وزیراعظم کی لاپتا صحافی مدثر نارو کی جلد بازیابی کی یقین دہانی

وزیراعظم عمران خان سے لاپتا صحافی مدثر نارو کے والدین اور کمسن بیٹے کی ملاقات کرائی گئی ہے ، اس موقع پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری ، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور سیکریٹری داخلہ یوسف ندیم کھوکھر بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے مدثر نارو کے والدین کو واقعہ سے متعلق تحقیقات اور تمام تر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعظم عمران خان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید تحقیقات کر کے مدثر نارو کے والدین اور بیٹے کو تسلی بخش جواب دینے کی ہدایات جاری کیں جبکہ مدثر نارو کے والدین نے عمران خان کی یقین دہانی پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

مدثر نارو کو مبینہ طور پر اُس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جب وہ 20 اگست 2018 کو اپنے اہلخانہ کے ہمراہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے ناران گئے ہوئے تھے ،ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کا بیٹا بھی تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 4 دسمبر کو اس مقدمے کی سماعت کے بعد اپنے حکمنامے میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ جبری طور پر لاپتا کیے گئے صحافی مدثر نارو کو 13 دسمبر کو عدالت میں پیش کرے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں مدثر نارو کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے متوقع ہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اپنے زیر کنٹرول ایجنسیوں کو مدثر نارو کو عدالت میں پیش یا ان ان کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کی ہدایت کریں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے دس صفحات پر مشتمل اس عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مطمئن کرے کہ ریاست یا ایجنسیاں لاپتا شخص کو اغوا کرنے میں ملوث نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے باسیوں کا دم گھٹنے سے پہلے کچھ کرنا ہوگا؟
عدالت نے کہا ہے کہ اگر جبری طور پر لاپتا ہونے والے شخص کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جاتیں تو وفاقی حکومت ذمہ دار اداروں کا پتہ لگا کر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائے اور اس بارے میں عدالت کو آگاہ کرے۔

Back to top button