مسلم لیگ ن الیکشن میں پنجاب سے کلین سوئپ کرے گی؟

اینکر پرسن اور سیاسی تجزیہ کار عادل شاہ زیب نے کہا ھے کہ اس وقت تحریک انصاف اچھی خاصی سکڑ چکی ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں مزید سکڑے گی۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ مسلم لیگ نون کا مقابلہ تو اس تحریک انصاف سے ہو گا جس کی قیادت چھوڑ کر چلی گئی اور یا جیلوں میں ہے تو پھر تو پنجاب میں ن لیگ کو کلین سویپ کرنا چاہیے لیکن یہ معرکہ اتنا آسان نہیں ہے۔ آئندہ عام انتخابات مسلم لیگ نون کے لیے اتنے ہی مشکل ہیں جتنے کہ تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کے لیے۔
اپنے ایک کالم میں عادل شاہ زیب کہتے ہیں کہ شطرنج کی بساط بچھ چکی ہے اور بالآخر الیکشن کمیشن بھی جھجھکتے سہی لیکن اعلان کر چکا ہے کہ اب کھیل شروع ہے اور یہ کھیل جاری رھے گا۔ آٹھ فروری کو پاکستان کے عوام اپنے آنے والے حکمران کا فیصلہ کریں گے۔ آئین تو یہی کہتا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستانی عوام کی اکثریت نے کرنا ہے لیکن کچھ سیاسی جماعتیں پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ میاں نواز شریف کو ہی وزیراعظم بنوایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی ہو تحریک انصاف ہو یا پھر جے یو آئی یہ تین جماعتیں تواتر سے یہی بات کر رہی ہیں کہ ن لیگ ایک باقاعدہ ڈیل کے تحت اپنے قائد کو واپس لائی ہے اور اسی ڈیل کے تحت نواز شریف کو چوتھی دفعہ وزیراعظم بنوانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور سپورٹ اور حمایت حاصل ہے۔ یہ تو یہ تین جماعتیں ہی بتا سکتی ہیں کہ وہ کس بنیاد پر یہ تاثر قائم کر رہی ہیں لیکن بظاہر اسٹیبلشمنٹ اس وقت کسی ایک سیاسی جماعت سے ڈیل یا سمجھوتہ کر بھی لے تو اس کا بیڑا پار لگوانا اب 2013 اور 2018 کی طرح آسان نہیں رہا۔
عادل شاہ زیب کہتے ہیں کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ن لیگ کی واقعی ڈیل کر چکی ہے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ اس ڈیل کے ذریعے ن لیگ اقتدار بھی حاصل کر لے گی پھر بھی آئندہ عام انتخابات ن لیگ کے لیے اتنے ہی چیلنجنگ ہیں جتنے کہ تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کے لیے ۔16 ماہ اقتدار میں رہنے کی مسلم لیگ نون نے ضمنی انتخابات کے مایوس کن نتائج کی صورت میں قیمت چکائی اور وہ نتائج زمینی حالات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ اس مرتبہ نیا وزیر اعظم لاہور سے نہیں ہوگا ۔کم از کم 1988 سے لے کر 2018 تک پنجاب میں ن لیگ کا مقابلہ ن لیگ مخالف ووٹ بینک سے ہی رہا ہے چاہے وہ کبھی پیپلز پارٹی کی صورت میں تھا یا پھر تحریک انصاف کی صورت میں، اور یہ ووٹ آج بھی جوں کا توں موجود ہے اور یقیناً ووٹ پولنگ میں مسلم لیگ نون کے خلاف ڈالے بھی جائیں گے۔ ن لیگ مخالف ووٹ مضبوط ہے اور موجود بھی ہے کہ ن لیگ کا اپنا ووٹ مضبوط تو ہے لیکن ناراض اور نالاں ہے۔ اس لئے ن لیگ کے سب سے بڑا چیلنج اپنے بنیادی ووٹر اور حامی کو منا کر اپنے پاس لانا ہو گا۔ نواز شریف یہ کام پہلے بھی کر چکے ہیں لیکن اس بار شاہد حالات کھٹن اور سخت ہیں۔
عادل شاہ زیب کہتے نوشتہ دیوار میں بہرحال کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی اور وہ یہ ھے کہ نواز شریف چوتھی مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنتے نظر آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس وقت ن لیگ پر سخت تنقید کر رہی ہے لیکن انتخابات سے قبل یہ معاملہ صرف اور صرف سیاسی موقف اپنانے کا ہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے سے اتنا دور نہیں جائیں گے کہ معاملات 90 کی دہائی کی طرف دوبارہ لوٹ جائیں۔ نوشتہ دیوار یہ بھی ہے کہ انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں اکٹھے ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔
