تحریک انصاف کی کسی بھی جماعت سے فوری مفاہمت ناممکن کیوں؟

نون لیگ کی جانب سے تحریک انصاف کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی خبروں کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر گردش ہے کہ لیگی قیادت کا تحریک انصاف سے مذاکراتی عمل کا آغاز ناممکن دکھائی دیتا ہے کیونکہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور صدر سمیت اکثریتی مرکزی قیادت پابند سلاسل ہے جبکہ بچے کھچے رہنما روپوش اور بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں ایسے میں نون لیگ کا پی ٹی آئی کے دوسری درجے کی قیادت سے رابطہ اور بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ ان کی طرف سے کی گئی کسی بھی بات کو عمران خان تسلیم نہیں کرینگے۔دوسری جانب مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے بھی گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ انتخابات میں تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق حکمت عملی بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کرے گی تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر تحریک انصاف کے ایک رہنما نے بتایا کہ اسد قیصر کی گرفتاری کے بعد سیاسی جماعتوں سے رابطہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسد قیصر کی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے اس حوالے سے گفتگو بھی ہوئی تھی اور انہوں نے پیغام پیپلزپارٹی کی قیادت تک پہنچانے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی جس کے بعد معاملہ آگے بڑھتا تاہم اسد قیصر کی گرفتاری کے بعد اب یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ’عمران خان کی اجازت سے اسد قیصر کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن اب ان کی گرفتاری کے بعد کور کمیٹی نے تاحال اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ ان کے بعد سیاسی جماعتوں سے رابطے کی ذمہ داری کون نبھائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اس معاملے میں زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ تاہم چیئرمین پی ٹی آئی نے اسد قیصر اور صدر عارف علوی کی درخواست پر دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرنے کی اجازت دی تھی جس کا واحد مقصد بروقت اور صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد تھا۔
خیال رہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے سینئررہنما اسد قیصرکی گرفتاری ایک ایسے وقت پہ ہوئی ہے جب وہ مشکل حالات سے دوچار پارٹی کو نکالنے اور آئندہ انتخابات میں پارٹی کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے سیاسی جدوجہد میں مصروف تھے، پاکستان تحریک انصاف نے ان کی گرفتاری کو پارٹی کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے اکثر رہنما تاحال روپوش ہیں تاہم اسد قیصر ان چند رہنماؤں میں سے ہیں جو تمام تر مشکل حالات میں بھی روپوش نہیں ہوئے بلکہ مقدمات کا سامنا کیا اور پارٹی کو کڑی صورتحال سے نکالنے کے لیے پس پردہ مذاکرات بھی کرتے رہے۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق اسد قیصر اس وقت بھی مذاکرات کے لیے گئے جس کے بعد پرویز خٹک نے اسلام آباد کے ایک سیف ہاؤس میں عمران خان اور پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا تو اسد قیصر وہاں موجود تھے مگر انہوں نے خان کا ساتھ چھوڑنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسد قیصر پارٹی کو 9 مئی کے پس منظر میں عتاب سے نکالنے کے لیے ہمہ وقت مصروف اور سیاسی جماعتوں اور مقتدر قوتوں سے بھی رابطے میں تھے، اسد قیصر کی کوشش تھی کہ پارٹی امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ملے انہیں مبینہ طور پر تنگ کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہو۔
تحریک انصاف نےاسد قیصر کی مبینہ کرپشن کیس میں گرفتاری کو پارٹی کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کا شاخسانہ قرار دیا، جو ان کے مطابق عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد سے جاری ہے، پارٹی رہنماؤں کیخلاف مقدمات انہیں کمزور کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ تاہم تحریک انصاف ان حالات میں بھی قانون کی بالادستی اور شفاف انتخابات کا تقاضا کر رہی ہے اور اسد قیصر بھی اسی ضمن میں سیاسی طور پر سرگرم تھے۔ ’اسد قیصر کی گرفتاری سے پارٹی کو نقصان ہو گا کیونکہ وہ پارٹی کے سیاسی مفادات کے لیے متحرک تھے لیکن اس سے ان کا حوصلہ پست نہیں ہو گا۔‘
اسد قیصر کی گرفتاری سے تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان پریشان ضرور ہیں تاہم وہ پر امید ہیں کہ اسد قیصر اپنے قائد عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور اسد قیصر کے قریبی ساتھی کا دعوٰی ہے کہ وہ عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ’جس کی سیاست خان کے ساتھ جڑی ہو، جس کا اپنا کوئی ووٹ بینک نہ ہو، وہ خان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔‘پارٹی رہنما کے مطابق اسد قیصر کے پارٹی چھوڑنے سے پی ٹی آئی سے کہیں بڑھ کر خود ان کی سیاست پر منفی اثر پڑے گا جس کا انہیں بھی احساس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض پارٹی رہنما اسد قیصر کی گرفتاری میں پرویز خٹک کے کردار پر بھی شک کا اظہار کررہے ہیں، لیکن اس کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے تحریک انصاف کی انتخابات میں عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرنے کے بعد دونوں جماعتیں قریب آئی تھیں اور پیغام رسانی کا سلسلہ شروع ہوا تھا جبکہ سابق اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک وفد نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات بھی کی تھی اور اسی طرح اب نون لیگ نے بھی تحریک انصاف کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
