نیب کی نااہلی سے پاکستان کو ساڑھے سات ارب روپے کا جرمانہ پڑ گیا

مشرف دور میں نیب کی جانب سے نواز شریف اور بینظیر بھٹو سمیت کئی سیاستدانوں کی بیرون ملک جائیدادوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہنے والی کمپنی کو قومی خزانے سے سات ارب روپے ادائیگی کرکے قوم کے ٹیکس کے پیسوں پر بڑا ڈاکہ ڈالا دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ لندن ہائی کورٹ میں کیس ہارنےکے بعد نیب کی جانب سے سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کےبیرون ملک اثاثوں کی چھان بین کے لئے ہائر کی گئی کمپنی براڈ شیٹ کو 28.7ملین ڈالرز یعنی تقریباً 4 ارب 58 کروڑ پاکستانی روپےکی ادائیگی کردی گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک اتنی رقم بازیاب نہیں کروائی جتنی کہ جرمانے میں ادا کر دی گئی ہے۔ پاکستانی قوم کے ٹیکسوں کے پیسوں کے ساتھ نیب نے یہی کھلواڑ نہیں کیا بلکہ اس کے گورے وکیل ایلن اور اووری ایل ایل پی کو لیگل فیس کی ادائیگی کےبعد یہ رقم 45 ملین ڈالرز یعنی تقریباً 7 ارب 18 کروڑ پاکستانی روپے تک پہنچ جائیگی۔
خیال رہے کہ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور میں نیب درجنوں پاکستانی سیاستدانوں کے مبینہ چھپے ہوئے اثاثے تلاش کرنے کیلئے براڈ شیٹ کی خدمات لی تھیں۔ تاہم براڈ شیٹ کی جانب سے ایک روپیہ کا بھی پتہ نہیں لگایا جا سکا۔ جب مذکورہ کمپنی اپنا ٹاسک مکمل کرنے میں ناکام رہی تو نیب نے اس کے ساتھ اپنا معاہدہ منسوخ کر دیا اور اس کو طے شدہ فیس دینے سے انکار کر دیا۔ جب یہ کمپنی نیب کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں چلی گئی تو پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمیشن نے ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ مانگ لیا، نیب کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کیساتھ معاہدے پر دستخط 2003 میں کیے گئے،جبکہ 2016 میں نیب کی موجودہ انتظامیہ کے سامنے ثالثی کا فیصلہ رکھا گیا جس کے بعد پاکستان کیس ہار گیا اور اگست 2020 میں لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکائونٹس منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
اب لندن ہائی کورٹ میں طویل عرصے سے زیر سماعت مقدمہ ہارنے کے بعد پاکستان ہائی کمیشن نےنیب کی طرف سےاثاثہ ریکوری فرم براڈشٹ ایل ایل سی کو 4 ارب 58 کروڑ پاکستانی روپے کی ادائیگی کردی ہے۔ لندن ہائی کورٹ کی فنانشل ڈویژن نے 17 دسمبر کو آخری تھرڈ پارٹی آرڈر جاری کیا تھا جس میں نیب کے سابق کلائنٹ براڈ شیٹ کو 30 دسمبر تک ادائیگی کے احکامات جاری کی گئے تھے، اس معاملے سے پاکستانی ٹیکس دہندگان کواربوں روپے کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں لندن ہائی کورٹ کی جانب سے پیمنٹ ادائیگی کے احکامات موصول ہونے کے بعد ادائیگی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ 17 دسمبر 2020 کو لندن ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ 30 دسمبر تک 2 کروڑ 87 لاکھ ڈالر کی رقم جمع کروادی جائے۔ عدالتی حکم کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن نے بینک کو خط لکھا کہ اگر بینک نے براڈ شیٹ کو ادائیگی کی تو وہ اس سے کاروبار بند کردے گا۔ ہائی کمیشن کی جانب سے دفتر خارجہ کو بھیجے گئے ایک نوٹ کے مطابق بینک نے پاکستانی ہائی کمیشن کو لکھا کہ عدالتی حکم موصول ہونے کے بعد ان کے پاس بھی پاکستانی ہائی کمیشن کے اکائونٹ سے کٹوتی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہائی کمیشن نے بینک کے چیف ایگزیکٹیو کو بھی ایک پیغام بھیجا کہ اگر بینک نے یکطرفہ طور پر بغیر ہدایات کے مذکورہ رقم کی ادائیگی کیلئے کمیشن کے اکائونٹ سے کٹوتی کی تو یہ عالمی قوانین اور ان کے اعتماد کی خلاف ورزی ہوگی جبکہ اس سے مستقبل میں بینک کیساتھ تعلقات بھی خراب ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے زبانی طور پر بھی اس سلسلے میں برطانوی حکومت سے سفارتی استثنیٰ مانگا اور کہا کہ اس معاملے کو فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس میں متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جانا چاہئے، یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے اکائونٹس سے کٹوتی نہیں کی جاسکتی کیوں کہ ویانا کنونشن کے تحت اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ لندن ہائیکورٹ کے حکم کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن کو درخواست کی گئی تھی کہ وہ عدالتی حکم کے مطابق اپنے اکائونٹس سے مذکورہ رقم کی ادائیگی کیلئے تحریری طور پر ہدایات جاری کرے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے جون کے آخر میں 2 کروڑ 60 لاکھ پائونڈ ہائی کمیشن کے اکاوئنٹ میں بھیجے تاہم یہ رقم پوری نہیں تھی۔ تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیب نے لندن ہائیکورٹ کے فنانش ڈویژن کے 17 دسمبر کے فیصلے کیخلاف اپیل بھی نہیں کی۔ حالانکہ نیب کو 24 دسمبر 2020 تک اپیل کا حق حاصل تھا۔ تاہم ان کے وکیل کے مطابق ایسا کرنے سے ان پر مزید معاشی بوجھ بڑھے گا جس میں براڈ شیٹ کو ادائیگی کی رقم کیساتھ ساتھ نیب کے وکلاء کو رقوم کی ادائیگی، جرمانے اور سود کی رقم بھی شامل ہوگی۔
پاکستان میں دفتر خارجہ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ ہائی کمیشن کے اکاوئنٹ سے کٹوتی نہیں کی گئی ہے تاہم لندن میں ہائی کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کو رقم کی ادائیگی ایک قانونی معاملہ ہے اور عدالتی حکم کو نہ ماننے کے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنا کیس لڑنے کیلئے لاء فرم کو ایک کروڑ 10 لاکھ پائونڈ کی ادائیگی کی اور اس سے قبل پچھلے کام کیلئے 20 لاکھ پائونڈ کی ادائیگی کی۔
