نام کا ٹیڈی لیکن بڑے قد کاٹھ کا اداکاراورکامیڈین طارق

صرف 46 برس کی عمر میں دنیا سے کوچ کر جانے والے نامور سٹیج اداکار اور کامیڈین طارق ٹیڈی نے کچھ عرصہ پہلے ہی بھارت کی پنجابی فلموں میں بھی کام شروع کیا تھا لیکن زندگی نے انہیں مزید آگے بڑھنے کی مہلت نہ دی۔ وہ ایک سال سے جگر کے مرض میں مبتلا تھے۔ انہیں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں داخل کروایا گیا، جہاں وہ جگر کے ٹرانسپلاٹ سے قبل ہی زندگی کی بازی ہار گئے۔ طارق ٹیڈی کی بیوی 16 برس قبل وفات پا چکی تھیں اور ان کا ایک ہی بیٹا ہے، جسے وہ پیار سے سونو بلاتے تھے۔
طارق ٹیڈی نے فیصل آباد میں مقامی تھیٹروں سے کام شروع کیا اور 2004 میں لاہور شفٹ ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی مخصوص جگت بازی نے انہیں نمایاں مقام پر پہنچا دیا۔ چند سال بعد ہی پنجاب بھر کے تھیٹرز میں ان کی انٹری ڈرامے کی کامیابی تصور کی جاتی تھی۔
طارق ٹیڈی کے مشہور ترین سٹیج ڈراموں میں چالاک طوطے، ماما پاکستانی، سب کہو بارہ روپیہ، ربا عشق نا ہووے، حسن میری مجبوری، جی کردا، اصلی طائی نقلی جھوٹ بولدا، مرچ مصالحہ، گھونگھٹ اٹھا لوں، عید دا چن، ابھی تو میں جوان ہوں، کریزی ، مٹھیاں شرارتاں، خوش آمدید اور دوستی شامل ہیں۔
طارق ٹیڈی فیصل آباد میں 1976 میں پیدا ہوئے، انہوں نے کم عمری میں ہی اپنے آبائی شہر سے سٹیج اداکاری کا آغاز کیا۔ فیصل آباد میں سٹیج پر جوہر دکھانے کے بعد وہ 2004 میں لاہور منتقل ہوگئے، جہاں ان کے کیریئر کو چار چند لگے اور انہوں نے درجنوں مزاحیہ تھیٹر ڈراموں میں اداکاری دکھائی۔
لاہور میں ہی انہوں نے ٹیلی وژن اور ریڈیو کے ڈراموں بھی اداکاری کی اور بعد ازاں بڑی اسکرین پر بھی جادو دکھائے، طارق ٹیڈی نے ایک درجن سے زائد پنجابی فلموں سمیت چند اردو فلموں میں بھی اداکاری کی اور زیادہ تر 1990 سے 2005 تک فلموں میں کام کیا۔ طارق کافی عرصے سے جگر اور سانس کی بیماری میں مبتلا تھے، تاہم چند ماہ سے ان کی بیماری بڑھ گئی تھی، جس کے بعد انہیں لاہور کے ’پاکستان کڈنی اینڈ لِور انسٹی ٹیوٹ‘ میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں انکے جگر ٹرانسپلانٹ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں لیکن اس دوران وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
طارق ٹیڈی نے کچھ عرصہ پہلے ہی بھارت میں بننے والی پنجابی فلموں میں کام شروع کیا اور پذیرائی ملنے پر انہیں پانچ مزید فلموں میں بھی سائن کر لیا گیا تھا۔ اگلے ماہ انہیں ’ڈرامے والے لوگ‘ نامی فلم کی شوٹنگ کے لیے لندن جانا تھا لیکن انہیں موت نے اتنی مہلت ہی نہیں دی۔
