم ہوجائے گا۔جنرل باجوہ کے بعد افواج پاکستان کی قیادت سنبھالنے والے سپہ سالاروں کے نام بھی فائنل ہوچکے تھے ۔مگر پھر کیا ہوا؟سب بندوبست دھرے کا دھرا رہ گیا۔نشان عبرت بنانے کا دعویٰ کرنے والے خود گرد راہ ہوگئے ۔

بلال غوری کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ جنہوں نے نوازشریف کو نااہل کروایا تھا ،اب وہی ملتمس ہیں کہ پاکستان واپس آئیں اور ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکالیں ۔دبئی میں ہورہے مذاکرات میں محض آصف زرداری اور شہباز شریف سمیت سیاسی قیادت ہی شریک نہیں بلکہ دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی بات چیت کے عمل میں شریک ہیں ۔عام انتخابات کی تاریخ کا تعین ،نگران وزیراعظم کاتقرر اور پیپلزپارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کا فارمولا طے کرنا تو معمول کی بات ہے۔

اس سے ہٹ کر کئی غیر معمولی فیصلے کئے جا رہے ہیں ۔الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل قائم مقام صدر کے دستخط ہوجانے کے بعد قانون بن چکا ہے یعنی میاں نوازشریف جنہیں 28جولائی 2017ء کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا ،ان کی نااہلی کی مدت گزشتہ برس ختم ہوچکی۔احتساب عدالت نے انہیں جس ریفرنس میں سزا دی تھی ،اس مقدمے میں مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کو باعزت بری کیا جا چکاہے اور اس حوالے سے اسلام آبا د ہائیکورٹ نے جو فیصلہ تحریر کیا تھا اسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ نوازشریف کی بریت نوشتہ دیوار ہے، محض عدالت میں پیش ہونے کی دیر ہے۔گویا نہ صرف نواز شریف پاکستان واپس آرہے ہیں بلکہ وہ چوتھی بار وزیراعظم بن کر ملکی تاریخ کا ایک منفرد ریکارڈ قائم کرنے جارہے ہیں ۔اب ایسے شخص کو قسمت کا دھنی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔

Back to top button