نیب کی خودمختاری ختم، چیئرمین سرکاری ملازم بن گیا

چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل سے لیکر صدر اور وزیراعظم کو دیے جانے کے فیصلے پر شدید تنقید جاری ہے اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے اب نیب سربراہ بھی کسی سرکاری ملازم کی طرح سر پھینک کر حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرے گا اور احتساب کے ڈھکوسلے کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے نیب کے تیسرے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل سے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو ہٹانے کا اختیار لے کر صدر کو تفویض کر دیا ہے جو اس حوالے سے وزیراعظم کی ایڈوائس پر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ یوں اب نیب چیئرمین کے سر پر حکومت کی تلوار لٹکتی رہے گی اور وہ حکومت کے دباو میں صورف اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں کرتا رہے گا۔
سابق چئیرمین سینٹ اور معروف آئینی ماہر وسیم سجاد کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ اب نیب سربراہ بھی ایف آئی اے، آئی بی، ائی جی پولیس یا دیگر حکومتی اداروں کے سربراہ جیسا بے اختیار ہو جائے گا کیونکہ اب وہ ایگزیکٹیو کے رحم وکرم پر ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ کہ نئے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹانے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ کبوتر کے پر کاٹنے جیسا ہے تاکہ وہ اڑ نا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب آرڈیننس میں نیب سربراہ کو ہٹانے کا جو طریقہ کار بتایا گیا ہے اسے ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت تھی لیکن یہاں پر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ غیر آئینی عمل ہے۔ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ نئے آرڈیننس کے بعد نیب سربراہ اس وقت تک ہی عہدے پر رہ سکتا ہے جب تک وزیراعظم چاہے گا۔ جب کہ نیب سربراہ کو عہدے پر برقرار رہنے کا جو قانونی تحفظ تھا، اسے ختم کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایگزیکیٹو کا نیب سربراہ کو عہدے سے ہٹانے میں کوئی کردار نہیں تھا کیوں کہ یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار صدر کے پاس ہے، لیکن یہ برائے نام ہی ہے، کیوں کہ حقیقت میں یہ اختیار وزیر اعظم کا ہے، وہ اس لیے کہ آئین کے تحت صدر اپنا اختیار وزیراعظم کے مشورے پر ہی استعمال کرتا ہے۔ نئی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کو صدر ان ہی بنیاد پر عہدے سے ہٹاسکتا ہے جس بنیاد پر سپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاتا ہے۔
وسیم سجاد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس میں یہ نہیں لکھا کہ چیئرمین نیب کو اسے طریقے اور اسی بنیاد پر ہٹایا جائے گا جیسا طریقہ اور جو بنیاد سپریم کورٹ کے جج کے لیے ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں آرٹیکل 209 کے تحت صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہٹایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور ججوں کو ہٹانے کے طریقہ کار کا حوالہ دیا کہ متعلقہ آرٹیکلز 168 (5) اور 203-سی (4 اے) کے تحت ان عہدیداران کو اسی طریقے اور اسی بنیاد پر عہدوں سے ہٹایا جاسکتا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے جج کے لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ الجھائو یہ ہے کہ احتساب عدالتوں کے کیسز کس طرح متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں میں منتقل کیے جائیں گے اور انہیں عام قوانین کے مطابق دیکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب احتساب عدالت کے ججوں کو اس طرح کے ریفرنسز سننے کا کوئی اختیار نہیں ہے تو وہ انہیں کیسے دیگر فورمز میں بھجوائیں گے۔ یہ ایک خلا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ آرڈیننس کے دائرے میں آنے والے متعدد کیسز احتساب عدالتوں سے منتقل نہیں ہوئے ہیں۔ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ گزشتہ آرڈیننس کی ایک غلطی کو نئے آرڈیننس میں درست کیا گیا ہے اور اب یہ احتساب عدالتوں پر ہے کہ وہ ضمانت کی رقم کا تعین کریں گی۔انہوں نے کچھ جرائم کی نشان دہی بھی کی جیسا کہ منی لانڈرنگ اور فراڈ جنہیں نیب کے دائرہ کار سے نکال دیا گیا تھا اب دوبارہ نیب کے دائرے میں شامل کرلیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ صدارتی آرڈیننس کو پہلے ہی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاچکا ہے اور نئے صدارتی آرڈیننس کو بھی اسی پٹیشن کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں دونوں آرڈیننس مسترد کرچکی ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ریلیف کے لیے ان پر انحصار نہیں کریں گے۔ تاہم معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث ملزمان نے نئے آرڈیننس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
