نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے دوبارہ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے مابین جاری بیان بازی،الزام تراشی اور محاذ آرائی کے بعد ایک دفعہ پھر دونوں اطراف سے برف پگھلتی دکھائی دیتی ہے۔سابق صدر آصف زرداری کا سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ریاست کو بچانے کے لیے سب مل کر اپنا کردار ادا کریں گے۔

ذرائع کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں سابق صدر اور پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے وطن واپسی پر نواز شریف کو مبارک باد پیش کی۔ دونوں رہنماؤں میں اتفاق ہوا کہ ریاست کو بچانے کے لیے سب مل کر اپنا کردار ادا کریں گے، دونوں رہنماؤں نے معاشی مشکلات اور عوام کو ریلیف دینےکے لیے اتفاق رائے سے اہم فیصلےکرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو ملاقات کی دعوت دی ہے اور جلد ملاقات کا امکان ہے۔

مبصرین کے مطابق روایتی حریفوں میں برف پگھل چُکی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ مشکل وقت کے ساتھی ہیں
دونوں جماعتوں کی شعلہ بیانی، مفاہمت سے پہلے ضروری ہوتی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ میثاق جمہوریت کے بعد اب میثاقِ معیشت بھی کر لے گی۔۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سپہ سالار ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں اور اگر ن لیگ ان کی ہم نوا نہیں بنے گی تو نقصان اٹھائے گی۔ آرمی چیف نواز شریف کو وزیر اعظم بنوانے کے لیے اسی طرح تلے ہوئے ہیں جیسے جنرل باجوہ عمران خان کو بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ دونوں سینیئر جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مل کر ملک کو آگے لے جا سکتی ہیں۔ اگرچہ آصف زرداری کو کوالیفائنگ راؤنڈ میں شکست ہو چکی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے بجائے نواز شریف کو چن لیا ہے۔ دوسری جانب موجودہ صورتحال میں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان رابطے بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان رابطہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے کیلئے ہوا۔

سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان رابطہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کو کم کرنے کیلئے ہوا ہے، آصف زرداری اور نواز شریف میں رابطہ آج نہیں ن لیگ کے قائد کی واپسی کے وقت ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ مہینے پہلے دبئی میں آصف زرداری، نواز شریف ملاقات میں پنجاب پر اختلافات ہوئے تھے، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں کم بیک کرنے کیلئے ن لیگ کی حمایت چاہتی تھی،تاہم نون لیگ کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا کیونکہ ۔ ن لیگ پنجاب میں استحکام پاکستان پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرسکتی ہے۔جس پر دونوں جماعتوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ مظہر عباس کے مطابق پیپلز پارٹی جہاں ایک طرف پنجاب میں اپنے پنجے گاڑنا چاہتی ہے وہیں دوسری طرف سندھ میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ پیپلز پارٹی کراچی میں کم از کم دس نشستیں چاہتی ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف اتحاد بنتا ہے تو کچھ نشستوں پر اسے مشکل ہوسکتی ہے

دوسری جانب سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان رسمی رابطہ ہوا ہے، نواز شریف آصف زرداری سے ون ٹو ون ملاقات نہیں کریں گے، ن لیگی ذرائع کے مطابق نواز شریف تمام بڑے سیاسی رہنماؤں کو اپنے گھر کھانے پر دعوت دیں گے۔ن لیگ کے مطابق جو لیڈرز نواز شریف کی دعوت میں آئیں گے ان کے ساتھ سیاسی جوڑ توڑ کی بات آگے بڑھائی جائے گی، آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد بنتا ہوا نظر نہیں آرہا، پیپلز پارٹی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وزارت عظمیٰ ن لیگ کے حصے میں آنے والی ہے اس لیے شور مچانا شروع کردیا ہے۔

دوسری طرف عمرانڈو صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری جب چاہے مرضی رابطہ کریں مگر ریاست کی فکر نہ کریں، ریاست سے جمہوریت تک سب سے بڑا خطرہ ہی انہی دونوں سے ہے۔پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد ناممکن ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ الیکشن سے پہلے ایک دوسرے کیخلاف جعلی فائرنگ کریں گی، الیکشن کے بعد مفاد ہوا تو بھٹو اور ضیاء ایک چھتری کے نیچے اقتدار شیئر کریں گے۔

سینئر صحافی فخر درانی کا کہنا تھا کہ میری اطلاعات ہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی عنقریب ملاقات ہونی ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی تلخی ایک حد سے آگے نہیں بڑھے گی، عمران خان کہتے تھے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی نورا کشتی ہے یہ اسی طرح چلتی رہے گی، نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو مثبت پیغام دینے کیلئے سندھ کا دورہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

Back to top button