بیرون ملک قیام میں توسیع، نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس طلب

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سزا معطلی اور بیرون ملک قیام کی مدت میں اضافے کے معاملے پر تشکیل دئیے گئے میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی درخواست کے ساتھ منسلک میڈیکل رپورٹس کو پرانا قرار دیتے ہوئے نئی رپورٹس مانگ لی ہیں۔
محکمہ صحت کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ کا نوازشریف کی 2 جنوری تک کی میڈیکل رپورٹس کا تقاجا کرتے ہوئے کہنا ہے کہ نئی رپورٹس کی فراہمی پر ہی نواز شریف کی طبی رپورٹ جاری کر سکتے ہیں۔ درخواست کے ساتھ منسلک پرانی رپورٹس سے ان کی موجودہ حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ نے اس حوالے سے اپنی سفارشات پر مبنی مراسلہ محکمہ داخلہ کو ارسال کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی سفارشات موصول ہونے کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب شریف فیملی کو تازہ میڈیکل رپورٹس کی فراہمی کے حوالے سے مراسلہ ارسال کرے گا۔
یاد رہے کہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پنجاب حکومت کو گزشتہ ہفتے نوازشریف کے بیرون ملک قیام میں توسیع کی درخواست دی تھی جس پرحکومت پنجاب نے میاں نواز شریف کی سزا معطلی اور بیرون ملک قیام کی مدت میں اضافے کے معاملے پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے بورڈ کے ممبران میں 5 سینئر پروفیسرز شامل ہیں۔ میڈیکل بورڈ کی سربراہی پروفیسر محمود ایاز کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے میڈیکل بورڈ کو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لے کر 3 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزرا کی جانب سے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے جس پر جائزہ لینے کے لئے بورڈ بنایا گیا تھا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا تھا کہ نوازشریف کی ضمانت میں توسیع سے متعلق وکیل خواجہ حارث کی درخواست پنجاب حکومت کو موصول ہوگئی ہے، نوازشریف کی درخواست پر غور کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ 24 دسمبر کو نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب کو درخواست جمع کروائی گئی تھی، جس میں موقف اپنا گیا کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج جاری ہے، بیماری کے باعث وطن واپس نہیں آسکتے۔مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس بھی درخواست کے ساتھ لگائی گئی تھیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تا حیات قائد نوازشریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کے لیے ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ضمانت کے عوض 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
