پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی کے پیچھے غیر قانونی مقیم افغانی ہیں؟

جب سے پاکستان نے غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تب سے ردعمل میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ موقف درست ہے کہ ان غیر قانونی مقیم لوگوں میں دہشت گرد بھی ہیں۔ ان میں ہی وہ لوگ ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور جب انھیں واپس بھیجنے کا فیصلہ ہوا ہے تو انھوں نے اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جو۔ جو ان لوگوں کو نکالا جائے گا دہشت گردی کا یہ نیٹ ورک ختم ہوتا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔وہ کہتے ہیں کہ دھشت گردی کے ان واقعات کے بعد ملک وقوم کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنے فیصلوں پر قائم رہنا ہوگا۔ یہ وقت کمزوری دکھانے کا نہیں ہے بلکہ فیصلوں پر قائم رہنے کا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں ایک دم تیزی نظر آئی ہے۔ بالخصوص تین اور چار نومبر کو ملک میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں گوادر ، پسنی اور میانوالی میں عسکری تنصیبات کو بالخصوص نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے جوانوں کی شہادت پر پورے ملک میں سوگ منایا گیا۔تمام سیاسی جماعتوں نے جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی گئی دہشت گردی کے ان واقعات پر پوری قوم میں بھی ایک غم وغصہ اور تشویش ہے یہ سوال اہم ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کیوں دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔

مزمل سہروری پوچھتے ہیں کہ جب ہم نے ایک دفعہ دہشت گردی کو ختم کر دیا تھا تو آج دوبارہ کیوں شروع ہو گئی ہے۔یہ دہشت گرد نیٹ ورک دوبارہ فعال کیسے ہو گئے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی اور حمایت کرتی ہے۔ افغان پاکستان سرحد کے ساتھ بھارتی قونصلیٹ پر بھی یہی اعتراض تھا کہ وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سرپرستی کی جاتی ہے۔ وہاں سے نیٹ ورک بنائے اور چلائے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بتایا گیا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد یہ سب ختم ہو جائے گا۔ ہمیں بتایا گیا کہ افغان طالبان پاکستان کے دوست ہیں۔ اب وہاں سے دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں ہوگی۔ اب پاکستان کے مجرموں کو وہاں پناہ نہیں ملے گی۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت لی ہے اب ہماری جیت مستحکم ہو جائے گی۔افغانستان اب پاکستانی دہشت گردوں کے لیے محفوظ جنت نہیں رہے گا، ہمارے ملزم ہمارے حوالے کر دیے جائیں گے۔ لیکن افسوس ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ حالات پہلے سے بھی خراب ہوئے ہیں۔ نہ صرف دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص عسکری تنصیبات اور جوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مزمل سہروری کے مطابق دھشت گردی کے واقعات میں جوانوں کی شہادت پر سب نے مذمت کی ہے۔ لیکن یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شہیدوں کے خلاف مہم چلائی گئی ۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا، لسبیلہ کے واقعے کے بعد بھی ایسا طرز عمل دیکھنے میں آیا تھا۔ جب اس کی نشاندہی کی گئی ہے تو تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر ان اکاؤنٹس اور اس مہم سے اعلان لا تعلقی کی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تحریک انصاف کے حامی اکاؤنٹس ہیں اور تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹس ان اکاؤنٹس کی پوسٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہیں۔ ان اکاؤنٹس کی سرپرستی تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹس سے کیے جانے کے بھی سوشل میڈیا ثبوت موجود ہیں۔ ان اکاؤنٹس کے ہینڈلر ملک میں موجود نہیں ہے بلکہ بیرون ملک سے یہ مذموم مہم چلا رہے ہیں۔اگرچہ تحریک انصاف پاکستان کی جانب سے نہ صرف دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی گئی ہے بلکہ شہادتوں پر افسوس کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اوورسیز تحریک انصاف نے ان دہشت گردی کے واقعات پر نہ صرف خوشی کا اظہار کیا ہے بلکہ جوانوں کی شہادت کا تمسخر بھی اڑایا گیا ہے۔ اس لیے بیرون ملک سے جاری کی جانے والی اس مذموم مہم پر ملک کے اندر ایک رد عمل بھی نظر آیا ہے، اور لوگوں نے اس کی مذمت کی۔ تحریک انصاف اس وقت دوہری حکمت عملی پر چل رہی ہے۔ پاکستان کے اندر موجود تحریک انصاف اسٹبلشمنٹ ، فوج اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کی بات کرتی نظر آرہی ہے۔ دوسری طرف اوورسیز تحریک انصاف نے مکمل گالم گلوچ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ایک طرف دوستی کی بات دوسری طرف نفر ت انگیز پروپیگنڈا جاری ہے۔

مزمل سہروری کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ملک میں فوج کے حق میں بیان اور بیرون ملک سے فوج کے خلاف مہم جاری ہے۔ یہ دو عملی اب سب پر واضح ہے۔ تحریک انصاف نے مفاہمت کی جو مہم شروع کی تھی اس کی ناکامی کی بنیادی وجہ بھی بیرون ملک تحریک انصاف کے حامیوں کی گالم گلوچ اور نفرت انگیز پروپیگنڈا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کا بھی یہی موقف سامنے آیا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ باہر سے آپ کے لوگ گالیاں جاری رکھیں اور ملک کے اندر آپ دوستی کا راگ گاتے جائیں ۔ اگر باہر بیٹھے لوگ آپ کے نہیں ہیں تو کھل کر آپ بھی ان کی مذمت کریں۔ اگر تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اس پروپیگنڈے کو ان کی سرپرستی حاصل نہیں تو ان اکاؤنٹس کی نہ صرف مذمت کی جائے بلکہ ان کو فالو کرنا بھی بند کیا جائے۔ ایک واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آئیں کہ یہ ہمارے لوگ نہیں ۔ یہ بات بھی محسوس کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد ’’را‘‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بیرون ملک مقیم تحریک انصاف کے حامی ایک ہی زبان بول رہے تھے۔ ’’را‘‘ کی زبان تو سمجھ آتی ہے یہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کیوں ’’را‘‘ کی زبان بول رہے ہیں۔ اس حوالے سے ثبوت سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ جنھیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آخر میں مزمل سہروری کا کہنا ھے کہ روز بروز تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ان کے بیرون ملک حامیوں کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر اپنے چند پیسوں کے لیے پوری جماعت کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ تحریک انصاف کے حامی نہیں بلکہ بڑے دشمن بن چکے ہیں۔ تحریک انصاف جتنی جلدی ان سے علیحدگی اختیار کر لے گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔ کیونکہ یہ پاکستان کی سیاست کی کوئی سمجھ نہیں رکھتے۔

Back to top button