وزیراعظم نے کرپٹ اور C گریڈ عمر شیخ کو CCPO کیوں لگایا؟

وزیراعظم عمران خان نے ایک ایسے پولیس آفیسر کی خاطر آئی جی پنجاب کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا ہے جس پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں اور جسے جون 2020 میں سینٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے "سی گریڈ” آفیسر قرار دئیے جانے پرکپتان نے خود پرموشن دینے سے انکار کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 8 ستمبر کو دو سال میں پنجاب کے 5ویں آئی جی پولیس شعیب دستگیر کو اس لیے تبدیل کر دیا تھا کے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعد نہ صرف اپنے باس شعیب دستگیر کے خلاف گفتگو کی تھی بلکہ اپنے ماتحت پولیس افسران کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ وہ ان سے پوچھے بغیر آئی جی پنجاب کا کوئی حکم نہیں مانیں گے۔ چنانچہ اس معاملے پر شعیب دستگیر نےعمر شیخ کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر انہیں خود فارغ ہونا پڑ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے جیو ٹی وی پر شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں تسلیم کیا ہے کہ ان کو تیسرے درجے کا افسر ہونے کی وجہ سے اگلے گریڈ میں پرموشن نہیں ملی تھی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چارج لینے کے بعد انہوں نے اپنے ماتحت عملے کو آئی جی پنجاب کا حکم ماننے سے منع کیا تھا۔ عمر شیخ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ پنجاب کے سب سے قابل پولیس آفیسر ہیں جس نے صوبے کے دس اضلاع میں پولیس کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے اس بات کی انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا کہ صوبے کا سب سے قابل افسر ہونے کے باوجود انہیں گریڈ 20 سے گریڈ 21 میں پرموشن کیوں نہیں دی گئی تھی؟ یعنی انہوں نے سلیکشن بورڈ اور وزیراعظم کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے جنہوں نے ان کو پرموشن دینے سے انکار کیا تھا۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کے روبرو عمر شیخ کی رپورٹ پیش کرنے والے ادارے انٹیلی جنس بیورو نے وزیر اعظم کو عمر شیخ کی ساکھ کے متعلق انتہائی منفی ریمارکس دیے تھے۔ عمران خان نے عمر شیخ کو پروموشن اس لیے بھی نہیں دی تھی کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ نے انہیں ایک ’’داغدار‘‘ کیریئر والا افسر قرار دیا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ وزیر اعظم نے آئی جی پنجاب کو تبدیل کر دیا اور اپنا وزن ایک ایسے افسر کی حمایت میں ڈال دیا جسے انہوں نے چند ماہ قبل ہی سلیکشن بورڈ کی سفارش کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقی کا اہل نہیں سمجھا تھا۔ سینٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارش کا کہنا تھا کہ ایسی داغدار شہرت کا حامل افسر نہ صرف اہم عہدے حاصل کرنے کیلئے سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کرتا ہے بلکہ ایولیوشن سسٹم میں بھی بچ نکلتا ہے۔ 15؍ جون 2020ء کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ طور پر عمر شیخ کو بتایا کہ سی ایس بی کی سفارش پر وزیراعظم نے ان کے پروموشن کا کیس منسوخ کر دیا اور اس لئے آپ کو 21 گریڈ میں ترقی نہیں دی جا رہی۔
وزیر اعظم عمران خان نے عمر شیخ کی ترقی کا کیس مسترد کرتے ہوئے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جن سفارشات سے اتفاق کیا ان میں کہا گیا تھا کہ افسران کی تربیتی رپورٹس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عمر شیخ کی بین المحکمہ جاتی قواعد و ضوابط کے حوالے سے سمجھ بوجھ بہت محدود ہے اور ان میں انتہائی غیر سنجیدگی کے رجحانات ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی سال 2014ء اور 2015ء کی اے سی آررپورٹس کا معیار مزید گرا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ افسر اپنے حکام بالا کو اپنے کام کاج اور فرائض کی انجام دہی کے معاملے میں مطمئن نہیں کر پایا۔
سلیکشن بورڈ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ایسی داغدار شہرت کا حامل پولیس افسر سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کے ذریعے نہ صرف اہم عہدے حاصل کر لیتا ہے بلکہ ایولیوشن سسٹم بھی بچ نکلتا ہے۔ چنانچہ بحث و مباحثے کے بعد بورڈ نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ عمر شیخ "سی کیٹگری” کا افسر ہونے کی وجہ سے سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 ء کے تحت ترقی کیلئے مطلوبہ 75 مارکس حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یاد رہے کہ سلیکشن بورڈ کی قیادت چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن کرتے ہیں اور بورڈ کے ممبران میں تمام صوبائی آئی جیز، چاروں چیف سیکریٹریٹز اور اہم وفاقی سیکریٹریز شامل ہوتے ہیں۔ لیکن سول سروس کے اس اعلی ترین فورم کی نظر میں ترقی کے قابل نہ سمجھے جانے والے پولیس آفیسر کو اب صوبہ پنجاب کے دارالحکومت کا سی سی پی او لگا دیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سلیکشن بورڈ کو دی جانے والی انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ میں بھی عمر شیخ کے بارے میں ایسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے کہ جن کو بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ تاہم عمر شیخ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ سنی سنائی باتوں پر مبنی تھی جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس میں ان کے والد کا نام تک نہیں لکھا گیا تھا۔ دوسری طرف پنجاب پولیس کے سینئر افسران کے مطابق 8 ستمبر کے روز آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ پولیس فورس کا مورال گرانے کا باعث بنے گا چونکہ ان کے مقابلے میں ایک ایسے افسر کو فوقیت دی گئی جس پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں وزیراعظم عمران خان خود بھرے جلسوں میں شعیب دستگیر کی بطور آئی جی پنجاب کارکردگی کی تعریف کرتے رہے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے حالیہ دنوں میں عمران خان کو بتایا تھا کہ نیب عدالت لاہور میں مریم نواز کی پیشی کے موقع پر گرفتار ہونے والے نون لیگ کے تمام ورکرز کو صرف اس لئے ضمانت پر رہا کرنا پڑ گیا کہ پنجاب پولیس نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات نہیں لگائی تھیں اور ایسا شعیب دستگیرکے کہنے پر ہوا۔ چنانچہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شعیب دستگیر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد پنجاب کے نئے آئی جی اور سی سی پی او لاہور زیادہ تندہی سے اپوزیشن کے احتجاج کو کنٹرول کریں گے۔
