نگراں حکومت نے بھی صدر علوی کو جھنڈی دکھا دی

الیکشن کمیشن کے بعد وزارت قانون نے بھی عمرانڈو صدر عارف علوی کو ٹھینگا دکھا دیا اور اپنا وزن الیکشن کمیشن کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صدر اپنے کام سے کام رکھیں۔ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف اور صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔خیال رہے کہ وفاقی وزارت قانون نے صدر مملکت کو چیف الیکشن کمشنر کے خط پر قانونی رائے دے دی ہے۔وزارت قانون نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد انتخابات کی تاریخ کااختیار الیکشن کمیشن کوحاصل ہے۔’صدر مملکت کو نئی ترمیم کے تحت الیکشن کی تاریخ دینے کااختیار حاصل نہیں‘۔

ملک میں عام انتخابات کی تاریخ پر وزارت قانون وانصاف نے صدر مملکت کو رائے پر مبنی جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ  اسمبلیاں وزیراعظم کی سفارش پر تحلیل ہوئیں، اگر صدر مملکت آرٹیکل 58 کے تحت ازخود اسمبلیاں تحلیل کرتے تو پھر تاریخ دینے کا اختیار ان کے پاس تھا تاہم نئے انتخابی قانون کے تحت اب یہ اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

خیال رہے کی الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول پر مشاورت سے انکار کے بعد ایوانِ صدر نے وزارت قانون سے رائے مانگی تھی، جس پر وزارت قانون وانصاف نے صدر کو رائے پر مبنی جوابی خط ارسال کردیا ہے۔ وزارت قانون و انصاف نے خط میں واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن دیگا، اسمبلیاں وزیراعظم کی سفارش پر تحلیل ہوئیں اس لئے شیڈول دینے کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہی ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کی دلیل درست بھی مان لی جائے تو آرٹیکل 48 پانچ کے تحت صرف قومی اسمبلی کی تاریخ دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 90 روز میں انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے کے بجائے ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد 24 اگست کو صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے جنرل الیکشن کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کیلئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو ایک خط کے ذریعے ملاقات کی دعوت دی تھی۔ جس پر الیکشن کمیشن نے اجلاس طلب کیا تھا۔24 اگست کو ہی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن میں اجلاس ہوا جس میں ممبران اور سیکرٹری الیکشن کمیشن شریک ہوئے۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات کی تاریخ پر صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات نہیں کرینگے۔

جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق صدر کے خط کا جواب دے دیا تھا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے جوابی خط میں چیف الیکشن کمشنر نے صدر سے ملاقات سے صاف انکار کردیاتھا۔چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے 9 اگست کو تحلیل کی، اب الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں 26 جون کو ترمیم کردی گئی ہے، اس ترمیم سے قبل صدر الیکشن کی تاریخ کے لیےکمیشن سے مشاورت کرتا تھا، اب سیکشن 57 میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کو تاریخ یا تاریخیں دینےکا اختیار ہے۔خط میں مزید کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 48 فائیوکو آئین کے آرٹیکل 58 ٹوکے ساتھ پڑھا جائے، وزیراعظم کی سفارش پر اسمبلی تحلیل کی جائے توکمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار ہے۔خط کے مطابق قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 58 (1) کے تحت تحلیل ہوئی۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم ہو چکی ہے۔خط میں کہا گیا تھا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد الیکشن کی تاریخ مقرر کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔ صدر آئین کے آرٹیکل کے 58 ٹو کے تحت اسمبلی تحلیل کرے تو ہی الیکشن کی تاریخ مقرر کرسکتا ہے۔ اگر اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر تحلیل ہو تو پھر الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو ہے۔الیکشن کمیشن نے جواب میں مزید کہا گیا تھا کہ صدرمملکت کے خط میں اٹھائے گئے نکات موجود حالات میں لاگو نہیں ہوتے۔ وزیراعظم کی ایڈوائس کے بعد صدر کے آرٹیکل 48 (5) کا اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ الیکشن کمیشن انتخابات کروانے کی ذمے داری ادا کرنے میں بہت سنجیدہ ہے۔جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن صدر کے دفتر کو بہت احترام دیتا ہے۔ صدر سے ملاقات باعث افتخار ہے اور مناسب وقت پر قومی معاملات پر صدر سے گائیڈنس لیں گے۔ الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ ملاقات کے نتائج معمولی ہوں گے۔

چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ملاقات سے معذرت کرنے کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے وزارت قانون سے رائے مانگی تھی جس پر اب وزارت قانون نے الیکشن کمیشن کے حق میں اپنی رائے دے دی ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی۔

Back to top button