ن لیگ کا ARY کو لندن کی عدالت میں گھسیٹنے کا اعلان

نواز شریف کےنواسے اور مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کے حوالے سے 5 آف شور کمپنیوں کی فیک نیوز چلانے پر ن لیگ نے اے آر وائی نیوز کو لندن کی عدالت میں گھیسٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 3 اکتوبر کو پینڈرورا پیپرز لیکس سامنے آنے کے بعد اے آروائی نے حکومتی ذرائع سے یہ خبر چلائی تھی کہ مریم نواز کےبیٹے کی بھی پانچ آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہو اہے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور شہباز گل نے بھی اس حوالے سے ٹوئٹس کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کہ پینڈورا پیپرز میں مریم نواز کے صاحبزادے کی پانچ آفشور کمپنیاں بھی نکل آئی ہیں۔
چنانچہ مریم نواز اور جنید صفدر دونوں نے علیحدہ علیحدہ ٹویٹس میں اے آر وائی کے خلاف جھوٹی خبر چلانے پر لندن کی عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔ مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اگر اے آر وائی نے فوری طور پر اس فیک نیوز کی تردید نہ کی تو پھر اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ اب پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اے آر وائی کے خلاف لندن جبکہ پی ٹی وی کے خلاف پاکستانی عدالت میں مقدمات دائر کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری فیک نیوز کو بنیاد بنا کر پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے قوانین لانے پر مصر ہیں۔ اس حوالے سے کپتان حکومت بھی سرگرم ہے اور پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی نامی ایک ڈریکونین قانون لانے کی خواہشمند ہے جس سے فیک نیوز کا قلع قمع ہو سکے گا لیکن ملک بھر کی تمام صحافتی تنظیمیں، اپوزیشن جماعتیں، سول سوسائٹی، لیبر یونینز اور وکلاء برداری اسے مسترد کرچکی ہیں۔
دوسری جانب حکومتی وزراء خود فیک نیوز پھیلانے میں مصروف ہیں۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اے آر وائی نیوز کی جانب سے پینڈورا لیکس میں جنید صفدر کے نام پانچ آف شور کمنپیاں ہونے کا دعویٰ چینل کو بہت بھاری پڑے گا چونکہ 3 اکتوبر کو اے آر وائی یوکے نے بھی یہ من گھڑت خبر نشر کی تھی۔ اگر لندن کی عدالت میں اسکے خلاف ہتک عزت کا کیس ہو گیا تو چینل کو بھاری جرمانہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان نے بھی اے آر وائی کو لندن میں ایک مقدمے میں بھاری جرمانہ کروایا تھا جس کے بعد ادارہ دیوالیہ ہوگیا تھا۔ شاید اسی لیے اب اے آر وائی باربار اپنی خبر کی تردید کر رہا ہے لیکن نون لیگ پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتی۔
اے آر وائے کا کہنا ہے کہ جنید صفدر کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں دعوے فواد چوہدری اور شہباز گل نے بھی کیے تھے۔ فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں نکلی ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتی اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟ دوسری جانب شہباز گل نے اپنی ٹویٹ میں جنید صفدر کی والدہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی چوری کی تحقیق ہو اور مریم باجی پیچھے رہ جائیں؟ کبھی بھی نہیں، اس کے ساتھ انھوں نے پی ٹی وی نیوز کا ایک سکرین شاٹ بھی لگایا جس میں جنید کے حوالے سے خبر تھی۔ تاہم پنڈورا پیپرز کی تحقیق میں شامل پاکستانی صحافیوں عمر چیمہ اور فخر درانی نے واضح کیا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
مریم نواز نے اپنے بیٹے جنید پر لگائے گئے الزام پر انتہائی سخت رد عمل دیا۔ انھوں نے اسی خبر کو نشر کرنے والے نجی ادارے اے آر وائی کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ اگر اے آر وائی نے فوری اس جعلی خبر پر معافی نہیں مانگی تو میں انہیں کورٹ لے کر جاؤں گی۔ بعد میں جب آے آر وائی نے خبر کی تصیح کرتے ہوئے کہا کہ جنید صفدر والی خبر درست نہیں تو مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ یہ کافی نہیں ہے۔ اے آر وائی کو بغیر کسی شک و شبہ کے معافی مانگنا ہو گی ورنہ وہ یہاں اور برطانیہ میں اپنے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ مریم کا کہنا تھا کہ اب کسی کو معافی نہیں ملے گی۔ بہت ہو گیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے اعلان کیا ہے کہ ‘پینڈورا پیپرز’ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کا نام غلط طور پر شامل کرنے پر پارٹی، سرکاری چینل پی ٹی وی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔
