نوید نے عمران کو نشانہ بنانے کے لئے دو گھنٹے انتظار کیا

وزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کرنے والے ملزم نوید احمد نے پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو بتایا ہے کہ اس نے تحریک انصاف کے سربراہ کو گستاخ رسول گردانتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا اور دو گھنٹے تک ٹرک کے ساتھ چلتے ہوئے نشانہ لینے کا انتظار کیا کیوں کہ پولیس نے اسے کسی بھی اونچی بلڈنگ پر چڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
پنجاب حکومت کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے گرفتار ملزم کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اس سے تفتیش شروع کر دی ہے جس میں ملزم سے وقوعہ کے روز کی نقل و حرکت اور حالات و واقعات کے حوالے سے سوالات کئے گئے۔ نوید کا اصرار ہے کہ عمران خان کے الزام کے برعکس حملے کی منصوبہ بندی میں اور کوئی شخص ان کے ساتھ شامل نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نوید نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ عمران خان بار بار اپنا موازنہ نبی کریمؐ سے کرتے ہوئے حضور پاکؐ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو رہا تھا اور لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا لہذا اس نے اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ایک شاتم رسول کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نوید نے بتایا کہ اس نے فائرنگ کے بعد کنٹینر کے دائیں جانب گلی میں فرار ہونا تھا لیکن لوگوں کے ہاتھوں پکڑا گیا چونکہ جلوس کے شرکاء کی تعداد بہت کم تھی۔
گرفتار ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ اسکا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ تحریک لبیک پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے اور اسی لیے اس نے کنٹینر پر فائرنگ کرنے سے پہلے لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ نوید نے بتایا کہ اس کوکسی نے عمران پر حملہ کرنے کو نہیں کہا تھا، ملزم کا کہنا ہے کہ وہ دو گھنٹے تک کنٹینر کے ساتھ چلتا رہا اور پھر جب اس نے دیکھا کہ ٹرک کے آگے پولیس نہیں ہے تو اس نے سامنے آ کر فائرنگ کردی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم سے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے بار بار سوالات کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ لانگ مارچ کی سکیورٹی اور کنٹینر کے کلوز سرکل تعینات اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ جے آئی ٹی دوسرے مرحلے میں پی ٹی آئی کارکن معظم گوندل کی ہلاکت کے حوالے سے بھی تفتیش کرے گی۔ اب تک کے شواہد کے مطابق ملزم کو نوید احمد نے گولی نہیں ماری تھی بلکہ کنٹینر پر نوید کی فائرنگ کے جواب میں عمران خان کے گارڈز کی جوابی فائرنگ سے ملزم کی جان گئی۔ تحریک انصاف اور پنجاب حکومت کی جانب سے معظم کے خاندان کو ایک کروڑ روپے کی امداد دے کر ان کا منہ بند کروایا جا چکا ہے اور اسی لیے اس قتل کا کوئی کیس درج نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ عمران خان پر 3 نومبر کو وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔
