نٹ کھٹ، شرارتی دیوآنند نے بالی ووڈ میں لمبی اننگز کیسے کھیلی؟

بالی ووڈ کے نٹ کھٹ ہیرو دیو آنند نے اپنی سپر ہٹ فلموں سے تو سینما سکرینوں پر چار چاند لگائے ہی تھے لیکن ان کا سٹائل بھی ان کی کامیابی میں کارفرما رہا، چہرے پر شریر مسکراہٹ کی ہلکی سی لکیر، بڑے بڑے کالر والی قمیضیں، آنکھوں میں چمک، مست چال اور ایس ڈی برمن کی موسیقی نے ان کو بام عروج پر پہنچا دیا۔1969 بالی وڈ میں پرانے دور کے خاتمے اور نئے عہد کی شروعات کا سال تھا، فلم ’آرادھنا‘ سے راجیش کھنہ کی آمد ایک طوفان ثابت ہوئی، دلیپ کمار اور راج کپور جیسے نامور ستارے بجھ کر رہ گئے، اس جھکڑ میں بھی اگر کوئی دیا جلتا رہا تو وہ مثلث کے تیسرے رکن دیو آنند تھے، گورداس پور میں 26 ستمبر 1923 کو پیدا ہونے والے دیو آنند ایک متوسط گھرانے کا ہینڈسم نوجوان جس نے گورنمنٹ کالج (جی سی) لاہور سے انگریزی ادب میں گریجویشن کی ڈگری لی اور قسمت آزمانے بمبئی جا پہنچا۔ایک وکیل کا بیٹا اور جی سی لاہور کا گریجویٹ چند دن بعد کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال کے سامنے ایک چھوٹی سی کھولی میں شفٹ ہو گیا، اسے مختلف پروڈکشن ہاؤسز کے چکر کاٹنے تھے تاکہ کام مل سکے، اپنی آپ بیتی ’رومانسنگ وِد لائف‘ (Romancing with Life) میں آنند لکھتے ہیں کہ مجھے اس بات سے بالکل بھی پریشانی نہیں تھی کہ میں ایک کھولی میں رہ رہا ہوں، میں پرجوش اور خوابوں سے بھرپور نوجوان تھا۔اداکار دیو آنند اور گرو دت کی پہلی ملاقات 1946 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ہم ایک ہیں‘ کے سیٹ پر ہوئی تھی۔ یہ دیو آنند کی بطور مرکزی ہیرو پہلی فلم تھی جبکہ گرو دت فلم کے سیٹ پر بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کر رہے تھے، دونوں کی ہیلو ہائے ہوئی اور بات ختم۔ایک روز فلم کی شوٹنگ کے دوران بریک میں دونوں نے آپس میں وعدے کیا کہ اگر دیو نے کبھی کوئی فلم پروڈیوس کی تو وہ گرو دت کو بطور ہدایت کار لیں گے اور اگر دت کسی فلم کو ڈائریکٹ کریں گے تو دیو ان کے مرکزی ہیرو ہوں گے، دیو آنند نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر 1949 میں اپنے پروڈکشن ہاؤس ’نوکیتن‘ کی بنیاد رکھی اور وعدہ نبھاتے ہوئے اپنی پہلی فلم ’بازی‘ میں گردو دت کو بطور ہدایت کار بریک دیا۔یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی جس سے دیو آنند کے سٹارڈم کا آغاز ہوا۔ یہ فلم موسیقار ایس ڈی برمن ، گیت کار ساحر لدھیانوی اور گرو دت کے لیے بھی خوش قسمت ثابت ہوئی۔ بعد میں تینوں اپنے شعبوں کے کامیاب ترین نام بنے۔50 اور 60 کی دہائی ان کے عروج کا زمانہ تھا، 70 کی دہائی میں راج کپور اور دلیپ کمار کیریکٹر رول کرنے لگے مگر سدا بہار دیو آنند کی مانگ بطور ہیرو برقرار رہی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 80 کی دہائی کے آخر تک وہ 60 سال کی عمر میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے اور پسند کیے جاتے رہے، ’نوجوان‘ (1985) اور ’لشکر‘ (1989) اس کی واضح مثالیں ہیں۔’گائیڈ‘ کو ان کا ماسٹر پیس کہا جاتا ہے، یہ الگ بات کہ موضوع کی بولڈنس اور غیر معمولی موسیقی کے باوجود یہ فلم دلیپ کمار کی ’گنگا جمنا،‘ ’دیوداس،‘ ’شکتی‘ یا راجیش کھنہ کی ’آنند‘ جیسے شہ پاروں کے ساتھ نہیں رکھی جا سکتی۔100 سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے دیو آنند کی پٹاری میں بھلے ایک بھی بڑی فلم نہ ہو لیکن انہیں امر کرنے کے لیے ان کے رومانوی گیت کافی ہیں۔ وہ انداز و ادا کے بادشاہ تھے اور یہی چیز انہیں راج کپور اور دلیپ کمار سے منفرد بناتی ہے۔دیو آنند کے لیے تقریباً 44 مختلف موسیقاروں نے موسیقی ترتیب دی، تعداد ہی نہیں معیار کے اعتبار سے بھی ایس ڈی برمن اور دیو آنند کی جوڑی کا بالی وڈ میں کوئی جواب نہیں، دونوں کی شاہکار فلموں میں ’جال‘، ’تیرے گھر کے سامنے‘، ’بمبئی کا بابو‘، ’گائیڈ‘، ’جیول تھیف‘، ’پریم پجاری‘، ’ٹیکسی ڈرائیور‘ اور ’کالا بازار‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔
