نون لیگ کا مائنس عمران PTI سےدوستی بڑھانے کا فیصلہ؟

مسلم لیگ (ن) نےمائنس عمران خان پاکستان تحریک انصاف کی دستیاب قیادت سے رابطہ قائم کرنے اور تمام سیاسی جماعتوں میں وسیع اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق لیگی قیادت کی طرف سے انتخابات کے پرامن اور شفاف طریقے سے انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے سینیٹ میں قائد ایوان اور سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف سے ایم کیو ایم وفد خی ملاقات بھی اسی مفاہمتی سلسلے کی ایک کڑی ہےذرائع نے بتایا نواز شریف کی پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات بھی اگلے ہفتے کے اوائل میں طے کی جا رہی ہے جبکہ سابق صدر آصف زرداری سے بھی نواز شریف کی جلد ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ان پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ بھی مذاکرات کے حامی ہیں جنہوں نے 9 مئی کے قابل مذمت واقعات سمیت مذموم سرگرمیوں سے دوری اختیار کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی زیرصدارت پارٹی رہنماؤں کے2 گھنٹے سے زائد تک جاری رہنے والے اجلاس میں نواز شریف نے ملک میں عام انتخابات کا ماحول بنانے کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی۔اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعت سے رابطہ رکھنے اور انتخابی عمل و سیاسی بات چیت میں شامل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، نواز شریف کی ہدایت پر لیگی رہنما الیکشن ڈے کے رولز آف گیم پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ دوران اجلاس ملک میں سیاسی کشیدگی، معاشرے میں عدم برداشت اور نفرت انگیز سیاسی فضا کو ختم کرنے کی پارٹی رہنماؤں کی تجاویز پر غور و خوض کیا گیا، نواز شریف کی تجویز پر آل پارٹیز کانفرنس کی طرز پر تمام جماعتوں کی کانفرنس منعقد کرنے پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارمز پر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کو بطور اسٹیٹسمین کردار نبھانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کے سینئر ترین رہنما ہیں، ملک اور سیاست کو ان کی خدمات کی مزید ضرورت ہے۔اس موقع پر نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے لیے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو ٹاسک سونپے، نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے کی ذمہ داری سونپی، دیگر رہنماؤں میں رانا ثنااللہ، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق سمیت دیگر سینئر رہنما شامل ہیں۔لیگی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور استحکام پاکستان پارٹی کی قیادت سے رابطے کریں گے، اجلاس میں طے پایا کہ سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے بھی روابط بڑھائے جائیں گے جبکہ خیبرپختونخوا کی عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کیےجائیں گے۔
اس میٹنگ میں شریک ایک لیگی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اکثر پارٹی رہنماؤں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے آئندہ انتخابات کے حوالے سے بات چیت کے چینل کھولے جانے چاہییں۔ اس سے نہ صرف آئندہ انتخابی عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ سیاسی درجہ حرارت میں بھی کمی آئے گی۔‘انہوں نے کہا کہ ’یہ سب ہو گا کیسے اس حوالے سے ابھی روڈ میپ نہیں بنا۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف کی قیادت تو اس وقت نظر بھی نہیں آ رہی تو کس سے بات چیت کی جائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’یقینا جو دستیاب قیادت ہو گی اس سے ہی بات ہو گی۔ جو لوگ قانون کا سامنا کر رہے ہیں، ان سے بات یقیناً عدالتوں کے فیصلوں کے بعد ہی ہو گی۔ لیکن جو لوگ بھی باہر ہیں اور ان کے پاس بات کرنے کا مینڈیٹ ہے۔ ان سے بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نواز شریف اس بارے میں واضح ہیں کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے حامی ہیں۔‘
نواز شریف کی ہدایت پر لیگی رہنما تمام سیاسی جماعتوں سے الیکشن ڈے کے رولز آف گیم پر مشاورت کریں گے جبکہ 2018ء کے انتخابات کے دوران آر ٹی ایس بیٹھنے جیسے واقعات سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ تجاویز پر الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا جائے گا۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایسا انتخابی ماحول بنایا جائے گا جس میں کوئی جماعت دوسری جماعت پر ناجائز اعتراض نہ کرے، انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور کے مطابق ایک دوسرے پر تنقید ضرور کریں لیکن تہذیب اور اخلاق کا دامن نہ چھوڑا جائے۔
مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میاں صاحب نے اپنی مینار پاکستان والی تقریر میں واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ محاذ آرائی کی سیاست نہیں کریں گے۔ اگلے کچھ دنوں میں آپ کو ایسی خبریں ملیں گی کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔‘تحریک انصاف سے متعلق بات کرتے ہوئے البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بات کا دارومدار ہے جو لوگ تخریبی سیاست کا حصہ نہیں ہیں۔ ان سے بات کرنے میں کسی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن ایک بات میں مسلم لیگ ن واضح ہے کہ جیل میں بیٹھے شخص سے بات نہیں ہو گی۔‘
مسلم لیگ ن کے کیمپوں سے آنے والی مصالحتی سیاست کی آوازوں سے متعلق تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کا کہنا ہے کہ ’تحریک انصاف ایسی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرے گی۔ اور ہمیں کوئی ایسا دعوت نامہ ملتا ہے تو ہم یقیناً اس پر مشاورت کریں گے اور اس کا مثبت جواب دیں گے۔‘انہوں نے کہا ’میں ذاتی طور پر ایسی سیاست کا قائل ہوں جس میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں بات چیت کے لیے آمادہ ہیں کیونکہ آگے کا راستہ بات چیت سے ہی نکلتا ہے۔‘
