نیب کو پُرتشدد جرائم اور وائٹ کالر کرائم میں فرق کرنا ہوگا

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی جانب سے ملزمان کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا ناانصافی ہوگی۔
عدالت نے کہا ہے کہ پُرتشدد جرائم میں ملوث افراد اور وائٹ کالر کرائم میں ملوث ملزمان میں فرق کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ نوٹس ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران لیا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعہ کے روز اس درخواست ضمانت کی سماعت کی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان میں موجود احتساب عدالتوں کو حکم دیا تھا کہ بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی اور ان مقدمات کو زیر التوا نہیں رکھا جائے گا۔
بینچ کے سربراہ نے اس ریفرنس کی سماعت میں تاخیر سے متعلق جب نیب کے پراسکیوٹر سے وجوہات معلوم کیں تو انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمات میں جو التوا دیا جاتا ہے اس کی وجہ سے یہ مقدمات اپنے منطقی انجام تک مقررہ وقت میں نہیں پہنچ پاتے۔ عدالت نیب کے پراسکیوٹر کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی اور بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس تاخیر کی وجہ سے ملزمان کافی عرصے تک نیب کی تحویل یا پھر جیلوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ملزمان جو کہ نیب کے مقدمات میں مطلوب ہوں تو ان کے رویے کے لحاظ سے ان کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ اور طریقے بھی استعمال ہو سکتے ہیں جیسا کہ ملزمان کے پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹس اور جائیداد پر کنٹرول کے ذریعے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملزمان کے معاشرے یا ٹرائل پر اثرانداز ہونے کا خطرہ ہو تو ہی گرفتار رکھا جا سکتا ہے۔
ملزم کے وکیل عابد ساقی نے عدالت کو بتایا کہ لاہور کی احتساب عدالت کے مطابق ان کے پاس 80 ریفرنس زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل پر رواں برس اگست میں فرد جرم عائد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل گزشتہ 14 ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں۔ بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ اگر 80 مقدمات ہیں تو اس کیس کی باری کب آئے گی؟۔ نیب کے پراسکیوٹر عمران الحق نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ نیب کسی ریفرنس میں بھی تاخیر نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقدمات کی سماعت میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانتیں ملنا شروع ہوگئیں تو پھر ہر ملزم ضمانت مانگے گا۔ بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کو سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل کرنا ہوگا جو کہ مقدمات کی روزانہ سماعت کرنے کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیب کو روزانہ کی بنیاد پرمقدمات کی سماعت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض ہے تو وہ نظرثانی کی درخواست دائر کرسکتا ہے۔ نیب کے پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب کے حکام روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کے فیصلے پر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے حکام بھی چاہتے ہیں کہ مقدمات جلد ختم ہوں۔ عدالت نے نیب کے پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ ملزم اجمل کے خلاف استغاثہ کے تمام 38 گواہان کے بیان کب تک ریکارڈ ہوں گے اور عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ عام طور پر نیب مقدمات میں تاخیر کیوں ہوتی ہے۔ عدالت نے اس بارے میں لاہور کی احتساب عدالت سے بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کی ضمانت کی درخواست پر نیب کی کارکردگی کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ عدالت کی طرف سے آنے والی سخت آبزرویشن کے بارے میں نیب کے حکام نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button