کیا پاکستان ادویات کے نئے بحران سے دوچار ہونے والا ہے؟

پاکستان ان دنوں جہاں مہنگائی، بے روزگاری، اقتصادی و معاشی بحرانوں سے دوچار ہے، تو اثنا میں ایک نیا بحران دروازے پر دستخط دے رہا ہے، مستقبل میں ادویات کی قلت کا بحران سر اٹھانے والا ہے، اس حوالے سے شہری پریشانی سے دوچار ہیں۔ماضی قریب میں ادویات کی قلت اس وقت ہوئی جب حکومت نے درآمدات پر مکمل پابندی عائد کی تھی تاہم اب صورت حال یہ ہے کہ درآمدات پر پابندی نہیں ہے اس کے باوجود اچانک مارکیٹ سے مختلف ادویات غائب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ماہم علی کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ ذیابطیس کی مریضہ ہیں، وہ اس مرض کی دوا گلوکوفیج مسلسل استعمال کرتی ہیں تاہم اب انہیں یہ دوا میسر نہیں، انہوں نے ’’اردو نیوز‘‘ کو بتایا کہ ’میں شوگر کی ٹائپ ٹو کی مریضہ ہوں اور باقاعدگی سے دوائی کھاتی ہوں، گزشتہ ایک ہفتے سے مجھے مختلف میڈیکل سٹورز سے یہ دوا نہیں مل رہی، شہر کے مختلف حصوں سے اپنے رشتہ داروں سے پچھلے کئی ہفتوں سے ادھر ادھر تلاش کے بعد منگوا رہی تھی لیکن اب تو بالکل ہی یہ دوائی ملنا بند ہو گئی ہے جس میڈیکل سٹور پر بھی جاؤ تو وہ آگے سے کہتے ہیں کہ پیچھے سے نہیں آ رہی۔ماہم علی نے بتایا کہ اس سے پہلے گلوکوفیج کی متبادل دوا بھی ایک دو جگہ سے مل رہی تھی تاہم اب وہ بھی دستیاب نہیں ہے، یہ معاملہ صرف ماہم علی کو درپیش نہیں ہے۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد اعجاز دل کے مریض ہیں اور انہیں دل کے عارضے سے متعلق ایک دوا لیناکسن نہیں مل رہی، جس فارمیسی پر جاتے ہیں آگے سے یہی سننے کو ملتا ہے کہ یہ دوائی شارٹ ہے۔ ہم نے لاہور میں اپنے کچھ جاننے والوں سے کہا کہ وہاں پتا کریں لیکن وہاں سے بھی یہی جواب آیا ہے کہ یہ دوائی دستیاب نہیں ہے۔سیالکوٹ میڈیکل کالج کے شبعہ ادویات کے سربراہ ڈاکٹر سلمان شیروانی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جو بھی نسخے لوگوں کو لکھ کر دے رہے ہیں وہ دوائیاں مارکیٹ سے نہیں مل رہی ہیں، دیگر اہم ادویات کے ساتھ انسولین کا کوئی بھی مرکب دستیاب نہیں ہے، ایک بڑی میڈیکل سٹور چین محمود فارمیسیز کے مالک محمد فاروق کے مطابق ایسی ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں جن کی اس سے پہلے کبھی بھی قلت نہیں ہوئی، ان کا اشارہ شوگر سے متعلق ادویات سے تھا۔ ملک میں مختلف ڈاکٹروں اور فارمیسز سے بات کرنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوا کہ لگ بھگ 150 ایسی ادویات ہیں جو اس وقت مارکیٹ بالکل بھی دستیاب نہیں ہیں، کراچی میں بھی ادوایات کی قلت کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے، روز مرہ کے استعمال کی ادویات مارکیٹ سے نہ ملنے کی وجہ سےعوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے رہنما عاصم جمیل کے مطابق پاکستان میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کی وجہ سے امپورٹ کرنے والی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی سطح پر قیمت نہ بڑھنے کی وجہ سے امپورٹر ادویات امپورٹ نہیں کروا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت مختلف ویکسینز، سمیت دیگر ادویات کی مارکیٹ میں قلت ہے اور ملک میں یہ ادویات میسر نہیں ہیں، عاصم جمیل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے ورنہ آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔
