وزیراعظم نے توانائی کمپنی سے متعلق تنازع حل کروا دیا

وزیراعظم عمران خان کی مداخلت پر پاور ڈویژن نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کمپنی کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے پاور پرچیز ایگریمنٹ پر باقاعدہ دستخط سے متعلق تنازع حل کردیا۔
ذرائع کے مطابق 510 ارب روپے مالیت کے پاور پروجیکٹ نے گزشتہ برس اگست میں 969 میگاواٹ پیداواری صلاحیت حاصل کی تھی اور تب سے لے کر اب تک کسی ادائیگی کے بغیر نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کررہا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور این جے ایچ پی سی کے درمیان پی پی اے پر دستخط نہ ہونے کا نتیجہ 75 ارب روپے کے گردشی قرضے کی صورت میں نکلا ہے۔مختلف اعلی عہدیداران سے حالیہ ملاقاتوں میں این جے ایچ پی سی کے چیف ایگزیکٹو افسر بریگیڈیئر محمد زرین نے خبردار کیا تھا واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں حکومت کو سنگین سیاسی، مالی اور ساکھ سے متعلق خطرات ہوں گے۔تاخیری ادائیگیوں کی وجہ سے حکومت کو 75 ارب سے زائد گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے کنزیومر ٹیرف میں اضافہ کرنے کی ضرورت جبکہ حکومت اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ضمانتوں کو بے نقاب کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔
ایک سینئر عہدیدار کے مطابق وزیراعظم آفس نے مداخلت کی تھی اور پاور ڈویژن کو جلد از جلد یہ معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے سی پی پی اور این جے ایچ پی کے نقطہ نظر سنے تھے جس کے بعد سی پی پی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا تھا جس نے دونوں اداروں کے درمیان پی پی اے پر دستخط کی منظوری دی۔عہدیدار نے بتایا کہ دونوں فریقین نے اپنے قانونی ماہرین کی جانب سے جانچ پڑتال کے بعد رواں ہفتے پی پی اے پر دستخط پر اتفاق کیا ہے۔
قبل ازیں این جے ایچ پی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ اگر ایک ماہ میں توانائی کی ادائیگیاں شروع نہیں ہوتیں تو این جے ایچ پی سی، واپڈا اور حکومت پاکستان نادہندگان ہوجائیں گے کیونکہ شعبہ توانائی اپنے لائن لاسز میں کمی ظاہر کرنے کے لیے اس کے یونٹس کسی حساب کے بغیر استعمال کررہا ہے۔
این جے ایچ پی س کے سی ای او نے 27 نومبر کو کہا تھا کہ ’اگر سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی (سی پی پی اے) کی آمدنی دسمبر 2019 تک شروع نہیں ہوتی تو این جے ایچ پی سی، واپڈا اور حکومت پاکستان ناہندگان ہوجائیں گے کیونکہ متعلقہ فریقین متعدد مرتبہ ادائیگی کی گارنٹی دینے کے بعد بھی ناکام رہے علاوہ ازیں این جے ایچ پی سی روز مرہ کے مینٹیننس کی مد میں بھی اخراجات پورے کرنے میں ناکام رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button