نیب اور امریکی ایف بی آئی کے درمیان سمجھوتے کیخلاف درخواست پر وفاق سے جواب طلب

قومی احتساب بیورو (نیب) اور امریکا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف بی آئی) کے درمیان سمجھوتےکے خلاف درخواست پر اسلام آبادہائی کورٹ نے وفاق سے 2 ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب اور ایف بی آئی کے درمیان سمجھوتے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔جسٹس عامر فاروق نے وفاقی کابینہ کی جانب سے سمجھوتے کی منظوری کےخلاف درخواست پرسماعت کی۔
وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے جب کہ سول سوسائٹی نامی تنظیم کی جانب سے طارق اسد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں ٹریننگ ہی چاہیے تو ایف بی آئی سے ہی کیوں؟جسٹس عامرفاروق نے وکیل طارق اسد سے استفسار کیا کہ ایم او یو کیوں کیاگیا؟ جس پر وکیل طارق اسد نے کہا کہ کابینہ نے ایم او یو کی منظوری دے دی، وجوہات معلوم نہیں۔
عدالت نے کہا کہ کیا آپ کے پاس ایم او یو کی کاپی ہے؟ ایم او یو میں کیا لکھا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ نہیں پتہ، اگرعدالت ایم او یو منگوالے تو ہی پتہ چل سکتا ہے، ایف بی آئی کے ساتھ اس طرح سمجھوتے کی منظوری پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری قانون وانصاف کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے 26 دسمبر کو نیب اور ایف بی آئی کے درمیان سمجھوتے کی منظوری دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button