نوبل انعام یافتہ سائنسدان عبدالسلام کی تصویر کیوں کالی کی گئی؟


مسئلہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے تناظر میں آئین پاکستان میں غیر مسلم قرار دیئے جانے والے قادیانی گروہ سے تعلق رکھنے واحد نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر اسلام پسند طلبہ کے ایک گروہ کی جانب سے سیاہی ملنے کے واقعہ نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک سائنسدان کا مذہبی عقیدہ اس کی سائنسی قابلیت اور خدمات سے ذیادہ اہم کیوں ہے جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔
حال ہی میں گوجرانوالہ کے ایک کالج کے باہر آویزاں متعدد مشہور شخصیات کی تصاویر کے ساتھ موجود 25 سال قبل وفات پا جانے والے سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر چند نوجوانوں کی جانب سے کالک ملنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کے بارے میں ردعمل سامنے آیا۔ یہ واقعہ گوجرانوالہ کے نیشنل سائنس کالج کے باہر رونما ہوا اور اس ویڈیو میں دیکھے جانے والے نوجوانوں کا تعلق سٹیٹ یوتھ پارلمینٹ نامی تنظیم سے ہے۔ خیال رہے کہ اس روز ڈاکٹر عبداسلام کو نوبیل انعام ملنے کی 41ویں سالگرہ بھی تھی۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے صارفین کی آرا منقسم نظر آتی ہے۔ جہاں اسلام پسند اسے مستحسن عمل قرار دے رہے ہیں وہیں سیکولر حلقوں کی جانب سے اس فعل کی مذمت بھی کی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ پچیس برس قبل گزر جانے والے سائنسدان کی تصویر کے ساتھ کیا ایسا سلوک کرنا مناسب ہے۔
اس واقعے کے بعد یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ دورِ حاضر کے نوجوانوں کے ذہن میں ڈاکٹر عبدالسلام اور ان کے مذہبی رجحان سے متعلق منفی جذبات کی بنیاد کیا ہے۔ عبدالسلام کی تصویر پر سیاہی پھینکے والی تنظیم کے سربراہ شہیر سیالوی کہتے ہیں کہ انھیں گوجرانوالہ سے ان کی تنظیم کے کچھ نوجوانوں نے بتایا کہ شہر میں ایک کالج کے باہر جہاں ٹیپو سلطان اور علامہ اقبال کی تصاویر لگی ہے جس پر مسلمانوں کو اعتراض ہے۔ شہیر سیالوی کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے کیا گیا کہ عوام کو دکھایا جائے کہ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان مخالف تھے اور انھوں نے پاکستان کے آئین اور اس کے جوہری پروگرام کے خلاف بھی بات کی تھی۔ تاہم جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ایسا انہوں نے کب اور کہاں کہا اور کیا ڈاکٹر عبدالسلام کو کسی عدالت کی جانب سے مجرم یا غدار قرار دیا گیا تو ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
تاہم بتایا گیا ہے کہ گوجرانوالہ کالج کے آس پاس کے اہل علاقہ کو اس سائنسدان کی تصویر پر شدید اعتراض تھا کیونکہ انکا موقف تھا کہ شرعی اعتبار سے عبدالسلام مرتد تھے اور آئین پاکستان میں بھی انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے کیونکہ قادیانیوں نے دین اسلام میں نقب لگانے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام 1960 سے 1974 تک حکومتِ پاکستان کے سائنس کے مشیر بھی رہے تھے۔ سپارکو اور پاکستان اٹامک انرجی کمشین جیسے ادارہ کے قیام میں بھی انھوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ لیکن 1974 میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور حالات غیر ساز گار ہوئے تو وہ ملک سے باہر چلے گئے۔ تب بھی حکومتی اداروں کےسربراہ ان سے رہنمائی لینے کے لندن اور اٹلی جاتے تھے۔ پھر 1980 میں ضیا دور میں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے ریاستی اعزاز نشان پاکستان سے نوازا۔ لندن میں مقیم ڈاکٹر عبدالسلام کے بیٹے احد سلام کے مطابق ان کے والد کو قادیانی ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا تو پڑ گیا لیکن وہ مرتے دم تک پاکستانی شہری ہی رہے۔ انھیں برطانیہ اٹلی اور یہاں تک کہ انڈیا نے اپنی شہریت دینے کی پیشکش کی لیکن انھوں نے آخر وقت تک پاکستانی پاسپورٹ نہیں چھوڑا۔
جب معروف مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی سے ڈاکٹر عبدالسلام پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کہا میری تحقیق کے مطابق ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کے حامی تھے اور سائنسدان کی حیثیت سے سیاست سے بہت دور رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے نے بغیر ثبوتوں کے ڈاکٹر عبدالسلام کو غدار قرار دے رکھا ہے۔ مخالفین کا کسی کو غدار کہنے کا مقصد صرف اس شخص کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایک عام سی بات ہے، اس کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ڈاکٹر مبارک کے مطابق یہ سب مذہبی جذبات کی وجہ سے ہے ورنہ سائنس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ کہتے ہیں دنیا بھر میں جب سائنسدان اپنے شعبوں میں کام کرتے ہیں تو وہ ایسا اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی سائنسی قابلیت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ہمارے ہاں چونکہ مذہب کا عنصر ہر شعبے میں داخل ہو گیا ہے تو اس لیے ہم ایک سائنسدان کا مذہبی عقیدہ دیکھتے ہیں لیکن اس کی سائنسی قابلیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر پرویز ھود بھائی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک سائنسی شخصیت تھے لیکن نوجوانوں کو اس حوالے سے علم نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس حوالے سے مذہبی جذبات غالب آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں کے ایک گروپ نے پروفیسر عبد السلام کے پوسٹر پر سیاہ رنگ چھڑکا اور فخریہ انداز میں اس کی ویڈیو بھی بنائی حالانکہ میرے خیال میں کسی بھی شخص کی سائنسی قابلیت کو اسکے عقائد کے معاملات سے نہیں ماپا جانا چاہیئے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے بتایا کہ جنرل ایوب خان نے عبد السلام کے مرتد ہونے کی کوئی پرواہ نہیں کی اور انہیں اپنا سائنسی مشیر مقرر کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اسی طرح کیا۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیتے ہوئے قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات ڈاکٹر عاطف میاں کا کہنا تھا کہ کاش ڈاکٹر سلام کی تصویر پر سیاہی ملنے والوں کو یہ معلوم ہوتا کہ عبدالسلام ان سے کتنا پیار کرتے تھے اور ان سے کتنی محبت کرتے تھے اور انھوں نے کیسے اپنی زندگی ان کی فلاح کے لیے صرف کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button