نیشنل ہسپتال لاہور کرونا کے نام پر کیسے لوٹ مچا رہا ہے؟

معروف فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کی ملکیت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں واقع نیشنل ہسپتال نے کرونا وائرس کے علاج کے نام پر مریضوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے۔ معمولی سر درد اور بخار کی شکایت پر چیک اپ کیلئے آنے والے افراد کو ہسپتال میں نام نہاد ٹیسٹ کرنے کے بعد کرونا کا مصدقہ مریض قرار دے کر لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔ نیشنل ہسپتال میں داخل کئی مریضوں کے لواحقین نے چیف جسٹس اور وزیر اعظم نے ہسپتال انتظامیہ کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ہسپتال کے باہر خودسوزی کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ مریض الزام لگا رہے ہیں کہ
نیشنل ہسپتال انتظامیہ نے پیسے بٹورنے کے لئے معمولی نزلہ زکام کا شکار شہریوں کو کرونا کا مریض قرار دینا شروع کر دیا. پیسے بٹورنے کیلئے غلط تشخیص نے ہسپتال میں کئے جانے والے ٹیسٹوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دئیے ہیں۔ ہسپتال میں داخل ایک خاتون کے شوہر کا احتجاج کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہاں کئے جانے والے ٹیسٹوں میں اس کی بیوی میں کرونا وائرس کی تصدیق کی گئی لیکن جب انھوں نے اس کا ٹیسٹ ایک اور نجی لیبارٹری سے کروایا تو وہ منفی تھا۔۔تاہم ہسپتال والے میری بات سننے کو تیار نہیں اور انھوں نے میری بیوی کو آئی سی یو میں داخل کر لیا ہے۔ احتجاج کرتے ہوئے شخص کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال داخل کرنے کے بعد اسکی اہلیہ کو ذیابیطیس، گردوں اور دل کی مختلف بیماریوں کی تشخیص بھی کر دی گئی ہے حالانکہ اسے اس سے پہلے کسی قسم کا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔ متاثر شخص کا کہنا تھا کہ اسکی اہلیہ کو روزانہ 90 ہزار روپے کی ادویات دی جا رہی ہیں اور گزشتہ 10 روز سے وہ ہسپتال داخل ہیں۔ لہذا ان دس دنوں میں دس لاکھ سے زائد رقم ہسپتال والوں کو دے چکا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں ڈاکٹرز سے اپنی بیوی کی ای سی جی رپوٹ مانگ رہا ہوں لیکن ڈاکٹر مجھے کوئی جواب نہیں دے رہے ۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں یہی شخص یہ کہتا ہوا سنائی دے رہا ہے کہ نیشنل ہسپتال لاہور میں میری بیوی کو زبردستی کرونا وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے حالانکہ اسے کرونا نہیں، لیکن ہسپتال والوں نے اسے روک رکھا ہوا ہے۔ مجھ سے روزانہ ایک لاکھ روپے سے زائد رقم طبی اخراجات کیلئے لی جا رہی ہے لیکن یہاں نہ تو چیک اپ کیلئے ڈاکٹرز موجود ہیں اور نہ مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ میری بیوی کرونا کی مریض نہیں لیکن اسے کرونا وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ وہ زندگی موت سے لڑ رہی ہے، کوئی بندہ میری مدد کرنے کو تیار نہیں، ہسپتال انتظامیہ کسی بات کا جواب نہیں دے رہی، شہری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم، چیف جسٹس اس پر ایکشن لیں، ایک دن کی 90 ہزار کی ادویات، کون سے مرض میں دی جاتی ہیں، فوری طور پر اس ہسپتال کے خلاف ایکشن لیا جائے، میری مدد نہ کی گئی تو میں اپنے تینوں بچوں کو بلا کر ہسپتال کے باہر خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لوں گا۔
نیشنل ہسپتال میں آئی سی یو کے باہراحتجاج کرنے والے دیگر افراد کا کہنا تھا کہ آئی سی یو کو اندر سے بند کر دیا گیا ہے۔ جب ہم اندر گئے تو ہمیں پتہ چلا کہ یہاں ڈیوٹی پر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں۔ یہاں تک کہ کوئی نرس بھی آئی سی یو میں موجود نہیں تھی۔ مریضوں کے لواحقین کا کہنا تھا کہ نیشنل ہسپتال انتظامیہ نے دھوکہ دہی سے لوگوں کو کرونا کے نام پر پیسہ کمانے کے لئے وینٹیلیٹروں پر لگا رکھا ہے اور یہاں پرکوئی بھی مریضوں اور ان کے لوحقین کی بات سننے کو تیار نہیں۔ احتجاج کرنے والے شہریوں نے حکومت سے فوری طور پر نیشنل ہسپتال کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button