عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کوماموں بنا دیا
عمران خان ہمیشہ سے ن لیگ کے منصوبوں کے ناقد رہے، لیکن جانے انجانے میں انہوں نے ن لیگ کے لینڈ مارک پراجیکٹ کا افتتاح کردیا وہ بھی ایسے جیسے یہ منصوبہ تحریک انصاف کا اپنا ہو۔
گزشتہ ماہ عمران خان نے پنجاب کے اضلاع خوشاب اور جہلم کے ہزاروں ایکڑ بارانی رقبہ کو سیراب کر کے قابل کاشت بنانے کے 360 ملین ڈالرز مالیت کے 115 کلومیٹر طویل منصوبے جلالپور ایریگیشن پراجیکٹ کا افتتاح کیا اور 120 سال کی طویل تاخیر کے بعد یہ بڑی اسکیم شروع کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریف کی۔
تاہم وزیراعظم عمران خان کو کسی نے یہ تک بتانے کی زحمت نہ کی کہ انہیں جس منصوبے کے افتتاح کےلیے مدعو کیا گیا اس کی منصوبہ بندی، مذاکرات اور منظوری عثمان بزدار نے نہیں بلکہ شہباز شریف نے دی تھی۔
گزشتہ ہفتے یعنی دسمبر 2019ء کے آخری ہفتے میں جہلم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ’’میں آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں آج وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے اس پراجیکٹ کو شروع کیا۔
یہ منصوبہ گزشتہ 120 سال سے تاخیر کا شکار ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس پروجیکٹ کا آغاز کیا کیوں کہ ایسے منصوبے لوگوں کی زندگی بدل دیتے ہیں۔‘‘ سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا پراجیکٹ کی مکمل منصوبہ بندی، آغاز اور اس پر مذاکرات شہباز شریف حکومت نے کیے تھے۔
یہ سب 2009ء میں اس وقت شروع ہوا تھا جب شہبازشریف نے اس پراجیکٹ کی تعمیر کی ہدایت کی تھی۔
فزیبلٹی کا کام 2013ء میں مکمل ہوا۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کو اس کام میں شامل کیا گیا جس کے تحت پراجیکٹ کی پراسیسنگ، پلاننگ، قرضے کے حصول کےلیے مذاکرات، ماحولیاتی تحقیق، آبادی کو پراجیکٹ سائٹ سے منتقل کرنے کے منصوبوں پر کام کےلیے تین سے چار سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔
اس طرح کے بڑے پروجیکٹ کےلیے برسوں تک سروے ہوتا ہے اور ڈیزائن کا خیال رکھا جاتا ہے، یہ کام 2017ء میں مکمل ہوئے۔ اس کی تمام تر تفصیلات ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
قرضے کے معاہدے کی دستاویز دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس پر پاکستان اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے اپریل 2018ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں دستخط کیے گئے۔
پراجیکٹ کے معاہدے پر اپریل 2017ء میں اس وقت کے سیکریٹری ایری گیشن پنجاب اسد اللہ نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی منظوری سے دستخط کیے۔ پنجاب کے جس سالانہ ترقیاتی پلان کی منظوری شہبازشریف حکومت نے دی تھی اور جو بجٹ مالی سال 2017-18ء کےلیے منظور کیا گیا تھا اُس میں میں بھی اِس پراجیکٹ کا ذکر موجود ہے۔ 2013ء سے 2018ء تک پنجاب حکومت نے پراجیکٹ کی زمین کے حصول کےلیے تقریباً 2 ہزار 998 ملین روپے خرچ کیے۔
2017-18ء میں پراجیکٹ کےلیے صوبہ بندی کے مرحلے پر، کینال کی الائنمنٹ کا کام مقامی لوگوں کی مشاورت کے ساتھ علاقے سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ذریعے کروایا گیا۔
2016ء میں خوشاب میں سیمینارز کا انعقاد بھی کیا گیا تاکہ کسانوں کی ضرورت کے مطابق کینال کی الائنمنٹ کے کام کو حتمی شکل دی جا سکے۔ 2016-2017ء میں اے ڈی پی میں انجینئرنگ ڈیزائن کا کام مکمل کیا گیا۔ نون لیگ کی حکومت نے اس کام پر 7 کروڑ روپے خرچ کیے۔
2017-18ء کے دوران پروجیکٹ کےلیے 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ اُس وقت کی حکومت نے زمین کے حصول کےلیے مجموعی طور پر تین ارب روپے خرچ کیے تھے۔ سابقہ حکومت نے 8 ہزار ایکڑ زمین حاصل کی جو اپنے طور پر ایک بہت بڑی انتظامی مشق ہے، پراجیکٹ کے انجینئرنگ ڈیزائن پر 49 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔
طویل اور مفصل انجینئرنگ ڈیزائن بنانے میں 16 ماہ لگے۔ حتیٰ کہ 36 کروڑ ڈالرز کے اس میگا پراجیکٹ کی نیلامی کی دستاویزات تیار کرنا بھی ایک بڑی مشق تھی جو نون لیگ کی حکومت کے دوران مکمل ہوئی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ضابطوں کے عین مطابق، پراجیکٹ کی نگرانی کےلیے کنسلٹنٹ کی خدمات کے حصول کےلیے ن لیگ کی حکومت نے اپریل 2018ء میں شرائط کار جاری کیں۔
اس پراجیکٹ کا Command Area Development Component محکمہ زراعت نے اگست 2017ء میں تیار کیا۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ 274 ملین ڈالرز ایشیائی ترقیاتی بینک کا قرضہ ہے جب کہ 85 ملین ڈالرز حکومت پنجاب اور کسانوں کا حصہ ہے۔
سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک کی منظوری احسن اقبال کی زیر قیادت پلاننگ کمیشن نے 2017ء اور 2018ء میں دی۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ شہبازشریف باقاعدگی کے ساتھ پراجیکٹ کا جائزہ لیتے تھے اور 2014، 2016 ، اور 2017ء میں مختلف مراحل پر منظوری دیتے رہے اور ساتھ ہی 2018ء کے اوائل میں حتمی قرضے کی منظوری بھی دی۔
اس کینال کے نتیجے میں پنڈ دادن خان اور خوشاب تحصیل کی ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین کو سیراب کیا جا سکے گا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام، کسان اور علاقے کے شہری بھی مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ پراجیکٹ کا آغاز شہبازشریف نے 2013ء میں کیا تھا۔
تاہم، پراجیکٹ کے حوالے سے شہبازشریف نے پہلی ہدایت 2009ء میں جہلم کے دورے کے موقع پر دی تھی۔ فزیبلٹی 2013ء میں مکمل ہوئی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، قرضے کے معاہدے پر شہبازشریف حکومت نے 2017ء میں دستخط کیے تھے اور ہر کام کو حتمی شکل دے کر اسے مئی 2018ء تک کمیشن کیا گیا لیکن اب وزیراعظم کو یہ ماننے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ موجودہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یہ کام شروع کیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی دستاویز کے مطابق، جلال پور ایری گیشن پراجیکٹ (جے آئی پی) دریائے جہلم کے داہنے کنارے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ کینال پنڈ دادن خان اور خوشاب کے اضلاع میں زرعی پیداوار کےلیے ایک زبردست خدمات فراہم کرے گا۔
اس پراجیکٹ کے نتیجے میں خریف کی پیداوار 50 فیصد تک بڑھ جائے گی، فصلوں کی پیداوار میں بہتری آئے گی، اور زمین کے انحطاط میں کمی آئے گی۔
اس پراجیکٹ سے براہِ راست دو لاکھ دیہی لوگوں کا فائدہ ہوگا، جن کی اکثریت غریب ہے۔ پروجیکٹ کے نتیجے میں 200 کلومیٹر تک نئے کینال تعمیر کیے جا سکیں گے جب کہ ادارہ جاتی اصلاحات لائی جا سکیں گی اور کسانوں کی تنظیمیں قائم ہوں گی اور کسانوں کی استعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ پراجیکٹ کے نتیجے میں خوراک کی فراہمی کو تحفظ (فوڈ سیکورٹی) ملے گا۔
معاشی نمو میں اضافہ ہوگا اور پروجیکٹ سے جڑے دیہی علاقوں میں غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ پراجیکٹ کے نتیجے میں (پنڈ دادن خان اور خوشاب کے اضلاع میں) زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور علاقے میں زرعی سپورٹ سروسز اور آبپاشی کےلیے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
جب کہ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ انہیں اس پراجیکٹ کی تفصیلات کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری میٹنگ میں مصروف ہیں اس لئے زیادہ بات نہیں کر سکتے۔
