وارث میر کی کہانی، جو آخری دم تک لڑتے ہوئے مارا گیا

ہر سچا دانشور، لکھاری، صحافی اور ناقد جس نے باغیانہ روش اپناتے ہوئے اپنے دور کے مروجہ دقیانوسی نظام اور اس کے پس پردہ کرداروں کا چہرہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی اسے جواباً ہر طرح کی مخالفت، مشکلات اور حتیٰ کہ فتوئوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس امتحان میں سرخرو وہی اہل دانش گردانے گئے جو اپنے مؤقف کی سچائی پر قائم رہے اور اس جدوجہد میں اپنی جان سے گزر گئے۔ ایسے معدودے دانشوروں میں ایک نام پروفیسر وارث میر کا ہے۔
کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل علم و دانش کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے، قوموں کے عروج و زوال کے اسباب پر نظر رکھنے اور تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ جلانے والا ہو اسی قدر وہ قوم ترقی کی منازل آسانی سے طے کرتی ہے۔ لیکن جس قوم کا یہ طبقہ اپنے کردار سے غافل ہو جائے یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے اسی قدر اس قوم کے زوال کے امکانات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
معاشرے کی تعمیر نو اور تشکیل نو میں دانشور طبقے کے کردار کی اہمیت کے پیش نظر ہم اپنے ملک اور قوم کے دانشوروں کے کردار کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ جان کر کس قدر حیرت ہوتی ہے کہ اسلام کی آفاقی تعلیمات کا صحیح ادراک حاصل کرکے اس کے مطابق معاشرے کی بہتری اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے والے دانشوروں کی بہت قلت ہے۔ کچھ دانشور ایسے ہیں جنہوں نے دین کو ایک انتہائی پرتشدد اور قتل وغارت گری کا بازار گرم کردینے والا مذہب بنا کر رکھ دیا ہے۔ کچھ نے اس کو اگرچہ انقلابی قرار دیا لیکن ان کے انقلاب کی بنیاد محض روایتی فکر پر ہے۔ اس قبیل کے کچھ لوگ ایسے ہیں جومذہب کو ایک نجی مسئلہ قرار دے کر اسے سیاست سے نکال باہر پھینکنا چاہتے ہیں اور وہ ایک ایسے نظام کے حامی و موئد ہیں جس میں انسان کی آزادی اورفکر و عمل پر پہرے بٹھا دیئے جاتے ہیں۔ مراد دہریت پر مبنی اشتراکی نظام ہے۔
کچھ دانشور مذہب کی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ جس میں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ اقدار کو عین اسلامی ثابت کیا جاتا ہے اور کچھ ایسے ہیں جو دین یا مذہب کو محض ایک عقیدے کے طور پر لیتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی معاملے میں اسے ’’لفٹ‘‘ ہی نہیں کروانا چاہتے۔ یہاں بہت سے اہل علم و دانش گروہی تعصبات سے ہٹ کر سوچنے کو غیرضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن کچھ دانشور ایسے بھی ہو گزرے ہیں جو اپنے معاشرتی کردار سے بے خبر نہ تھے اور انہو ں نے اپنے کردار کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اظہار ِ رائے کی آزادی، حریت فکر اور علم و خرد افروزی کے لئے قرون اولیٰ کے اہل علم و دانش کی یاد تازہ کردی ہے۔ ایسے دانشور آج بھی موجود ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو مر کر بھی زندہ ہیں۔ اہل علم و دانش کی رنگا رنگی میں ایک نام پروفیسر وارث میر کا بھی ہے۔ جن کی صحافت اور جمہوریت کے لیے خدمات کو نہ صرف حکومت پاکستان بلکہ حکومت بنگلہ دیش نے بھی سرکاری طور پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں بعد از مرگ اعزازات سے نوازا۔
وہ اپنے نظریات میں کس قدر مخلص تھے؟ انہوں نے قوم کی کس انداز میں اور کس قدر رہنمائی کی؟ اس کا پتہ تو ان کی تحریروں ہی سے چل سکے گا۔ مگر اس سے قبل ان کے حالا ت زندگی پر روشنی ڈالنا ضروری ہے تاکہ ان حالات اور واقعات کا پتہ چل سکے جو ان کے فکری رجحانات کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئے۔
پروفیسر وارث میر 22نومبر 1938کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام میر عبدالعزیز تھا جو کشمیری النسل تھے۔ میر عبدالعزیز پنجابی، فارسی اور اردو کے نامور شاعر تھے اور نوآموز شعرا ان سے اصلاح کلام کرایا کرتے تھے۔ وارث میر نے ابتدائی تعلیم دھارودال پرائمری سکول سیالکوٹ سے حاصل کی۔ انہیں بچپن ہی سے علم و ادب سے دلچسپی تھی اور گھر کے علمی و ادبی ماحول نے ان کی شخصیت پرگہرا ا ثر ڈالا۔ مذہب اورادب بچپن ہی سے ان کے خاص موضوعات تھے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ بچپن میں مختلف مشاعروں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ والد کی خصوصی توجہ کے باعث ان کا رسم الخط بہت خوبصورت تھا۔ نوعمری سے ہی وہ مطالعہ کے شوقین تھے اور یہ مطالعہ مختلف الجہت تھا۔ مذہب ، علم و ادب اور فنون لطیفہ سے انہیں گہری دلچسپی تھی۔
1955میں انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول سیالکوٹ سٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے تک وہ رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ ، ’’طلوع اسلام‘‘، ’’نگار‘‘ اور ’’ادب لطیف‘‘ کے مستقل خریدار تھے۔ اس سے ان کی علم دوستی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ا ن کے والد نے اپنی نگرانی میں ان کی علمی شخصیت کو پروان چڑھایا۔
1989 میں مرے کالج سیالکوٹ سے انہوں نے بی اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1958میں وہ مرے کالج میگزین کے ایڈیٹر کے علاوہ کالج کے بہترین مقرر رہے۔ کالج میگزین میں آپ معاشرتی، ثقافتی اور ادبی موضوعات پر لکھنے کے ساتھ ساتھ افسانے بھی لکھتے رہے۔ وہ شعر و شاعری بھی کرتے تھے۔ انہوں نے مختلف تقریری و تحریری مقابلوں میں بہت سے انعام اور تعریفی اسناد بھی حاصل کیں۔ 1962میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے صحافت میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں وہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں جزوقتی تدریس کے فرائض سرانجام دینے لگے اور ساتھ ساتھ مختلف اخبارات اور جرائد میں مستقل طور پر لکھتے رہے۔
1962سے 1965تک وارث میر روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور سے رپورٹر، سب رپورٹر ، میگزین ایڈیٹر اور کالم نویس کی حیثیت سے منسلک رہے۔ اسی دوران وہ دیگر اخبارات و جرائد میں بھی لکھتے رہے جس میں ہفت روزہ ’’بانگ سحر‘‘، ہفت روزہ ’’لیل و نہار‘‘ وغیرہ شامل تھے۔
1965میں وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے باقاعدہ لیکچرر کے طور پر وابستہ ہوگئے۔ 1966سے 1968تک وہ روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں کالم لکھتے رہے۔ 1966سے 1967تک ہفتہ روزہ ’’جہاں نما‘‘ میں بھی لکھتے رہے۔ جس میں ان کا ایک مستقل کالم ’’ملکوں ملکوں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ جس میں انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے سیاسی و ثقافتی مسائل پر طبع آزمائی کی۔ اسی دوران انہوں نے طلبہ کے ایک وفد کے ہمراہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کا بھی دورہ کیا۔
1967سے 1968 تک وہ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز کے سپرنٹنڈنٹ اور وارڈن بھی رہے۔ طلبہ کے ساتھ رات گئے تک مذہبی، سیاسی، معاشی ا ور معاشرتی موضوعات پر پرمغز بحثیں کرنا ان کے اس دور کے معمولات میں شامل تھا۔ وہ 1967سے 1968 تک ’’ایڈوائزر سٹوڈنٹس افیئرز‘‘ پنجاب یونیورسٹی بھی رہے۔ 1974سے 1976اور پھر 1980سے 1982تک وہ شعبہ صحافت کے چیئرمین تھے۔
پروفیسر وارث میر کو فکر اقبال سے خاص لگائو تھا اور انہوں نے اس سے گہرا استفادہ کیا اور اس کو اجاگر کرنے کے لئے بہت کام کیا۔ جس کے اعتراف میں 1979میں انہیں لندن کے پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ’’علامہ اقبال گولڈ میڈل‘‘ سے نوازا گیا۔
وارث میر متعصب نہ تھے۔ انہوں نے کسی کی مخالفت برائے مخالفت کی اور نہ وہ بے جا تعریف و توصیف کرنے کے عادی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ایوب خان کی آمریت کے بارے میں انہوں نے خوب لکھا لیکن جب اس نے عائلی قوانین کے نفاذ کااعلان کیا تو وارث میر نے اپنی تحریروں کے ذریعے اس اقدام کو سراہا۔اسی طرح بھٹو حکومت میں شامل بعض وزراء کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کرنے کے ساتھ ساتھ بھٹو کی زرعی اصلاحات، خارجہ پالیسی اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کی حمایت میں بھی لکھا۔ بعد ازاں انہوں نے بھٹو کے ’’جوڈیشل مرڈر‘‘ پر بھی قلم اٹھایا۔
وارث میر کو آمریت سے سخت نفرت تھی۔ خواہ یہ شخصی آمریت ہو، خواہ فوجی آمریت۔ چنانچہ 1977 میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا کر جنرل ضیاءالحق نے مارشل لا نافذ کیا تو انہوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کے لئے بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کیا۔
1978 میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تب وہ لندن میں تھے اور سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے برطانوی پریس کے کردار پر سٹی یونیورسٹی سے ایم فل کر رہے تھے۔ انہوں نے اس پر اپنے ایک دوست ایم یوسف قریشی سے کہا :
’’جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی تاریخ خون سے رنگ ڈالی ہے۔‘‘
لندن میں قیام کے دوران ان کا کالم ’’مکتوب لندن‘‘ کے نام سے باقاعدگی سے رونامہ نوائے وقت میں شائع ہوتا رہا۔ جس میں وہ پاکستانیوں کو آگاہ کرتے رہے کہ کیوں اہل مغرب اور سامراجی طاقتیں پاکستان میں جمہوریت کے خلاف ہیں۔ اس کورس کے دوران وہ حج کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے جہاں انہوں نے عمرہ اور حج اکبر کی سعادت حاصل کی۔
فروری 1981میں انہوں نے ایک وفد کے ہمراہ سات گلف ریاستوں کادورہ کیا اور ’’عرب پریس‘‘ عرب ریاستوں کی سیاسی صورتحال اور ’’فلسطینیوں کے ساتھ سپرطاقتوں کا رویہ‘‘ کے عنوانات سے مضامین تحریر کئے۔ پروفیسر وارث میر انسانی حقوق کے زبردست علمبردا ر تھے چنانچہ نومبر 1982میں انہوں نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام جنیوا میں منعقدہ سیمینار میں ’’فلسطینیوں کے حقوق‘‘ پر مقالہ پڑھا اور صیہونی بلاک کی غیرانسانی اور ظالمانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔
1983میں پروفیسر وارث میر نے پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں کے ماہرین ابلاغ عامہ، سیاسی مشیروں اور دانشوروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اورامریکہ کے معروف اخبارات اور جرائد میں انسانی حقوق پر مضامین لکھے۔ ان میں 19اگست 1983 کو "Seattle Post” میں لکھا جانے والا ان کا آرٹیکل "Who is in charge of American media” اور ایک آرٹیکل بعنوان "Role of media in the prerservation of Human Rights”بڑی اہمیت کا حامل تھا۔
اسی سال وارث میر کو ریا اور روم گئے اور وہاں کے اخبارات کے دفاتر اور اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں کا دورہ کیا۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب قصاص و دیت اور گواہی وغیرہ کے حوالہ سے عورتوں کو ’’آدھا‘‘ قرار دینے والا بل نافذ کیا گیا تو 12فروری 1983 کو لاہور کی معروف شاہراہ قائداعظم پر خواتین نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس پر پولیس نے وحشیانہ تشدد کیا ۔ اس جلوس میں وارث میر بھی شامل تھے۔ احتجاج کرنے والی شرکاء جلوس خواتین کو گرفتار کرلیا گیا تو وارث میر نے قلم اور تحریر کو احتجاج کا ذریعہ بنایا اور حکومت کے رویئے کی مذمت کی۔ انہوں نے پاکستان میں عورتوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے حوالے سے کالم لکھے اور عصرحاضر کے مطابق ان کا جائزہ لے کر ثابت کیا کہ مرد کے مقابلہ میں عورت کسی طور بھی آدھی حیثیت کی حامل نہیں ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں عورت کے حقوق، گواہی، قصاص و دیت، تعلیم، اور پردہ وغیرہ کے حوالے سے لکھے گئے اپنے کالموں میں جرأت مندانہ موقف اختیار کیا۔
1984 میں وارث میر نے ضیاء الحق کی طرف سے کرائے گئے ریفرنڈم اور بعد میں 1985 کے غیرجماعتی انتخابات کے انعقاد کی شدید مذمت کی اس ضمن میں ان کا موقف یہ تھا کہ یہ انتخابات اور ریفرنڈم غیر آئینی اقدام ہیں اور عوامی امنگوں کے خلاف ہیں۔
اس سلسلہ میں حبیب جالب نے وارث میر کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں لکھا:
’’1984میں جب جنرل ضیاء الحق نے ریفرنڈم کا اعلان کیا تو وارث میر پہلے لکھاری تھے جنہوں نے اس ریفرنڈم کو غیراسلامی اور غیرآئینی قراردیا۔ انہی دنوں گورنر ہائوس لاہور میں جنرل ضیاء الحق نے پروفیسر وارث میر کو ملاقات کے لئے بلایا۔ ضیاء الحق نے وارث میر کو اپنی چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی لیکن وارث میر راضی نہ ہوسکے۔ اس پر ضیاء الحق نے بڑے سخت لہجہ میں کہا ’’میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ سرکار سے تنخواہ لینے والے سرکار پر تنقید کریں۔‘‘ وارث میر ان دنوں شعبہ ابلاغیات جامعہ پنجاب میں استاد تھے اور سرکاری ملازم ہونے کے باوجود ان کا قلم سرکار کی مخالفت میں چل رہا تھا۔ لیکن ضیاء الحق کی دھمکی کے بعد بھی وہ باز نہ آئے۔ ریفرنڈم سے کچھ روز قبل ایک اعلیٰ سرکاری شخصیت نے وارث میر کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور پیش کش کی کہ اگر وہ ٹیلی ویژن پر آ کر ریفرنڈم کے نتائج پر حکومت کے حق میں تبصرہ کریں تو ان کو ترقی مل سکتی ہے لیکن وارث میر نے سرکار کے حق میں تبصرے سے انکارکردیا۔‘‘
پھر جب 1985کے غیرجماعتی انتخابات کا اعلان ہوا تو وارث میر ہی وہ شخص تھے جنہوں نے ان انتخابات کو پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل ا ور قومی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ قرار دیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق کی مخالفت کرنے کی پاداش میں پروفیسر وارث میر کو پاکستان ٹیلیویژن کی مرکزی مشاورتی کمیٹی اور فلم سنسر بورڈ کی رکنیت سے ہٹا دیا گیا۔
آگے بڑھنے سے پہلے جنرل ضیاء الحق کے عہد کے بارے میں تھوڑا سا تعارف ہوجا ناچاہئے۔
جنرل کے دور میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اخبارات اور رسائل و جرائد پر سنسر شپ عائد کردی گئی اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور مارشل لا حکومت کے مخالفین کے لئے مشکلات پیدا کردی گئی تھیں۔ بعض لوگوں کو کوڑے بھی مارے گئے اور لاتعداد لوگوں کو جیلوں میں بھیجا گیا۔ صحافیوں کوپالنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ مذہب کے نام پر ایک خاص قسم کی ملائیت کو فروغ دیا جارہا تھا۔ ملائوں کی حمایت سے رواداری اور اجتہاد کی بات کرنے والوں پر کفر کے فتوے لگائے جاتے تھے اور اظہار ِ رائے کی آزادی سلب تھی۔ حکمران ایک طویل عرصے تک حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ اس دور میں جن گنے چنے حقوق پرستوں نے ’’ظالم حاکم‘‘ کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا اعلان کیا ان میں وارث میر پیش پیش تھے۔
ضیاء کی آئین میں آٹھویں ترمیم اور نویں ترمیم کو بھی وارث نے تحریری تنقید کا نشانہ بنایا۔ ضیاء دور کے ’’شریعت بل‘‘ کی بھی بھرپور مخالفت کی۔ اس سلسلہ میں حبیب جالب لکھتے ہیں:
’’وارث میر کی جنگ کا سب سے کٹھن دور وہ تھا جب انہوں نے شریعت بل کو بھی اسلام اور پاکستان کے تقاضوں کے منافی قرار دے دیا۔ اس جنگ کے دوران وارث میر نے دن رات جاگ کر گزارے۔ روشن خیال علما کی محفلوں اورلائبریریوں میں کئی کئی گھنٹے گزارے۔ شریعت بل اور شریعت محمدی میں فرق کو سمجھا اور شریعت بل کو خلاف ِ شریعت قرار دینے کے لئے باریک بینی سے کام لیا۔ پروفیسر وارث میر کی جنگ کا یہ اثر ہوا کہ بہت سے علماء جو خاموش تھے شریعت بل کے خلاف بول پڑے اور حکومت کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ شریعت بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرے۔‘‘
دوسری طرف پروفیسر وارث میر کو جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ جماعت اسلامی اس دور میں ضیاء الحق کی پالیسیوں کی زبردست حامی تھی اور ضیاء الحق کے لئے ایک گونہ تقویت پہنچانے کا باعث بھی تھی۔
پروفیسر وارث میر چومکھی لڑائی لڑ رہے تھے۔ ملازمت کے دوران انہیں یونیورسٹی کی طرف سے کئی بار ’’شوکاز نوٹس‘ ‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر لکھنے لکھانے کا کام بھی جاری تھا۔ 1985تک وارث میر روزنامہ نوائے وقت میں لکھتے رہے۔ 1985 میں جب جنرل ضیاء الحق کی مخالفت حد سے بڑھ گئی اور ان کے بعض آرٹیکل نوائے وقت نے چھاپنے سے انکار کردیا تو وہ اصولوں کی بنیاد پر روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے۔ یہاں ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ جب نوائے وقت میں ان کے بعض آرٹیکل اشاعت سے محروم رہنے لگے روزنامہ جنگ لاہور میں انہیں لکھنے کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے اس شرط پر روزنامہ جنگ لاہور میں لکھنے کی حامی بھری کہ اگر ان کی تحریریں نہ روکی گئیں اور قطع و برید سے محفوظ رہنے دی گئیں تو وہ جنگ جوائن کرلیں گے۔ چنانچہ ٹیسٹ کیس کے طور پر انہوں نے ’’حمید نظامی‘‘ کے حوالے سے ’’جنگ‘‘ کو ایک مضمون چھپنے کے لئے دیا جو جنگ نے مرحوم کی برسی پر شائع کردیا۔ اس طرح وارث میر روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ’’نوید فکر‘‘ کے نام سے مستقل طور پر لکھنے لگے۔
ان کے کالم سنجیدگی، متانت اور منطق و استدلال سے بھرپور ہوتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری دو سالوں میں انہوں نے عام نوعیت کے موضوعات کی بجائے صرف فکری، سیاسی اور دینی موضوعات پر لکھا۔ ان کا خیال تھا کہ ’’سوچنا ، سوال کرنا، شک کرنا اور انکار کرنا ، علم و معرفت کی پہلی سیڑھی ہے‘‘ لہٰذا وہ تحقیق و جستجو میں بہت متفرق رہے۔فروری 1987 میں وارث میر نے بھارت کے شہر دہلی میں ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کی۔
جون 1987میں انہیں روس میں خواتین کے حقوق کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی لیکن حکومت پاکستان نے انہیں روس جانے کی اجازت نہ دی۔
وارث میر نے ’’صحافت پرپابندیوں کی داستان‘‘ کے عنوان سے کئی قسطوں پر مشتمل ایک طویل سلسلۂ مضامین نوائے وقت میں لکھا جس میں انہوں نے بتایا کہ حکومت اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کس طرح پریس کی آزادی سلب کرتی ہے اور سرکاری دانشوروں کی پرورش کرتی ہے انہوں نے صحافتی مسائل ومشکلات پر بھی لکھا۔پروفیسر وارث میر نے تقریباً ربع صدی تک اپنے قلم کا جادو جگایا جس میں انہوں نے مختلف علمی، ادبی، سیاسی، تاریخی ، ثقافتی، نفسیاتی، معاشرتی، مذہبی اورفکری موضوعات پر قلم اٹھایا، ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور یہ شوق انہیں جنون کی حد تک تھا۔ ان کی لائبریری مختلف النوع موضوعات کی کتابوں کاایک بے مثل ذخیرہ تھی۔ جہاں کوئی نئی کتاب کی انہیں اطلاع ملتی وہ ہر طریقے سے اسے حاصل کرنے کی سعی کرتے۔
حریت پسندی کے حق میں لکھتے ہوئے وارث میر نے امریکہ ویت نام جنگ میں جدوجہد ِ آزادی کے رہنما ’’ہوچی من‘‘ کی حمایت میں بھی قلم اٹھایا۔ انڈونیشیا کے حریت پسند لیڈر سوئیکارنو کے خلاف بی بی سی کے پروپیگنڈے پرزبردست تنقید کرتے ہوئے اپنی تحریروں میں اس کا پول کھولا ۔
زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے حریت فکر کے حوالے سے خصوصی مضامین لکھے۔ روزنامہ جنگ لاہور میں 1985سے 1987تک لکھے جانے والے مضامین نے وارث میر کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ مطالعہ اور تحقیق ان کا خاصہ تھا۔ ان کے مضامین میں تازگی اور ہمیشگی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے مضامین تازہ لگتے ہیں جبکہ ان کے عہد کے بیشتر لکھاری محض سیاسی تجزیہ نگار تھے اور ان کی تحریریں صرف وقتی اہمیت کی حامل ہوتی تھیں۔
وارث میر کو اپنی زندگی کے آخری دو سالوں میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس سلسلہ میں حبیب جالب اپنے مضمون ’’پروفیسر وارث میر کی جنگ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’… لیکن دوسری طرف بیچارہ وارث میر خطرات اورمشکلات کے بھنور میں چلا گیا۔ شروع شروع میں تو وہ چپ سادھ کر تکلیفیں اٹھاتا رہا لیکن پھر جب تکلیفیں بڑھ گئیں تو اس کی سسکیاںدوسروںنے بھی سن لیں۔ وارث میر کی سسکیاں اس وقت نکلیں جب شریعت بل کے خلاف لکھنے کی پاداش میں اس کے ایک معصوم اور بیگناہ بیٹے کو ایک قتل کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیا گیا۔ وہ وارث میر جو تمام خطرات سے کھیلتا رہا بیٹے کے دکھ نے اس کی سسکیاں نکلوادیں۔ وارث میر کی زندگی کا یہ اہم ترین موڑ تھا لیکن پھر سارے زمانے نے دیکھا کہ وارث میر کچھ عرصہ مغموم اور پریشان رہنے کے بعد اپنی جنگ میں پھر مصروف ہو گیا اور اس کے قلم کی کاٹ اتنی بڑھ گئی کہ دشمن بوکھلا اٹھے۔ دسمبر 1986سے لے کر جولائی 1987 تک زندگی کے آخری آٹھ ماہ کے دوران وارث میر ہم سب سے بہت آگے نکل گیا۔ اس نے مورچے سے نکل کر دشمنوں پر دیوانہ وار حملہ کردیا تھا۔‘‘
وارث میر کو دکھ تھا کہ اس کے نظریات کی سزا اس کے بیٹے کو دی جارہی ہے۔ ان کے بیٹے کو عدالت نے بے گناہ قرار دے دیا مگر تب تک وہ وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔
وارث میر کا انتقال 9جولائی 1987کے روز دل کا دورہ پڑنے سے صبح تقریباً 6بجے لاہور میں ہوا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 48 سال تھی۔ انہیں پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس کے قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔ پروفیسر وارث کے پسماندگان میں ان کے چار بیٹے حامد میر، فیصل میر، عامر میر، عمران میر اور بیٹی ہما میر شامل ہیں۔ 10دسمبر 1993 کو ان کی بیوہ ممتاز میر بھی انتقال کرگئیں۔
ضیاء مارشل لا کے خلاف پروفیسر وارث میر کی صحافتی جدوجہد کے اعتراف میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے 1988 میں انہیں انسانی حقوق کے خصوصی ایوارڈ (بعد از مرگ) سے نوازا۔ 2012میں حکومت پاکستان نے پروفیسر وارث میر کو ان کی صحافتی خدمات اور جمہوریت کی بحالی کے حوالے سے جدوجہد کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ہلال امتیاز (بعد از مرگ) سے نوازا جو ان کے صاحبزادے عامر میر نے وصول کیا۔
2013میں بنگلہ دیش کی حکومت نے مشرقی پاکستان میں یحییٰ خان کے فوجی ایکشن اور بنگالیوں کے قتل عام کے خلاف اپنی تحریروں کے ذریعے آواز بلند کرنے پر پروفیسر وارث میر کو ’’فرینڈز آف بنگلہ دیش‘‘ لبریشن وار ایوارڈ کے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا۔ وارث میر کی خدمات کا اتنے طویل عرصے بعد اعتراف کرنے پر بنگلہ دیشی حکومت نے وارث میر کے خاندان سے تحریری معذرت بھی کی۔ پروفیسر وارث میر کا ایوارڈان کے بڑے صاحبزادے اور معروف صحافی حامد میر نے 26مارچ 2013 کو ڈھاکہ میں وزیراعظم حسینہ واجد کے ہاتھوں وصول کیا۔ دیگر پاکستانی شخصیات، جن کو اس ایوارڈ سے نوازا گیاان میں فیض احمدفیضؔ اور حبیب جالب بھی شامل تھے۔
2013میں ہی حکومت ِ پنجاب نے پروفیسر وارث میر کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں لاہور کے علاقے پنجاب یونیورسٹی سے گزرنے والے نیوکیمپس انڈرپاس کو ’’وارث میر انڈرپاس‘‘ کا نام دے دیا جو کہ جامعہ پنجاب میں میر صاحب کی آخری آرام گاہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پرواقع ہے۔ اسی برس وفاقی حکومت نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں پروفیسر وارث میر چیئر کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
تاہم اگست 2019 میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کو ٹوئٹر پر فالو کئے جانے کے چند روز بعد اچانک ہی کینال روڈ لاہور پر واقع پروفیسر وارث میر انڈرپاس کا نام راتوں رات تبدیل کردیا گیا اور وہاں کشمیر انڈر پاس کے نئے بورڈ لگادیے گئے۔ دراصل چونکہ ان دنوں وزیراعظم اور ان کی حکومت حامد میر کی آزاد صحافت سے نالاں تھی چنانچہ غصہ پروفیسر وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے نکالا گیا۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے وارث میر انڈرپاس کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے کو بغض پر مبنی ایک ایسا بھونڈا فیصلہ قرار دیا جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حکومتی فیصلے کے ناقدین کا کہنا تھا کہ پروفیسر وارث میر ایک نامور دانشور، لکھاری، مصنف اور استاد تھے جن کی گرانقدر صحافتی خدمات کے اعتراف میں ریاست پاکستان نے انہیں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’ھلال پاکستان‘‘ سے نوازا تھا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی کے علاقے میں واقع نیو کیمپس انڈرپاس کو مارچ 2013 میں پروفیسر وارث میر کے نام سے ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں منسوب کیا گیا تھا۔ ویسے بھی وارث میر نے جامعہ پنجاب لاہور کے شعبہ صحافت میں تقریبا تیس برس بطور استاد خدمات سر انجام دیں اور وفات کے بعد ان کی تدفین بھی لاء کالج جامعہ پنجاب کے قبرستان میں ہوئی تھی لہٰذا اس انڈر پاس کا نام نیو کیمپس انڈر پاس سے تبدیل کر کے وارث میر کے نام سے منسوب کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ وارث میر وہ واحد شخصیت نہیں تھے جن کے نام سے لاہور میں کسی انڈر پاس کو منسوب کیا گیا تھا۔ دراصل 2013 میں لاہور کے ایک درجن سے زائد انڈرپاس اور سڑکیں ملک کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کے ناموں سے منسوب کی گئیں جن میں فیض احمد فیض، حبیب جالب، اشفاق احمد، جسٹس اے آر کارنیلیئس، استاد دامن، چوہدری رحمت علی، خوشحال خان خٹک، لیاقت علی خان، چاکر اعظم رند، جسٹس اے آر کیانی اور پطرس بخاری وغیرہ شامل تھے۔ تاہم چھ برس بعد اچانک ایک رات بزدار انتظامیہ نے نیو کیمپس انڈر پاس کے دونوں طرف سے وارث میر انڈرپاس کے بورڈز اتار دئیے اور وہاں کشمیر انڈر پاس کے نئے بورڈز لگادئیے۔ ایسا کیوں کیا گیا، کس کے کہنے پر کیا گیااور کس وجہ سے کیا؟، اس حوالے سے کسی متعلقہ ادارے یا شخص کے پاس کوئی جواز یا جواب موجود نہیں تھا۔ خصوصاً اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے پایا کہ جب سب انڈر پاسز اور سڑکیں نامور شخصیات کے نام پر ہیں تو صرف اس ایک انڈر پاس کا نام شخصیت سے تبدیل کر کے ایک علاقے سے کیوں منسوب کیا گیا؟ تاہم ضلعی انتظامیہ نے یہ ضرور تسلیم کیا کہ اس انڈر پاس کا نام بدلنے کے احکامات اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کی جانب سے آئے تھے جس کے بعد راتوں رات کام ڈالا گیا۔ کپتان حکومت کی اس نیچ حرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے وارث میر فاونڈیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پروفیسروارث میر کے نام سے منسوب انڈرپاس کا نام تبدیل کرکے کشمیر انڈر پاس رکھنا ایک بھونڈے سیاسی شعبدے کے علاوہ اورکچھ نہیں اور کشمیر کی جنگ وارث میر جیسے ترقی پسند اور حریت پسند کشمیری کے نام کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے نہیں لڑی جا سکتی۔ ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وارث میر کے نام سے منسوب انڈرپاس کا نام تبدیل کرنا دراصل ریاستی اور حکومتی عناصر کی کم ظرفی، بغض اور کینے کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا مقصد مرحوم دانشور کے ہزاروں شاگرد صحافیوں اور انکی اپنی اولاد کو تکلیف پہنچانا ہے جو کہ صحافت میں اپنے والد کے دکھائے ہوئے حق گوئی اور سچ گوئی کے راستے سے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وارث میر فاؤنڈیشن کے ترجمان نے مزید کہا کہ جناح کے پاکستان میں فوجی آمروں کے غاصبانہ ہتھکنڈوں کے خلاف جمہوریت اور صحافت کی آزادی کی جنگ لڑنے والے وارث میر جیسے حریت فکر کے نقیبوں کی خدمات کا اعتراف کرنے کی بجائے انکا نام مٹانے کی ریاستی روش قابل مذمت ہے۔
وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کئے جانے کے کچھ عرصے بعد یہ معاملہ پنجاب اسمبلی میں زیر بحث آیا تو اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے وزیر قانون راجہ بشارت کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے انڈرپاس کا پرانا نام دوبارہ سے بحال کرنے کرنے کی کارروائی کریں۔ تاہم تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے راجہ بشارت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی اور معاملے کو لٹکا دیا لیکن پھر 9 جون 2020 کے روز پنجاب اسمبلی نے وارث میر کی ملک کے لیے گراں قدر صحافتی اور علمی خدمات کے اعتراف میں خراج عقیدت پیش کرنے کی ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں پروفیسر وارث میر کی آخری آرام گاہ کے قریب واقع نیو کیمپس انڈرپاس کو دوبارہ سے وارث میر انڈر پاس کا نام دیا جائے۔
یہ قرارداد ن لیگ کے سابق صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے متفقہ طور پر حمایت کی۔ خلیل طاہر سندھو کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ وارث میر (1987-1938) اپنے دور کے ایک ممتاز صحافی، دانشور، صحافی اور استاد تھے جنہوں نے آمرانہ ادوار میں جمہوریت کے لیے مثالی جدوجہد کی اور اپنی جرات مندانہ تحریروں کے ذریعے کلمہ حق بلند کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ہونے کے ساتھ آپ نے تقریبا پچیس سال صحافت پڑھائی اور ملک کے تمام معروف اردو اخبارات میں بے باک اورفکر انگیز کالم مضامین لکھے جو کہ آج بھی کتابی صورت میں محفوظ ہیں۔
قررداد میں کہا گیا کہ گزٹ آف پاکستان برائے سال 2013 کے صفحہ نمبر 44 کے مطابق پروفیسر وارث میر نے ’’سچائی کے لیے لکھوں اور لوگوں کی آواز بن کر بولوں‘‘ کے مصداق ایک مشن کے ساتھ پاکستان کے عوام کی جمہوری امنگوں کی ترجمانی کی۔ بنیادی انسانی حقوق کے داعی، آزادی اظہار اور سوچ کے علمبردار ہونے کے ناطے وارث میر نے اپنے لیے اس مشکل راہ کا انتخاب کیا جو ان کے ہم عصر صحافی نہ کر پائے۔ پابندیوں، دھمکیوں، ذہنی اذیت اور تشدد کے باوجود آپ پختہ عزم کے ساتھ ظالم آمرنہ قوتوں کے سامنے ڈٹے رہے، اور اپنے اصولی موقف پر چلتے ہوئے جمہوریت اور آزادی اظہار کی چومکھی جنگ لڑی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ وارث میر کی تحریر کردہ کتابوں میں ’’حریت فکر کے مجاہد‘‘ ،’’وارث میر کا فکری اثاثہ‘‘، ’’کیا عورت آدھی ہے‘‘ ، ’’ خوشامدی صحافت اور سیاست‘‘ اور ’’ضمیر کے اسیر‘‘ شامل ہیں۔ آپ نے اپنے اصولوں کی خاطر لڑتے ہوئے صرف 48 سال کی عمر میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔ صحافت کے شعبے میں آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے پروفیسر محمد وارث میر کو سال 2013 میں ہلال امتیاز (بعدازمرگ) کا اعزاز عطا کیا ہے۔ لہٰذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان متفقہ طور پر پروفیسر وارث میر کی بیش قدر ملکی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں ان کی آخری آرام گاہ کے قریب واقع نیو کیمپس انڈرپاس کو دوبارہ پروفیسر وارث میر انڈر پاس کا نام دے دیا جائے۔ ‘‘
