وکلا کے ہاتھوں ہراساں ہونے والی خاتون جج کیا کرنے والی ہے؟


وکلاء کے ہاتھوں ہراساں ہونے والی ایک خاتون جج نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو ایک خط میں لکھا ہے کہ میں سوچ رہی ہوں کہ اپنی تمام تعلیمی اسناد ایک، ایک کرکے لاہور ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے سامنے جلا دوں تاکہ 23 کروڑ کی آبادی میں سے کوئی لڑکی آگے آنے اور عدلیہ میں شامل ہونے کی دوبارہ جرات نہ کرے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس معزز اور پر وقارپیشے کی اب کوئی عزت، اور تقدس نہیں رہا۔
ضلع فتح جنگ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جج نے وکلا کے ہاتھوں ہراساں ہونے کے بعد چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی توجہ ماتحت عدلیہ میں وکلا کی جانب سے جوڈیشل افسران کو ہراساں کیے جانے کی طرف مبذول کروائی ہے۔ یاد رہے کہ خط لکھنے والی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج فتح جنگ ڈاکٹر ساجدہ احمد چوہدری نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور وہ 22 فروری 2000 سے بطور سول جج خدمات انجام دے رہی ہیں، انہوں نے اپنے خط میں افسوس کا اظہار کیا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ وہ عدالت میں بطور خاتون جج نام نہاد وکلا کی جانب سے بدتمیزی اور غیرمہذب الفاظ کا سامنا کریں گی تو وہ اپنی زندگی کے 25 سال اعلیٰ تعلیم کے حصول پر ضائع نہیں کرتیں اور دیگر پاکستانی لڑکیوں کی طرح 20 سال کی عمر میں شادی کرلیتیں۔
انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’اپنی جوانی کے سنہری دور کے تقریباً 21 سال جوڈیشل سروس میں گزارنے کے بعد میں بہت زیادہ مایوس اور عدم اطمینان کا شکار ہوں‘۔ خاتون جج نے لکھا کہ اس طرح کی اچھی سی وی کے ساتھ وہ کسی بھی ملٹی نیشنل یا غیر ملک کا انتخاب کرسکتی ہیں لیکن انہوں نے عدلیہ کو چنا کیونکہ وہ ایک شہدا گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر ساجدہ احمد وہی جج ہیں جنہیں وکلا تحریک کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے 26 مارچ 2007 کو راولپنڈی بار سے پہلے خطاب میں شرکت کے لیے اہل خانہ سے کئی سو کلو میٹر دور بھکر میں تعینات کیا گیا تھا۔ مذکورہ جج نے اس خط کی نقول وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، صوبائی وزیر قانون، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی، نائب چیئرمین اور صوبائی بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کے صدور سمیت سینئر وکلا کو بھی ارسال کی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ چیف جسٹس پاکستان کی توجہ اس معاملے کی طرف مبذول کروائی گئی ہو، اس سے قبل 22 مئی 2018 کو لاہور کے دسٹرکٹ کورٹس سے تعلق رکھنے والے کچھ ججز اسی طرح کی ایک شکایت اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے سامنے لائے تھے اور خبردار کیا تھا کہ وکلا کے بدتمیزانہ رویے کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو پورا عدالتی نظام تباہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت لاہور کے ڈسٹرک اینڈ سیشن ججز نے جان بوجھ کر اردو میں ایک صفحے کی درخواست کو گمنام رکھا تھا اور چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی تھی کہ جلد از جلد سول عدالتوں کا دورہ کریں اور وہاں کی وہ حالت زار دیکھیں جس میں ماتحت عدلیہ کے ججز انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ساجدہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ اگر عدالتی اوقات میں وکلا کی جانب سے ججز سے بدتمیزی، انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ان کے وقار اور عزت کا تحفظ نہیں کیا جاسکا تو ڈسٹرکٹ ججز اپنی اضافی سہولیات جیسے کاریں، لیپ ٹاپ وغیرہ سرنڈر کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری عدالتوں میں جب مرد کے ساتھ ساتھ خاتون ججسز کو ہراساں کیا جاتا تو مجھے مایوسی کا احساس ہوتا کہ آیا میں اپنی تمام تعلیمی اسناد ایک، ایک کرکے لاہور ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے سامنے جلا دوں تاکہ 23 کروڑ آبادی میں سے کوئی لڑکی آگے آنے اور عدلیہ میں شامل ہونے کی جرات نہ کرے۔
خط میں کہا گیا کہ اس معزز اور وقار رکھنے والے پیشے کی عزت، وقار اور تقدس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ڈاکٹر ساجدہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وکلا کے دفاتر لاہور ہائیکورٹ کی حاصل کردہ زمین کے ٹکڑے پر بنے ہوئے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے وکلا کی آڑ میں بغیر کسی بلز کی ادائیگی کے بجلی، گیس اور دیگر ضروریات کا غلط استعمال کیا جاتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو ہائیکورٹ کی جانب سے آئی ٹی سے مکمل لیس سینٹرز کے ساتھ ساتھ نئے ڈیسک ٹاپز بھی فراہم کیے گئے اور غریب ٹیکس دہندگان کی سخت محنت کی کمائی سے لاکھوں روپے کی گرانٹ سے بھی نوازا گیا، تاہم بدلے میں وکلا جب پریزائڈنگ افسران کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو بے عزتی کرتے ہیں اور غریب سائلین اور اپنے ساتھیوں کی موجودگی میں ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے اور ہاتھا پائی بھی کرتے ہیں۔ جج کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ سے یہ استدعا کی گئی کہ اگر کالے کوٹ پہنے ایسے طاقت ور مافیا کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی تو کم از کم بار آفسز کو دی گئی سہولیات کو واپس لینا چاہیے۔ اپنے خط میں انہوں نے 8 اکتوبر کو پیش آئے اس واقعے کا بھی مختصر ذکر کیا جس میں انہیں لاہور بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button