حدیقہ کیانی کا ڈرامہ ’’حادثہ‘‘ تنقید کی زد میں کیوں آ گیا؟

معروف گلوکارہ، اداکارہ حدیقہ کیانی نے ڈرامہ ’’حادثہ‘‘ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا موٹروے ریپ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کی کہانی یکسر مختلف ہے، ڈرامہ سیریل ’’حادثہ‘‘ کو جیو ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے، ڈرامے میں حدیقہ کیانی اور علی خان نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔موٹروے سے اغوا کے بعد ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کا کردار حدیقہ کیانی نے ادا کیا ہے جبکہ علی خان نے ان کے شوہر کا روپ دھارا ہے، رامے کی 4، 5 اور 6 قسط میں حدیقہ کیانہ کے موٹروے پر اغوا، ریپ اور پھر ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ڈرامے کے بعد دیگر صارفین نے بھی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پیمرا سے مطالبہ کیا کہ اس پر پابندی عائد کی جائے، صارفین کی تنقید کے بعد اب حدیقہ کیانی نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرامے کا موٹروے ریپ کیس واقعے سے کوئی تعلق نہیں، اداکارہ نے انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ انہوں نے ’’حادثہ‘‘ میں کام کرنے سے قبل ڈرامے کی ٹیم سے بار بار پوچھا کہ اس کی کہانی ’موٹروے ریپ کیس واقعے‘ کی تو نہیں؟ جس پر انہیں نفی میں جواب دیا گیا، کبھی ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بن سکتیں جس کے ذریعے کسی انسان کو تکلیف پہنچ رہی ہو۔حدیقہ کیانی نے لکھا کہ ڈرامے کی کہانی اور اپنی اداکاری کا دفاع کرتے ہوئے مزید لکھا کہ یہ سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر جگہ خواتین کے اغوا، ریپ اور ان پر تشدد کے واقعات ہوتے ہیں، معاشرے میں نہ صرف خواتین بلکہ مرد حضرات اور بچوں کے ساتھ بھی تشدد اور ریپ کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ایسے واقعات روڈوں، پوش علاقوں، گنجان آبادی والے علاقوں اور رشتے داروں کے درمیان بھی ہوتے ہیں۔اداکارہ نے مزید لکھا کہ انہوں نے اپنے ڈراموں کے ذریعے معاشرے کی انتہائی افسوس ناک کہانیوں سے پردہ اٹھایا ہے لیکن وہ یہ دعوے سے کہہ سکتی ہیں کہ ’حادثہ‘ کی کہانی کسی ایک شخص کی کہانی نہیں، اداکارہ نے لکھا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ ایسے ڈرامے بننے کے بعد ایسے واقعات کو زیادہ سنجیدگی سے لے کر متاثر ہونے والے افراد کو فوری انصاف فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ڈرامہ نگار زنجبیل عاصم شاہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے واضح انداز میں اس بات سے انکار کیا کہ یہ کہانی موٹروے ریپ کیس پر مبنی ہے، انھوں نے کہا کہ ’ایسا کچھ بھی نہیں ہے، یہ مماثلت ایک اتفاقیہ بات ہے، ڈرامہ نگار نے اپنی کہانی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ اس جنگ کو لڑتے ہیں وہاں آپ کا بھی کتھارسس ہو رہا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا صارف ہدا محمود نے لکھا کہ ’اس ڈرامے میں سینئر اور اچھی طرح سے باخبر اداکار (کام کر رہے) ہیں اور اس کی طرح کے اثر انگیز سکرپٹ کے لیے سائن اپ کرنے سے پہلے اجازت لینے کے بارے میں ذرا سا بھی نہیں سوچا گیا، بلیک ڈیمیسن کے ہینڈل سے ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ کا کام کسی کو ٹرگر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ آپ کا کام ٹرگر ہے!، اقصی سید نے حدیقہ کے بیان پر شرمناک وضاحت کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں نے ریپ کا شکار ہونے والوں کی بہت سی کہانیاں سنی ہیں لیکن موٹروے کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جہاں تک مجھے یاد ہے کسی ایسے شخص کے لیے بھی جو ریپ متاثرین کے لیے آواز اٹھا رہا تھا۔ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریپ جیسے حساس اور سنگین موضوع پر بننے والے اس ڈرامہ کو نشر کرنے سے پہلے کوئی انتباہی پیغام بھی نہیں چلایا جاتا، سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے والے ہیش ٹیگ بائیکاٹ حادثہ میں ڈرامہ پر شدید تنقید کے ساتھ ساتھ لوگوں سے درخواست کی جا رہی ہے کہ پیمرا میں اس ڈرامہ کے خلاف شکایات بھیجی جائیں۔
