اومی کرون وائرس کی آمد نے خوف کی فضا پیدا کر دی

کرونا وائرس کا خطرناک ترین ویرینٹ ’اومی کرون‘ بالآخر بھارت کے بعد پاکستان بھی پہنچ گیا ہے اور اس کے پہلے ’مشتبہ‘ کیس کی تشخیص کراچی میں ہوگئی ہے جس کے بعد ملک میں خوف کی فضا پیدا یو گئی ہے۔
محکمہ صحت سندھ نے تصدیق کی ہے کہ اومی کرون سے متاثرہ 65 سالہ خاتون نے کرونا وائرس سے بچاؤکی ویکسین نہیں لگوائی تھی۔یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے اومیکرون وائرس کی درجہ بندی کرونا کی خطرناک ترین قسم کے طور پر کی ہے جو انتہائی تیزی سے منتقل ہوتا ہے اور اسے ڈیلٹا ویرینٹ کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق ریجنل ڈیزیز سرویلنس اینڈ ریسپانس یونٹ کراچی میں کووڈ 19 کے نئے ویرینٹ اومیکرون کا پہلا کیس 8 دسمبر کو شام 7 بجے رپورٹ ہوا۔ بتایا گیا کہ اومیکرون سے متاثرہ خاتون کے میل جول والے 3 افراد بھی کرونا سے متاثر ہیں لیکن ان میں اومیکرون ویرینٹ کی تشخیص نہیں ہوئی۔محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ اومیکرون کی تشخیص کے بعد فوری طور پر متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر کے تفصیلات پوچھی گئیں جن کے مطابق ان سمیت چاروں متاثرین کی کوئی بیرون ملک سفری کی ہسٹری نہیں ہے۔ حکومت سندھ نے خاتون کے رہائشی علاقے میں فوری طور پر لاک ڈاون لگانے کا اعلان کیا ہے اور اب یہ پتہ کیا جا رہا ہے کہ پچھلے پندرہ روز میں اس خاتون کی کن لوگوں اور رشتہ داروں سے ملاقات رہی۔
دوسری جانب اومیکرون ویرینٹ کے بارے میں اب تک کچھ زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں، سوائے اس کے کہ یہ ایک نئی قسم ہے جس میں جینیاتی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ یہ نئی قسم کس طرح سے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے اور کیا یہ پرانی قسم کے وائرس کی نسبت زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے یا نہیں، یہ تمام ایسے سوالات ہیں جن کا جواب حاصل کرنے کے لیے سائنسدان دن رات ایک کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وائرس کی یہ نئی قسم ویکسین کے خلاف مدافعت رکھتی ہے یا نہیں؟
یہ معلوم کرنا تو آسان ہے کہ کسی کو کرونا وائرس ہے یا نہیں لیکن اومیکرون وائرس کی شناخت کا عمل پیچیدہ ہے۔ عام لیبارٹری میں کیے جانے والے پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے صرف یہی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آیا کسی میں کرونا وائرس پایا جاتا ہے یا نہیں تاہم گنی چنی لیبارٹریز میں یہ سہولت ضرور موجود ہوتی ہے کہ وہ اس ٹیسٹ کی بنیاد پر یہ تشخیص کر سکتے ہیں کہ آیا کورونا کی قسم اومیکرون ہے یا کوئی اور ویرینٹ۔ماہرین کے مطارق اومیکرون کی شناخت میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کئی نئی جینیاتی تبدیلیاں آ چکی ہیں جو پرانی اقسام میں نہیں تھیں۔ اومیکرون کے بارے میں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اس کی جینیاتی تبدیلی میں ایک اہم جزو ایس یا سپائک خلیہ ہے۔ ایک عام پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے عموماً وائرس کے تین حصوں کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔ ان میں وائرس کی سطح پر موجود ‘ایس’ یا سپائک خلیہ، جبکہ بیرونی سطح جس کو ‘ای’ کا نام دیا گیا ہے، کو بھی شناخت کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وائرس کی اندرونی سطح میں موجود ‘این ٹو’ نیوکلیو کیپ سِڈ کی بھی شناخت کی جاتی ہے۔جب کسی کا کورونا ٹیسٹ کیا جاتا ہے تو اس کے ذریعے دیکھا جاتا ہے کہ آیا کورونا وائرس موجود ہے یا نہیں ،اگر ہے تو کیا اس میں ‘ایس’ سپائک خلیہ ہے؟ اس خلیے کی شناخت ہو جائے تب بھی یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اومیکرون ہے یا نہیں بلکہ اس کے بعد ایک مرحلہ اور درکار ہوتا ہے جس کے ذریعے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کی جس قسم کی شناخت کی گئی ہے وہ اومیکرون ہے یا کوئی اور۔ یہ طریقہ جینیاتی تجزیاتی ٹیسٹ ہوتا ہے جس کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ کیا وائرس کی یہ قسم اومیکرون ہے یا نہیں۔
جس طرح کورونا کے آغاز میں اس بحث کا آغاز ہوا کہ یہ وائرس کہاں سے پھیلا ہے اور کیا اس کی شروعات چین سے ہی ہوئی ویسی ہی ایک بحث اومیکرون کے بارے میں بھی شروع ہو چکی ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ جینیاتی تجزیے کی سہولت ہر جگہ موجود نہیں اسی لیے ہر ملک میں کورونا کی نئی قسم کی شناخت ممکن نہیں ہوتی۔جنوبی افریقہ میں اس وائرس کی شناخت تو سب سے پہلے ہوئی لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کا آغاز بھی وہیں سے ہوا ہو۔ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہاں موجود سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کے باعث کورونا کی ایک نئی قسم دریافت کر لی گئی جس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اس پر مزید تحقیق ہو سکتی ہے اور اس کا توڑ نکالا جا سکتا ہے۔
