نواز شریف کی جائیداد کی نیلامی کا عمل شروع

احتساب عدالت کے حکم پر شیخوپورہ کے علاقے فیروز وٹواں میں واقع سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زمین کی نیلامی کا عمل شروع ہوگیا،
نیلامی کا یہ عمل آج جمعرات کو ضلعی انتظامیہ کروا رہی ہے۔ خیال رہے کہ اسلام آباد کی کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کی جائیداد کی نیلامی کا حکم جاری کیا تھا۔ اسی مقدمے میں پہلے انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا، بعد ازاں جائیداد نیلامی کے احکامات جاری کیے گئے۔ احتساب عدالت نے شیخوپورہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے منسوب 88 کنال اراضی کو نیلام کرنے کا حکم دیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے ایک ایکڑ کی کم از کم قیمت 70 لاکھ روپے مقرر کی ہے۔ نیلامی میں شامل ہونے کےلیے 10 لاکھ روپے کا بینک ڈپازٹ کروانے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک صرف ایک شہری نے اس نیلامی میں شامل ہونے کےلیے بینک ڈپازٹ جمع کروایا ہے۔ قواعد کے مطابق اگر تین سے کم افراد نیلامی میں شریک ہوئے تو نیلامی کا عمل منسوخ تصور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس جائیداد کی نیلامی کا عمل رکوانے کےلیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد ہو گئی تھیں۔ جب کہ دوسری جانب جائیداد کی خریداری کا دعویدار ایک شہری محمد اشرف بھی سامنے آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ یہ زمین پہلے ہی خرید چکا ہے اور اس کے نام منتقلی کا عمل ابھی جاری ہے اور اس کے کیس بھی سول عدالت میں زیر التوا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے عدالتی حکم پر ان 11 ایکڑ کی کم از کم قیمت سات کروڑ 70 لاکھ مقرر کرکے نیلامی کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ اس نیلامی کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ نواز شریف کی جائیداد کی نیلامی کی درخواست نیب نے احتساب عدالت میں جمع کروائی تھی۔ جسے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قبول کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جائیداد نیلام کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت نے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین کو 30 روز کے اندر نوازشریف کے مختلف کمپنیز کے شئیرز کو نیلام کرکے قومی خزانے میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ ان کمپنیریز میں محمد بخش ٹیکسٹائل ملز، حدیبیہ پیپر ملز، حدیبیہ انجینئرنگ اور اتفاق ملز لمیٹڈ کے شئیر نیلام کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ڈپٹی کمنشر لاہور اور شیخوپورہ کو ان کی حدود میں نوازشریف کے نام پر منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی کی رپورٹ 60 روز میں طلب کی ہے۔ ان جائیدادوں میں 135 اپر مال لاہور کی مکمل نیلامی، موضع مانک لاہور میں 963 کنال، زرعی زمین 96 کینال کے علاوہ تمام اراضی نیلام کرنے کے احکمات جاری کیے ہیں۔ 96 کینال کی اراضی پر امرود کے باغات پر شہری کی جانب سے اعتراض دائر کیا گیا ہے۔ لاہور میں موضع بدوکسانی 275 کنال زرعی اراضی نیلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح شیخوپورہ میں موضع فیروز وطن میں 88 کنال زرعی زمین نیلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے اسلام آباد اور لاہور کی محکمہ ایکسائز کو نواز شریف کے نام پر ایک ٹویوٹا لینڈکروزر، دو مرسیڈیز اور دو ٹریکٹرز پولیس کی مدد سے تحویل میں لے کر 60 روز کے اندر نیلام کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے نوازشریف کی پاکستان میں مختلف بینکوں میں آٹھ اکاونٹس میں رقم کو بھی 30 روز کے اندر قومی خزانے میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان آٹھ اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر نو لاکھ 29 ہزار 895 روپے موجود ہیں۔
